Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

ہمارا رمضان مقبول ہوا؟ (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

ہمارا رمضان مقبول ہوا؟

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 648)

تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال۔ آمین

رحمتوں اور مغفرتوں سے بھرا رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہوگیا، اس کے با برکت لمحات ہم سے رخصت ہوگئے، اس ماہ مبارک میں جنہیں رب العالمین نے توفیق عطا فرمائی، انہوں نے سارا مہینہ روزہ رکھا، راتوں میں عبادت کی، دن اور رات کی ہر گھڑی تلاوت قرآن کی، اپنے مال کو رب کی رضا کے لیے غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور خیر کے کاموں میں لٹایا، ہلال عید دیکھ کر فطرانہ تقسیم کیا اور عید کے بعد بھی ان کی عبادت میں کوئی فرق نہیں آیا، بلکہ رمضان المبارک میں پانچوں نماز کی باقاعدہ ادائیگی کے ساتھ ساتھ، روزوں، تلاوت قرآن کریم، زکاۃ، صدقات وخیرات، اور قیام اللیل کی جو عبادتیں انہوں نے شروع کی تھیں، اس کے لیے رب العالمین سے گڑگڑا کردعائیں مانگنے لگے کہ وہ انہیں ان عبادتوں پر استقامت عطا فرمائے اور ان نیکیوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین

ایک بندۂ مؤمن کی یہ حالت ہوتی ہے کہ نیک اعمال کی توفیق ملنے کے بعد وہ اس پر استقامت مانگتا ہے اور دوبارہ گناہوں کی طرف جانے سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی پناہ مانگتا ہے، چنانچہ خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کو سکھلایا کہ عبادات کی توفیق ملنے کے بعد مجھ سے یو دعا مانگا کرو!:

’’اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد کج روی میں نہ مبتلا کردے، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔‘‘ (آل عمران : ۸)

اور اپنی کی ہوئی عبادتوں پر انہیں تکبر وغرور نہیں ہوتا۔ حضرت سفیان ثوری  فرمایا کرتے تھے:

’’وہ عبادت جس سے انسان غرور وتکبر میں مبتلا ہوجائے، اس سے وہ گناہ بہتر ہے جسے کرنے کے بعد انسان کو پشیمانی لاحق ہو۔‘‘

بلکہ انہیںخوف لاحق رہتا ہے کہ مبادا یہ عبادتیں رب العالمین کے دربار میں شرف قبولیت پائی بھی ہیں یا نہیں؟چنانچہ ان کا حال رب تعالیٰ نے اپنے کلام قرآن مجید میں یوں فرمایا:

’’اور جو اللہ کے لیے جو کچھ دیتے ہیں، اسے دیتے ہوئے ان کے دل خائف ہوتے ہیں کہ بے شک انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ ( مومنون : ۶۰)

اسلاف کرام  کے متعلق آتا ہے کہ وہ رمضان المبارک گذرنے کے چھ ماہ تک گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے رمضان میں کی ہوئی عبادتوں کی قبولیت مانگا کرتے تھے، اس لیے کہ عمل دیکھنے میں چاہے کس قدر ہی شاندار کیوں نہ ہو اگر رب کے دربار میں شرف قبولیت نہ پاسکا تو سب  بیکار ہے۔ اصحاب رسولﷺکے متعلق عبدالعزیز بن ابی رواد کہتے ہیں:

’’ہم نے صحابہ کرام کو پایا کہ وہ عمل صالح کی انجام دہی میں خوب خوب کوشش کرتے جب نیکیوں سے دامن مراد بھر لیتے تو ان کے اندر یہ فکر لاحق ہوجاتی کہ آیا ان کے اعمال مقبول ٹھہرے یا رد کر دیئے گئے۔‘‘

فضالہ بن عبید کہا کرتے تھے:

’’اگر میں جان لوں کہ اللہ تعالی نے ہم سے رائی کے دانہ کے برابر بھی قبول کر لیا ہے تو یہ میرے لئے دنیا و ما فیھا سے بہتر ہوگا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

’’انما یتقبل اللہ من المتقین‘‘

بیشک اللہ تعالی نیک لوگوں سے ہی قبول کرتا ہے۔

کیا اسلام نام ہے سال میں ایک مہینہ عبادت کا؟ کیا اسلام کا مطلب ہے موقع اور مناسبت سے اسے اپنالو اور بس؟ کیا اسلام فقط رمضان کے روزے اور جمعہ وعیدین کے اہتمام کا نام ہے؟ افسوس آج بعض اسلام کے ماننے والوں نے کچھ ایسا ہی سمجھ رکھا ہے۔ جس طرح عیسائی ہفتہ میں ایک دن چرچ کو جاتے ہیں، ویسے ہی کچھ فرزندان اسلام ہفتہ میں ایک دن مسجد چلے جاتے ہیں۔ کچھ سال میں ایک ماہ رمضان المبارک کی عبادات کر کے اللہ تبارک وتعالیٰ پر احسان کرتے ہیں۔

