Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

زندگی گزارنے کا سنہری اصول (رضوان چوہان)

زندگی گزارنے کا سنہری اصول

رضوان چوہان  (شمارہ 645)

"اپنے پیشے میں ، ذمہ داریوں میں نیت کی درستگی اور اِخلاص و لگن"

کسی بھی کام میں اس کے لئے کی جانے والی نیت کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ بظاہر کوئی دنیاوی کام بھی کریں لیکن ذرا سی اس میں نیت کی اِصلاح کر لیں اور اپنے اِرادوں کو درست رُخ دے دیں تو آپ کو ایک واضح مقصدیت حاصل ہو جائے گی، جو آپ کے عزم و اِرادوں کو قوت دے گی اور آپ کا دنیاوی کام، کاروبار یا آپ کی نوکری بھی آپ کے لئے باعثِ سعادت اور عبادت ثابت ہوگی۔ کسی بھی پیشے میں درستگیٔ نیت کے بغیر اِخلاص و لگن کا پیدا ہونا ناممکن ہے اور اِخلاص و لگن کے بغیر پائیدار کامیابی کا حصول کارے دارد ہے۔ اگر آپ صرف مفاد پرستی کی زندگی جیتے ہیں اور اپنے تمام معاملات اپنے ذاتی مفادات کی عینک سے دیکھتے ہیں تو صرف ایک یہی سوچ اور عادت آپ کا سارا وزن ختم کروانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس بات کی اہمیت ہم مسلمان ہو کر بھی نہیں سمجھ پاتے، لیکن یہود و نصاریٰ اس بات کی اہمیت کا خیال اپنے پیشے اور کاروبار میں ہم سے زیادہ رکھتے ہیں  اگرچہ وہ یہ کام دنیاوی مفادات کے پیش نظر کرتے ہیں ، کیوں کہ وہ اس کے دنیوی فوائد سے بخوبی واقف ہیں لیکن ہم مسلمان اگر اپنے پیشے میں ان خوبیوں کو اپنا لیں تو ہمارے لئے دنیوی اور اُخروی دونوں سعادتیں موجود ہیں، کوئی بھی کام درست نیت و اِخلاص اور لگن کے ساتھ کرنے سے جو اِجتماعی فوائد وجود میں آتے ہیں اس سے پورے معاشرے اور قوم کو راحت و فراوانی حاصل ہوتی ہے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر قوم کی کامیابی و ناکامی کے پیچھے کچھ وجوہات ہوتی ہیں۔ اگر دیکھنے کو دیدہ بینا ہو تو اجتماعی مفاد کے لیے درست نیت اور اخلاص و لگن وہ صفات ہیں کہ ان کے بغیر کسی قوم کا ترقی کرنا محال ہے.

