Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

الفقہ 644

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 644)

نماز تراویح کا بیان نابالغ کے پیچھے نمازِ تراویح

س:ہمارے محلہ میں اس سال ایک لڑکے نے حفظ مکمل کیا ہے، لیکن ابھی اس کی عمر پندرہ سال سے کم ہے اور وہ نابالغ ہے، تراویح چونکہ نفل نماز ہے،تو کیا اس کے پیچھے تراویح ادا کی جاسکتی ہے؟

ج۔راجح اور درست قول یہی ہے کہ تراویح میں بھی نابالغ ،بالغ نمازیوں کی امامت نہیں کر سکتا، فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے، کیونکہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: امام مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہے۔’’الامام ضامن‘‘ (کنز العمال بحوالہ ترمذی) اور کوئی چیز اپنے سے کمتر کو شامل ہو سکتی ہے نہ کہ اپنے سے برتر کو، اور صورتِ حال یہ ہے کہ نابالغ کی نماز نفل ہونے کے باجود کم درجہ کی ہے اور بالغوں کی نمازشروع کرنے کے بعدواجب ہوجاتی ہے، اس کی تائید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے فتاویٰ سے بھی ہوتی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بریدہ کو اس بات پر تنبیہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ تم کو چھوٹے بچوں کو امام نہیں بنانا چاہئے تھا، آپ کا مکتوب یہ ہے:ماکان نولک!ای:ماکان ینبغی لک ان تقدم للناس غلاما لم تجب علیہ الحدود‘‘(مصنف عبدالرزاق:ج۲ص۳۹۸) اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تک بالغ نہ ہوجائے امامت نہیں کر سکتا۔’’ لا یؤم الغلام حتی یحتلم‘‘(نیل الاوطار:ج۳ص۴۳)

خواتین اور تراویح

س:کیاتراویح کی نمازعورت کو بھی پڑھنا ضروری ہے، اگر کسی عورت کو دس سورتیں ہی یادہوں، تو کیا ان ہی دس سورتوں کو بیس رکعتوں میں پڑھ سکتی ہے؟

ج:تراویح کی نماز کا حکم عورتوں کے لیے بھی وہی ہے جو مردوں کے لیے ہے، عورتیں بھی اگر تراویح کو بلاعذر ترک کردیں تو ترکِ سنت کا گناہ ہوگا ،اگر دس سورتیں یاد ہوں تو یہ درست ہے کہ پہلی دس رکعت میں ان سورتوں کو پڑھا جائے، پھر اگلی دس رکعت میں دوبارہ ان ہی سورتوں کو پڑھے یا ایک رکعت میں کوئی ایک سورت اور دوسری رکعت میں سورئہ اخلاص پڑھتی جائے، یہ تو آپ کے سوال کا جواب ہے، اس کے ساتھ ساتھ آپ کے دینی بھائی کی حیثیت سے ایک خیر خواہانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کی کچھ اور سورتیں یادکرلیں، ان شاء اللہ تھوڑی محنت سے آپ مزید سورتیں یا د کر سکتی ہیں، قرآن یاد کرنے اوردین کا علم حاصل کرنے کے لیے کوئی عمر متعین نہیں ہے۔

خواتین اور تراویح وعیدین

س:میرے پڑوس میں چند خواتین نہ تو تراویح کی نماز پڑھتی ہیں نہ تو عید کی، پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ تراویح اور عید کی نماز پڑھنا ضروری نہیں، پڑھیں تو ثواب ملے گا ورنہ نہیں۔

ج:تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے مردوں کے لئے بھی اور عورتوں کے لئے بھی، اس پر امت کا اجماع و اتفاق ہے:

’’التراویح سنۃ مؤکدۃ للرجال والنساء اجماعا‘‘(الدرالمختار مع رد:ج۲ص۴۹۳)

یہ ضرور ہے کہ مردوں کے لئے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھناافضل ہے اور عورتوں کے لئے تنہا پڑھنا بہتر ہے ،البتہ عید کی نماز مردوں پر واجب ہے ،عورتوں پر واجب نہیں:

’’تجب صلاۃ العید علی کل من تجب علیہ الجمعۃ‘‘(الفتاویٰ الہندیہ:ج۱ص۱۵۰)