اسلام یہ نہیں ہے۔ ہم جس اللہ کی عبادت کرتے ہیں وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، اس نے ہمیں اِس دنیا میں امتحان کے لئے بھیجا ہے، یہ دنیا دار العمل ہے، آخرت کی کھیتی ہے، جب آنکھیں بند ہوجائیں گی توذہن کے سارے پردے کھل جائیں گے، انسان تمنا کرے گا کہ اے کاش! ہمیں کچھ نیکی کرنے کا موقع مل جاتا، ہمارے گناہ مٹادیئے جاتے لیکن اس وقت عمل کا موقع نہیں ہوگا، موقع جاچکا ہوگا:

’’حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعونی لعلی اعمل صالحا فیما ترکت۔‘‘

’’حتی کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے گی تو وہ کہے گا: اے میرے رب مجھے واپس بھیج، تاکہ اس دنیا میں، جسے میں چھوڑ آیا ہوں، نیک عمل کروں۔‘‘

 موت دیکھ کرجب آنکھو ں کے پردے ہٹ جائیں گے تو تمنا  اِس بات کی کریں گے کہ ہمیں نیک عمل کرنے کا موقع دے دے۔ کیا ہی اچھی تمناہے۔ لیکن کیااس وقت موقع مل جائے گا؟ مالک عرش بریں کا جواب ہوگا: ہرگز نہیں موقع جاتا رہا:

’’کلا انھا کلمۃ ھو قائلہا ومن ورائھم برزخ الی یوم یبعثون۔‘‘ (المومنون 99۔100)

’’بیشک یہ ایک بات ہے جو وہ کہنے والا ہے۔ اور ان کے آگے پردہ ہے اس دن تک جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔‘‘

 حضرت فضیل بن عیاض  ایسے لوگوں کے متعلق جو رمضان میں تو بڑھ چڑھ کر عبادت کرتے تھے اور رمضان کے بعد سستی کرتے تھے، فرمایا کرتے تھے :

’’مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جو اپنے رب کو سوائے رمضان کے اور کسی مہینے میں نہیں پہچانتے۔‘‘ ( نضرۃ النعیم )

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نور اللہ مرقدہ نے لکھا ہے:

’’روزہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک سحر سے مغرب تک رکھا جاتا ہے۔ اس میں کچھ پابندیاں ہوتی ہیں جن کا بہت خیال رکھا جاتا ہے کہ روزہ مکروہ نہ ہوجائے، ٹوٹ نہ جائے۔ یہ روزہ مغرب کے وقت افطار کیا جاتا ہے اور پورا ماہ روزہ رکھ کر عید منائی جاتی ہے۔

دوسرا روزہ شعور بیدار ہونے سے لے کر زندگی کے آخری دم تک کا ہے۔ اس کی بھی پابندیاں ہیں جن کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ یہ روزہ اس دنیا میں نہیں اگلے جہاں حوض کوثر پر افطار کیا جائے گا اور اس کی عید جنت میں منائی جائے گی۔‘‘

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

’’اگر دیکھنا ہوکہ کسی کی رمضان المبارک کی عبادت قبول ہوئی ہے یا نہیں؟ تو اس کے رمضان کے بعد والے اعمال دیکھو، اگر رمضان کے بعد بھی نیک اعمال پر اس کی استقامت اسی طرح باقی ہے جیسے ماہ رمضان میں تھی تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی رمضان میں کی جانے والی عبادتوں اور اطاعتوں کو قبول فرمالیا، جس کی وجہ سے اسے ان اعمال کو تسلسل کے ساتھ باقی رکھنے کی توفیق عطا فرمائی اور جس کو دیکھو کہ رمضان کے بعد اس کے اعمال میں یک لخت فرق آگیا ہے، وہ راہ ہدایت سے بھٹک کر پھر اسی راہ کا راہی ہوگیا جس پر کہ وہ ماہ رمضان المبارک سے پہلے گامزن تھا، تو سمجھ لو کہ اس کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہے، جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’کم من صائم لیس لہ من صیامہ الا الجوع والعطش وکم من قائم لیس لہ من قیامہ الاالسہر۔‘‘ (ابن ماجہ ، احمد ، دارمی )

’’کتنے ہی ایسے روزہ دار ہیں جن کے نصیب میں سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ہے، کتنے ہی ایسے رات میں قیام کرنے والے ہیں جن کے نصیب میں سوائے رات جاگنے کے کچھ نہیں۔‘‘ (ابن ماجہ ، احمد ، دارمی )

تقبل اللہ منا ومنکم صالح الاعمال۔ آمین

٭…٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online