انسان ایک معاشرتی کل پرزہ ہے جسے معاشرے سے وابستہ افراد سے زندگی میں ہر موقع پر واسطہ پڑتا ہے، آپ کی جتنی بھی ضروریات ہوتی ہیں وہ کوئی اور پوری کر رہا ہوتا ہے اور ان کی تکمیل کا سبب ہوتا ہے اب اگر افراد اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے لگ جائیں، ڈاکٹر اپنا کام دیانت داری سے انجام نہ دے تو مریض جان سے جائیں گے، وکلا اور ججز اپنا کام بحسن خوبی انجام نہ دیں تو انصاف کی فراہمی مشکل ہو جائے گی، درزی اپنا کام صحیح سے انجام نہ دے تو آپ کو نفیس پوشاک میسر نہ ہوگی، حجام اپنا کام بے دلی سے کرے تو آپ کا حلیہ خراب کر دے گا، والدین اولاد کی پرورش صحیح نہ کریں تو اولاد خراب ہوگی، غرض یہ کہ معاشرتی عمل میں ہر انسان دوسرے کا محتاج ہے، اگر آپ اپنا کام درست نیت اور اخلاص و لگن سے کریں گے تو آپ ایک تو اپنا مورال بلند کریں گے لیکن اس کے ساتھ پورے معاشرے کے لئے نافع ثابت ہوں گے جیسا کہ اگر آپ تعمیرات کا کام کرتے ہیں تو یہ نیت کر لیجیے کہ مجھ سے جو لوگ فلیٹس یا دکان خریدیں گے وہ ان کا خون پسینے کی محنت سے بنایا اثاثہ ہوگا لہذا میں تعمیر اس طرح پلاننگ سے کروں کہ بعد از تعمیر ان لوگوں کے اثاثوں کی مالیت میں بھی اضافہ ہو اور وہ اثاثے ان خریداروں کے لئے ہر طرح سے مفید ثابت ہوں اور اس کے علاوہ میرے شعبے میں جو متعلقین یا مزدور ہیں ان سب کے فائدے کی نیت بھی ہو کہ میرے اس روزگار سے تمام متعلقین فائدہ حاصل کریں، اسی طرح اگر آپ بجلی کے محکمے میں ملازمت کر رہے ہیں تو یہ نیت کر لیجیے کہ اگر میں لگن سے اپنا کام کروں گا تو لوگوں کے گھر روشن رہیں گے اور لوگ اپنے معمولات با آسانی انجام دیں گے۔ اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو مریضوں کے مرض کی تشخیص اور اس کے درست علاج کے لئے جی جان لگا دیجیے اس کام کو اپنا مقصد سمجھ کر انجام دیجیے نہ کہ صرف آمدنی پر نظر ہو۔ اگر آپ عدالتی معاملات سے منسلک ہیں تو یہ دھیان رکھیے کہ لوگوں کی زندگی کے فیصلے آپ کے رحم و کرم پر ہیں، آپ کی کوئی لاپرواہی یا کوئی خیانت کسی کی زندگی تباہ کر سکتی ہے۔ اگر آپ کاروبار کرتے ہیں تو اپنے جائز نفع کے ساتھ مفاد عامہ کو ملحوظ رکھیے اپنے معاملات اور ان کے طریقہ کار میں وزن پیدا کیجیے اس طرح آپ کو بھی سامنے سے درست معاملات اور لین دین بدلے میں ملے گی۔ غرض یہ کہ اپنی ذمہ داریوں میں اخلاص ، لگن اور درستگیٔ نیت کے بغیر کوئی بھی کام صحیح اَنجام نہیں دیا جا سکتا اور وہ معاشرہ یا قوم ہرگز ترقی نہیں کر سکتی جو خود غرضی یا اِنفرادی مفاد کی سوچ کا شکار ہو.

یقین جانئے آپ اپنے ہر کام میں نیت درست کر کے با آسانی نیکیاں بھی کما سکتے ہیں اور نیت کی اصلاح آپ کو ایک زبردست عزم ، حوصلہ ، ولولہ اور خلوص و لگن عطا کرواتی ہے جس سے خود آپ کے کام میں چار چاند لگ جائیں گے۔ اس وقت ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ لوگ اپنے پیشے سے مخلص اور دیانتدار نہیں ہیں، لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں سے لگن باقی نہیں رہی اور خلق خدا کے افادہ عام کی نیت کے بجائے صرف اپنے ذاتی نفع یا آمدنی کے اَعداد و شمار پر نظر رکھی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اخلاص اپنی موت آپ مر جاتا ہے اور ہم دنیوی اور اخروی طور پر خسارے کا سودا کر بیٹھتے ہیں اور ناجائز آمدنیوں کے باوجود ہم فراوانی محسوس نہیں کرتے، ہمارے دلوں کے چور ہمیں بے چین کیے رکھتے ہیں۔ آپ یہاں جس نوجوان کو دیکھیں وہ سرکاری نوکری کا طلب گار ہے اور اس کے پس پشت نیت یہ ہوتی ہے کہ ملازمت کے اوقات کی پابندی بھی نہ کرنی ہوگی اور اوپر کی آمدنی کے مواقع بھی میسر ہوں گے اسی وجہ سے ہمارے سرکاری ادارے تباہ حالی کا شکار ہیں کیوں کہ افسران سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین تک باطل نیت اور سوچ رکھتے ہیں اور یہی مرض سرکاری شعبوں کے علاوہ عوامی شعبوں میں بھی سرایت کر گیا ہے. ہم سب اس معاشرے کا حصہ ہیں اگر ہم اپنے فرائض و ذمہ داریاں خلوص نیت سے ادا نہیں کریں گے تو خود ہمیں بھی زندگی میں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے گا جو ہمارے معاملات میں ہم سے مخلص نہ ہوں گے اور ان سے ہمیں بھی بھلائی نہ ملے گی، اس طرح پورا معاشرہ بدترین تباہی کا شکار ہو جائے گا اور اگر ہر فرد خلوص نیت اور لگن سے اپنی ذمہ داری ادا کرے گا تو پورے معاشرے کو اس کا فائدہ ہوگا اور کوئی کسی کے لئے باعث ضرر نہ ہوگا، سرکاری آفیسر ہو، ڈاکٹر، وکیل یا کوئی پلمبر یا چاہے آجر اور اجیر ہر فرد دوسرے کے لئے سودمند بن جائے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online