Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

اہل خدمت…آپ کا شکریہ (نشتر قلم۔زبیر طیب)

اہل خدمت…آپ کا شکریہ

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 648)

اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے رمضان کریم جیسی عظیم الشان نعمت نصیب فرمائی اور پھر اعتکاف کی سعادت سے بھی نوازا۔ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں باقی رہ گئے ان قیمتی لمحات کی قدر نصیب فرمائے اور نا قدری سے محفوظ رکھے۔ آمین

دس دن روشنی کے جزیرے پر

چونکہ اس وقت ہم باہر کی دنیا کی خبروں سے بالکل لا علم ہیں اور ایک ایسے جزیرے پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جو روشنیوں سے گھرا ہوا ہے، جو سعادتوں میں لپٹا ہوا ہے، جو نعمتوں سے سجا ہوا ہے، جو محبتوں میں گندھا ہوا ہے، جو رحمتوں کے سائے میں ہے۔ ہم ایسے جزیرے میں آج کل موجود ہیں۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ

تو باہر کی دنیا کو اس کے حال پر چھوڑ کر آج کی محفل اس جزیرے کی کچھ خوبصورتی کو بیان کر کے سجاتے ہیں۔

جی ہاں! میں جس حسین و جمیل جزیرے کی بات کر رہا ہوں اس کا نام ’’جامع مسجد سبحان اللہ‘‘ ہے۔ سبحان اللہ! کیا ہی خوبصورت نظارہ ہے، کیا ہی پیارے مناظر ہیں، کیا ہی لذت ہے اور کیا ہی خوبصورت نعمت ہے۔ سچ پوچھیں تو یہاں کے اعتکاف کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ کچھ چیزوں کی خوبصورتی کو عیاں کرنے کے لئے لفظوں کا سہارا لینا اس خوبصورت چیز کی ناقدری ہوتا ہے۔ ایسی نایاب چیزوں کے متعلق جاننا ہو تو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھنا ہی اس کا اصل حق ہے۔ بالکل ایسے ہی’’جامع مسجد سبحان اللہ‘‘ کے اس اعتکاف کی خوبصورتی کو لفظوں میں بیاں کرنا ممکن ہی نہیں جب تک کہ آپ خود وہاں جا کر اس کی اصل خوبصورتی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں لیتے۔

وہ ساری رات تراویح کی لذت، وہ آخری پہر رو رو کر رب کو منانا ، وہ دن کے اجالے میں روزے کی حالت میں اللہ، اللہ کی ضربیں لگانا،وہ عصر کے بعد تسبیحات کا ورد اور مغرب کے بعد افطاری کی لذت اور اوابین کی بیس رکعتوں کی مٹھاس۔ واللہ اس سب کو بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ بس اس کے لئے آپ کو اس جزیرے پر آنا ہو گا۔

آج یہ مضمون جن کے لئے سجایا ان اہل سعادت کا ذکر کرتے ہیں:

اہل خدمت کا شکریہ

 اہل خدمت کے لئے اجتماعی اعتکاف ایک مشکل اور پر مشقت کام ہے۔ اتنے بڑے مجمعے کو سنبھالنا ، حسن ترتیب سے انہیں چلانا ،انہیں منظم انداز میں عبادت و ریاضت میں لگانا اور طعام و قیام کی ذمہ داریوں کا احسن طریقے سے نبھانا ناممکن کو ممکن کر دکھانے والی بات ہے۔تمام مہمانوں کی راحت، آرام اور عزت و احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر مسجد کا نظم  و نسق قائم رکھنا بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ لیکن ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے میں تمام اہل خدمت نے انتھک محنت کی ہے۔ بلاشبہ یہ ان کا احسان ہے اور معتکفین اگر اپنی دعاؤں کا اکثر حصہ ان کے نام کر دیں تو بھی ان کا حق ادا نہ ہو۔

