Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں عالمی دہشت گردی کا کھلا ثبوت (عبد الرشید جنید)

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں عالمی دہشت گردی کا کھلا ثبوت

عبد الرشید جنید  (شمارہ 645)

آخر کار امریکہ نے اپنی عالمی دہشت گردی کا پردہ اٹھاتے ہوئے تل ابیب سے یروشلم (بیت المقدس)کو اپنا سفارت خانہ منتقل کردیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی فلسطینیوں پر ظالمانہ کارروائیوں اور فلسطینی علاقوں سے انہیں نکال کر یہودی آبادیوں کو بسانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے مزید درندگی اور ظلم و بربریت کرنے کی راہیں ہموار کیں ہیں۔

 ٹرمپ کی دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے اس کے باوجود امریکی صدر اپنے فیصلہ پر اٹل ہیں۔ امریکی سفارت خانہ کی منتقلی کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے اپنی ظالمانہ کارروائی انجام دیتے ہوئے بے تحاشہ فائرنگ کی ۔اسرائیل کی اس ظالمانہ کارروائی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے پرامریکہ نے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی سلامتی کونسل کی تحقیقات کی درخواست بھی روک دی ہے۔ترکی نے امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کی خون ریزی روکنے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپیل کی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی افریقہ نے تل ابیب اور ترکی نے اسرائیل اور امریکہ سے سفیر واپس بلالیے، سعودی عرب نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔امریکہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی اقوام متحدہ کی تحقیقات میں رکاوٹ بن گیااور غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی سلامتی کونسل کی تحقیقات کی درخواست امریکہ نے بلاک کر دی۔سلامتی کونسل نے اسرائیل غزہ سرحد پر شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کامطالبہ کیا تھا، تاہم غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہوگیا۔کویت نے ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست دی تھی، تاحال100 سے زائد فلسطینی شہید اورتقریبا ًپانچ ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔ مظاہروں کے دوران فلسطینیوں نے ٹائر جلائے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھرا ؤکیا اور پیٹرول بم پھینکے جبکہ فوجی نشانے بازوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 14 مئی کو ہزاروں فلسطینی غزہ کی مشرقی سرحد پر جمع ہوئے اور حق واپسی مارچ شروع کیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان پر آتشیں گولیاں چلائیں۔ زخمیوں میں 225بچے، 80خواتین،12صحافی، 17طبی امدادی کارکن شامل ہیں۔54کی حالت انتہائی خطرناک،76 کی خطرناک اور 1300 کو درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں۔90 فلسطینیوں کو سر اور گردن میں گولیاں ماری گئیں جبکہ 192فلسطینی مظاہرین کے جسم کے بالائی حصے کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب فلسطین میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں کی پوری دنیا میں شدید مذمت کی جارہی ہے اس کے باوجود نہ تو امریکہ پر کوئی اثر پڑا ہے اور نہ ہی اسرائیل پر۔سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد پرغور کیا جائیگا۔ادھر فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے قتل عام کو اسرائیل کی بربریت قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے قتل عام کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے سفارتخانے کو منتقل کرنے کے فیصلے کوصدی کا تھپڑقرار دیا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردغان نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی او ریاستی دہشت گردی کررہا ہے،اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کا مشرقی حصہ فلسطینیوں کا اٹوٹ انگ اور دار الحکومت ہے۔

روس، مصر، ترکی، قطر اور اردن نے بھی امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کی سخت مذمت کی ہے۔ان ملکوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ فیصلہ کرکے امن عمل کو تباہ کر دیا، فرانس اور برطانیہ نے بھی فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔غزہ سرحد پر احتجاج کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعدادمیں اضافہ ہورہا ہے، یہ ہلاکتیں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہوئی ہیں، ان ہلاکتوں کے حوالے سے14 مئی کے روز کو،2014 میں غزہ اور اسرائیل جنگ کے بعد سب سے ہلاکت خیز دن قرار دیا جا رہا ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے سانحے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ امت اسلامیہ کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے اختلافات کوبھلا کر اور عالم اسلام کی طاقت و توانائی اور وسائل و ذرائع کا استعمال کرکے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بازیابی کی کوشش کریں۔اور مسلم اقوام متحد ہو کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا گیا ہے کہ صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں مظلوم اور نہتے فلسطینی عوام کے قتل عام کی تحقیقات کرائے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق مجرموں اور قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے اور غزہ کا زمینی، ہوائی اور سمندری محاصرہ ختم کرنے کے لئے غاصب اسرائیلی حکومت پر دبا ؤڈالے اور غزہ جانے والی تمام گذرگاہوں کو کھلوانے کیلئے اپنی کوشش بروئے کارلائے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online