Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

مسجد اقصیٰ میں اجتماعی اِفطار قبلہ اول سے تعلق کا ذریعہ (نازش ہماقاسمی)

مسجد اقصیٰ میں اجتماعی اِفطار قبلہ اول سے تعلق کا ذریعہ

نازش ہماقاسمی (شمارہ 648)

بیت المقدس کی ایک 63سالہ روزہ دار عفاف قطنانی اپنے بچوں کے ہمراہ افطاری کا سامان لیے مسجد اقصیٰ کے باب السلسلہ کے سامنے پہنچیں تو صہیونی فوجیوں نے انہیں روک لیا۔ قابض فوج اور پولیس نے قطنانی کے سامان کی تلاشی لینے کے بعد ان کے ہاتھ میں اٹھائے برتن میں موجود کھانا گرانے کا حکم دیا تاہم طویل بحث کے بعد قطنانی اور اس کے اقارب اپنے اپنے کھانے لیے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوگئے۔مسجد اقصیٰ میں قبۃ الصخرۃ کی گیلری بیت المقدس میں ان فلسطینی خاندانوں کے اجتماعی افطارکا مرکز رہتی ہے جو ماہ صیام کے تمام ایام بالخصوص رمضان کے آخری عشرے میں اپنے گھروں کے بجائے مسجد میں اجتماعی افطاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے اطراف میں واقع قصبوں وادی الجوز، سلوان، حارہ السعدیہ، راس العامود اور جبل المکبر کے فلسطینی اجتماعی طورپر ماہ صیام کے دنوں میں افطاری مسجد اقصیٰ میں کرتے ہیں۔

میڈیا کے مطابق مسجد اقصیٰ میں اجتماعی افطار اتنا آسان بھی نہیں کیونکہ صہیونی فوج اور پولیس اہلکار مسجد میں افطاری کے لیے آنے والے روزہ داروں کو طرح طرح سے ہراساں کرتے ہیں۔ کئی بار ان کے پکے کھانے اور دیگر افطاری کے سامان ضبط کرلیے جاتے یا انہیں زمین پر گرا دیا جاتا ہے۔ مگر فلسطینی شہری صہیونیوں کی اس ہٹ دھرمی کے باوجود مسجد اقصیٰ میں افطاری کو ایک چیلنج کے طورپر لیتے ہیں اور تمام تر رکاوٹوں کے باوجود مسجد ہی میں روزہ افطار کرنے کو پہلی ترجیح دیتے ہیں۔

القدس کے روزہ دار خاندان کی شکل میں مسجد اقصیٰ میں اپنے افطاری کے سامان کے ساتھ داخل ہوتے اور اپنے اپنے حلقے بنا کر روزہ افطاری کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی شاندار منظر ہوتا ہے جس میں ایک ہی وقت میں فلسطینیوں کی عظمت، وقت کی پابندی اور ثابت قدمی کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔

فلسطینی خاندان مسجد میں داخل ہونے کے بعد اپنے اپنے مخصوص مقامات پر دستر خوان بچھاتے اور ان پر بیٹھ جاتے ہیں۔ گرما گرم کھانے دستر خوان پر رکھے جاتے ہیں۔ بچے، بوڑھے، عورتیں اور مرد سب اللہ کے اس عظیم گھر میں روزہ افطار کرنے کو اپنے لیے ابدی سعادت خیال کرتے ہیں۔مسجد کے شمالی دروازے کے قریب قایتبائی سبیل ہے جہاں ٹھنڈا پانی روزہ داروں کی افطاری کے سامان کا اہم جزو ہے۔ وہاں پرایک خاندان بیٹھا ہے جس کے افراد کی تعداد تیس سے زائد ہے۔خاندان کی ایک بڑی عورت 72سالہ اُم محمد سلوان سے اپنے خاندان کے ہمراہ وہاں آئی ہیں۔ اس کے چار شادی شدہ بیٹے ہیں اور وہ بیٹے اپنے تمام بچوں کے ہمراہ دستر خوان پر جمع ہیں۔میڈیاسے بات کرتے ہوئے ام محمد نے بتایا کہ اس کے خاندان کے افراد کی تعداد 32 ہے اور وہ گھر میں کھانا تیارکرنے کے بعد برتنوں میں ڈال کر وہاں لاتے ہیں۔

جبل المکبر سے مسجد اقصیٰ میں افطاری کے لیے آئے 66 سالہ الحاج حسن ابو جبل جو اپنے خاندان کے ہمراہ ایک چٹائی پر بیٹھے ہیں کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں افطاری ایک چیلنج اور وہ اس چیلنج کو قبلہ اول سے تعلق کے طورپر قبول کرتے ہیں۔ان کے صاحبزادے جمیل نے ہاتھ میں کھجور سے تیار کردہ ایک مشروب اٹھا رکھا ہے اور ساتھ ہی وہ پلاسٹک کے کپ روزہ داروں کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک نامہ نگارنے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں اجتماعی افطار قبلہ اول کی نصرت کا ایک ذریعہ ہے۔ ہم مسجد اقصیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھانے کے لیے یہاں پر روزہ افطار کرتے ہیں۔ابو جبل کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں افطاری ایک انفرادی آئیڈیا تھا مگر جب ہم نے یہ آئیڈیا دیگر لوگوں کے ساتھ شیئرکیا تو قبلہ اول کے پڑوسیوں کو یہ بہت پسند آیا۔ ہم نے افطاری کو بھی قبلہ اول سے تعلق مربوط کرنے کا ایک سنہری موقع جانا۔ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کے فلسطینی باشندے معرکہ الاقصیٰ کا ہراول دستہ ہیں۔ قبلہ اول کے حوالے سے کوئی بھی ذمہ داری ہو سب سے پہلے انہیں ادا کرنا ہوتی ہے۔ انہی کو اسرائیلی پولیس کے لگائے الیکٹرنک دروازوں سے گذرنا اور روز مرہ کی بنیاد پر قبلہ اول کو یہودیانے کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online