اہل خدمت نے خود کو کچھ شعبوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ پہلا شعبہ تعلیم و تربیت سے متعلق ہے۔ جو معتکفین حضرات کو نماز سے لے کر تمام معمولات کروانے کے پابند ہیں۔ کوئی معتکف اگر معمولات میں سستی کرے تو اسے پیار اور ومحبت سے سمجھا بجھا کر اور وقت کے قیمتی ہونے کا احساس دلا کر اسے معمولات کرنے کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ روزے کی حالت میں یہ شعبہ مسلسل اس نگرانی پر مامور ہے۔ ہر نماز کے بعد تعلیم کروانے کا سلسلہ بھی انہی حضرات کے ذمہ ہے۔ان کا صبر اور خندہ پیشانی سے پیش آنا دیدنی ہوتا ہے۔ خود اس بات کا مشاہدہ ہوا۔ ایک مرتبہ ظہر کے بعد کا بڑا اور عظیم عمل اللہ، اللہ کا ورد جاری تھا کہ ایک نگران کو دیکھا جو ایک معتکف کو جو کبھی لیٹ جاتا تو کبھی دیوار سے ٹیک لگا لیتا اور کبھی چلنے پھرنے لگ جاتا تو اسے بار بار نگران سمجھا بجھا کر واپس اس کی جگہ پر لے جاتا۔ مگر وہ پھر دوبارہ اپنے مقام سے ہٹ جاتا تھا۔ یہاں تک کہ جب نگران اسے دسویں بار سمجھانے آیا تو اس نے نگران کو دھتکار دیا اور غصے سے اسے واپس جانے کا کہا۔ مجال ہے جو نگران صاحب کی پیشانی پر کوئی بل آئے ہوں۔ انہوں نے اسے مزید پیار سے ہاتھ جوڑ کر سمجھایا۔ بالاخر وہ شخص شرمندہ ہوا اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ کر ذکر کرنے لگا۔نگران حضرات میں کچھ علماء حضرات بھی ہیں تو معتکفین حضرات جس وقت بھی ان کو کوئی شرعی مسئلہ درپیش آئے تو یہ علماء نگران ان کی بھرپور معاونت کرتے نظر آتے ہیں اور کسی موقع پر بھی اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔نہ صرف یہ کہ یہ نگران حضرات معمولات کرواتے ہیں بلکہ خود بھی ان معمولات میں شریک رہتے ہیں ۔ تراویح سے لے کر ذکر اذکار تک کی مجالس میں خود بھی شریک ہوتے ہیں۔ اور کچھ نگران حضرات گھروں سے مستقل ان دس دنوں کی چھٹی لے کر مسجد مدرسہ میں ہی ٹھکانہ بنا لیتے ہیں تاکہ شعبہ تعلیم و تربیت کے کام میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔ اسی طرح معتکفین میں کچھ حضرات کو نماز سکھانا، قرآن کا تلفظ ٹھیک کروانا اور نماز جنازہ اور نماز عید وغیرہ کا طریقہ یاد کروانا اور بتلانا بھی بہت اہم ہے۔

خدمت کا یہ اجر تو اللہ کے ہاں بہت ملے گا مگر معتکفین کی نگاہیں بھی شکریہ کے ساتھ جھکی ہوئی ہیں۔ شکریہ بے حد شکریہ

ایک اور شعبہ جو طعام و قیام کی ذمہ داری پر معمور ہے۔ اس کے چاک و چوبند خدام ماشاء اللہ اس قدر فعال ہیں کہ سولہ سو سے زائد لوگوں کی سحری افطاری اور چائے کا دسترخوان اس قدر تیزی سے لگاتے اور سمیٹتے ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ حالانکہ خود سارا دن روزے سے ہوتے ہیں۔ گرمی کی اس شدت میں ان کی بھاگ دوڑ دیکھ کر بے ساختہ دل سے ان کے لئے دعاء نکلتی ہے۔ مجال ہے جو کسی ایک دن بھی سحری افطاری یا چائے کے معمول میں ذرا سی بھی تاخیر ہوئی ہو۔ سولہ سو سے زائد افراد کو دسترخوان پر بٹھانے کا منظر جس قدر سحر انگیز ہوتا ہے وہ قابل دید ہے۔نہ کسی قسم کی بھگدڑ ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی بد نظمی۔ بوڑھوں اور بیماروں کا خیال کرتے ہوئے پہلے دسترخوان پر ان کو بیٹھنے کی پیشکش کی جاتہ ہے اور پھر اس کے بعد نوجوان طبقہ بٹھایا جاتا ہے۔بیس سے پچیس منٹ میں دسترخوان پر کھانا کھلا دیا جاتا ہے اور پھر سمیٹ کر فرش کو دھو دیا جاتا ہے۔ کسی صورت لگتا ہی نہیں کہ ابھی یہاں سے سولہ سو لوگ کھانا کھا کر اٹھے ہیں۔