’’لا تجب الجمعۃ علی النسائ‘‘(الفتاویٰ الہندیہ:ج۱ص۱۴۴)

آج کل چونکہ عورتوں کے عید گاہ جانے اور عید کی نماز میں شریک ہونے میں فتنہ کا اندیشہ ہے، اس لئے خواتین کے حق میں بہتریہی ہے کہ وہ عید کی نماز میں شرکت نہ کریں۔

ایک ہی مسجد میں تراویح کی تین جماعتیں

 س:شہر نظام آباد کی ایک مشہور مسجد میںعین علیحدہ علیحدہ وقتوں میں نمازِ تراویح کا اہتمام کیاگیا ہے، بعدعشاء سواپارہ، مسجد کے بالائی حصہ میں آ ٹھ بج کر ۱۵ منٹ پرروزانہ تین پارے، مسجدکے نچلے حصہ میں دس بج کر چالیس منٹ پر روزانہ سوا پارہ ۔ کیا یہ درست ہے؟

ج:جیسے فرض نمازوں میں تکرار جماعت مکروہ ہے، اسی طرح فقہاء نے نمازِ تراویح میں بھی مکرر جماعت کو منع فرمایا  ہے(الفتاویٰ الہندیہ:ج۱ص۱۱۶)اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے، مسجد میں ایک ہی جماعت کی جائے، باقی جماعتیں مسجد سے باہرگھر میں یا کسی اور مقام پرکی جاسکتی ہیں۔

 تراویح میں ثناء اور تعوذ

س:تراویح میں یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ حفاظ کرام تکبیرتحریمہ کے بعد فوراً قرآن مجید کی قراء ت شروع کردیتے ہیں، شاید ثناء وغیرہ نہیں پڑھتے ، تو کیا تراویح کے لئے ثناء وغیرہ سے متعلق احکام مختلف ہیں؟ اور چونکہ طویل نماز ہوتی ہے، اس لئے قراء ت پر اکتفاء کرلینا درست ہے؟

ج:تراویح کی نماز میں بھی ہر دورکعت کے شروع میں ثناء ،تعوذ اور بسم اللہ پڑھنے کا وہی حکم ہے جو دوسری نمازوں میں ہے، اس لئے عجلت کی وجہ سے ان کا چھوڑ دینا، اسی طرح رکوع اور سجدے اور دونوں سجدوں کے درمیان کے وقفہ کو اتنی جلدی ادا کرنا کہ طمانینت کے ساتھ یہ ادا نہ ہوپائیں درست نہیں ہے ،علامہ ابن نجیم مصریؒ نے ان سب کو نماز تراویح کے منکرات میں شمار کیا ہے:

’’مع اشتما لھا علی ترک  الثناء والتعوذو البسملۃ فی اول کل شفع‘‘(البحرالرائق: ج۲ ص۶۹)

تراویح میں تذکیر اور ختم  قرآن پردعاء

س: حافظ قرآن تراویح کی نماز پڑھائے اور ترویحہ کے وقفہ میں مسجد کا امام اللہ اور رسول اللہﷺ کے ارشادات بلند آواز سے پڑھ کرسنائے،نیز بیس رکعت کے آخر میں ایک مرتبہ دعاء کی جائے، تو کیا یہ درست ہے؟

ج:ترویحہ کے وقفہ میں کوئی خاص عمل متعین نہیں، ذکر کیا جا سکتا ہے، قرآن کی تلاوت کی جا سکتی ہے، نفل نماز پڑھی جا سکتی ہے، دعاء کی جا سکتی ہے اور خاموشی بھی اختیار کی جا سکتی ہے، اللہ ا ورسول اللہﷺ کے ارشادات نقل کرنا بھی ایک کام ہے، اس لئے ان کا سنانا درست ہے بلکہ بہتر ہے تاکہ لوگوں تک دین کی بہترباتیں پہنچ جائیں، تراویح کے ختم پر دعا ء کرنا بھی درست ہے، کیونکہ نمازوں کے بعددعاء کرنا مستحب ہے اور ظاہر ہے کہ نماز میں تراویح بھی داخل ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online