 اس قدر حسن ترتیب کا خیال رکھنا اور کسی ایک کو بھی شکایت نہ ہونا واقعی اپنے آپ میں ایک کمال ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے شایان شان اجر عظیم نصیب فرمائیں۔

تیسرا شعبہ مسجد کی صفائی ستھرائی، بیت الخلاء وغیرہ کو صاف رکھنا اور معتکفین کے لئے پانی وغیرہ کا بندوبست کرنے پر معمور ہے۔ سولہ سو سے زائد افراد کا ایک جگہ اکھٹے رہنا اور پھر اسی مسجد میں ان کے طعام و قیام کا بندوبست ہونا بہت زیادہ صفائی کا متقاضی ہے۔ مگر آفرین کہ ان کی مستعدی اور برق رفتاری پر بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔ جیسے ہی سولہ سو لوگ افطاری کھا کر اٹھے اگلے چند منٹ میں تمام دستر خوان سمیٹ کر اس جگہ کو دھو دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کھانے کے برتن لگا کر کھانا برتنوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور پھر جیسے ہی سب کھانا کھا کر اٹھے بلا مبالغہ اگلے چند منٹ میں دسترخوان سمیٹ کر پھر اس جگہ کو پانی سے دھو دیا جاتا ہے، اور ایسے ہی سحری میں بھی کیا جاتا ہے۔ پھر بوقت عصر صحن مسجد کو دھوپ کی حدت اور تپش سے بچانے کے لئے وسیع و عریض صحن کو دھونے کا منظر بھی بڑا دلکش ہوتا ہے۔ بے شک یہ اعتکاف اس قدر شاندار نہ ہوتا اگر آپ نہ ہوتے، معتکفین کی راحت کا سامان نہ ہوتا اگر آپ نہ ہوتے۔وقت کی بچت نہ ہوتی اگر آپ لوگ اس قدر مستعدی کا مظاہرہ نہ کرتے۔

ان کی خدمت کا یہ بے لوث جذبہ دیکھ کر بے ساختہ ہاتھ دعا کی صورت اٹھ جاتے ہیں۔ حالانکہ روزے کی حالت میں ہوتے ہیں، گرمی کی شدت سے زمین تپ رہی ہوتی ہے، مگر یہ سب اہل خدمت پسینے میں شرابور اپنا آرام و سکون لٹا کر معتکفین حضرات کی میزبانی کا فریضہ کیا ہی خوبصورت طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے اور اپنے شایان شان اجر عظیم کا مستحق ٹھہرائے۔ آمین

اور بلاشبہ سب سے بڑھ کراعتکاف کی یہ نعمتیں اور برکتیں ایک’’ اللہ والے‘‘ کی دعاؤں اور محنتوں کا ثمر ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے۔ اپنے شایان شان اجر عظیم عطاء فرمائے۔ہر لمحہ شش جہات سے آپ کی حفاظت فرمائے۔ آمین

 بلاشبہ آپ کی توجہ اور دعاؤں کی بدولت ہم گناہگاروں کو اس قدر شاندار مجلس عطاء ہوئی۔ اللہ کرے کہ ہر سال اس میں شرکت ہوتی رہے اور آپ بھی ہمارے درمیان موجود ہوں۔ ان شاء اللہ

اعتکاف میں ایک دیہاتی سے عمر رسیدہ شخص ایسے بھی دیکھے جو بلامبالغہ دن میں پندرہ سے زائد گولیاں کھاتے ہیں۔ دن کے وقت تو بے حال ہو جاتے ہیں۔ اس قدر ضعف اور بیماریاں ہیں۔ دو دن پہلے ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ عزیز و اقارب کو بتایا گیا تو وہ لینے کے لئے آئے مگر بزرک انکاری کہ میں اعتکاف توڑ کر نہیں جا سکتا۔ چاہے جان جاتی ہے تو چلی جائے۔معلوم ہوا کہ کچی مسجد کے زمانے سے وہ بزرگ اعتکاف بیٹھتے چلے آ رہے ہیں۔ اللہ اکبر

ایسا خوبصورت اور روحانی اعتکاف تو قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ یا ربا تیرا شکر ، تیرا احسان

تمام اہل خدمت اور حضرت جی حفظہ اللہ کا شکریہ … بہت شکریہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online