Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

عید …خوشیوں کی نوید (محمد طارق)

عید …خوشیوں کی نوید

محمد طارق (شمارہ 648)

رمضان المبارک کا فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ مبارک ماہ اپنے اندر رحمتوں ، مغفرتوں اور خلاصیٔ جہنم کے پروانے لئے ہم سے جدا ہوا چاہتا ہے اور اب ان روزہ داروں کے لئے خوشخبری آنے والی ہے جنہوں نے اس مبارک ماہ میں عبادات کی اور اس کی فضائل و برکات سے فیض یاب ہوئے ۔انہوں نے اپنی عبادات اور روزوں سے اللہ کی رحمت و مغفرت کو اپنے لئے برحق بنایا اور اپنے لئے جہنم سے خلاصی کا ایک بہت عمدہ پروانہ حاصل کیا۔ اب اللہ تعالیٰ ان کو ایک تہوار عید الفطر کے نام سے دینے جا رہا ہے ۔ تہوار اقوام کی علامت اور پہچان ہیں اگرچہ باشعور قومیں اپنے اپنے تہوار مذہبی اطوار سے مناتی ہیں جو اقوام کے مذہب اور ثقافت کی عکاس ہوتی ہیں ۔ امت مسلمہ اس امر کو واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کے سال میں سب سے بڑے دو تہوارہیں یعنی عید الفطر اور عید الاالضحیٰ ۔ان دونوں تہواروں کو دین اسلام میں بہت قدرو منزلت حاصل ہے مسلمان ان تہواروں کے لئے ایمانی جوش و خروش سے خصوصی اہتمام کرتے ہیں ۔

تو صاحبو!رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں نیکیوں اور رحمتوں کو سمیٹنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہم سب کو تحفے میں ایک خاص دن دے رہا ہے جسے ہم نے نام دے رکھا ہے عیدالفطر کا۔

عید کا لفظ عود سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بار بار آنا اور فطر سے افطار مشتق ہے ۔ یہ روزِ سعید مسلمانوں کے لئے مسرت اور شادمانی کا پیغام لاتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس کو رحمت کا دن  کہا گیا ہے کہ اس دن روزہ داروں کے لئے ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے جو کہ امتِ مسلمہ کو رمضان المبارک کی رحمتوں اور برکتوں والے مہینے کے بعد عطا ہوتا ہے ۔

یہ عید کا انعام ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے جو خوفِ خدا رکھتے ہیں ۔ اس کی خوشنودی اور معرفت حاصل کرنے کے لئے رات کو قیام اور دن میں روزہ رکھتے ہیں۔اس دن روزہ داروں کو ان کی محنت کا صلہ ملتا ہے ، انعام ملتا ہے اور اللہ کی رحمت ان کے سروں پر سایہ فگن ہوتی ہے

رمضان المبارک کے اختتام پر آنے والی خصوصی رات عید الفطر کی رات یعنی جسے ہم چاند رات کہتے ہیں خصوصی برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے یہ ہماری کم نصیبی ہے کہ ہم اس با برکت رات کو بے وجہ جاگ کر شاپنگ اور شیطانی کاموں کی نذر کر دیتے ہیں اور یوں اس کی فیوض و برکات سے محروم رہتے ہیں ۔ حالانکہ یہ تو وہ رات ہے جس میں ماہ صیام کے ہمہ وقت عبادات کرنے والوں کو اجرو ثواب ملتا ہے۔

احادیث مبارکہ میں اس رات کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کو رمضان المبارک میں پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو اس سے قبل کسی امت کو عطا نہیں کی گئیں (ان میں سے پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ) آخری رات میں (روزہ داروں ) کو بخش دیا جاتا ہے ایک صحابی نے عرض کیا:یارسول اللہﷺکیا وہ لیلتہ القدر کی رات ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہوتا ہے تو اسے پورا اجر دیا جاتا ہے  (مسند احمد) اس آخری رات سے مراد عید الفطر کی رات ہے ا س لئے کہ اس رات روزہ کا عمل ختم ہوتا ہے اور اسی رات روزے داروں کو ان کے اعمال کا اجرو ثواب مل جاتا ہے ۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ جو شخص ثواب کی نیت سے دونوں عیدوں ( عید الفطر اور عید الالضحیٰ ) کی راتوں کو جاگے (اور عبادت میں مشغول رہے) اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن سب کے دل مر جائیں گے عید الفطر کے دن اللہ کے فرشتے گلی کوچوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور آواز لگاتے ہیں مسلمانو! اللہ کریم کی طرف سویرے سے جاؤ ۔ تمہارا رب اتنا کریم ہے کہ تھوڑی سی عبادت کو قبول کر لیتا ہے اور عظیم ثواب عطا کرتا ہے کہ تم کو روزوں کا حکم ہوا تم نے روزے پورے کر دیئے تم نے راتوں کو بھی قیام کیا جاؤ آج اپنی عبادت کا صلہ لے لو ۔ تمام مسلمان عید کی نماز ادا کرنے کے لئے عید گاہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔

 عید الفطرکے اس دن کا نام آسمانوں میں یوم الجائزہ ہے جب کہ عام طور پر اسے چھوٹی عید کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ عید الفطر کی رات کی طرح اس کے دن کی بھی بہت فضیلت ہے اور یہ دن دعاؤں کی قبولیت کا دن ہے ۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاجب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اپنے بندوں پر اپنے ملائکہ کے سامنے فخر کرتا ہے اور انہیں مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو ! اس اجیر (مزدور) کی جزا کیا ہے جس نے اپنے ذمے کا کام پورا کر دیا ؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! اس کی جزا یہ ہے کہ اس کی مزدوری اسے پوری پوری دے دی جائے ۔ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ اے میرے ملائکہ! میرے ان بندوں نے اپنا فرض پورا کر دیا جو میں نے ان پر عائد کیا تھا ۔ پھر اب یہ گھروں سے عید کی نماز ادا کرنے اور ) مجھ سے گڑ گڑا کر مانگنے کے لئے نکلے ہیں ! قسم ہے میری عزت کی اور میرے جلال کی ، میرے کرم کی اور میری بلند شان کی اور مری بلند مقامی کی میں ان کی دعائیں ضرور قبول کروں گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے جاؤ میں نے تم کو معاف کیا اور تمہاری برائیوں کو بھلائیوں میں بدل دیا ۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا  پھر وہ (عید گاہ سے) اس حالت میں پلٹتے ہیں کہ انہیں معاف کر دیا جاتا ہے  (سنن بیہقی )

عید الفطر کی نماز کے موقع پر خطبہ کے علاوہ بنی نوع انسان اور عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی مدد طلب کی جاتی ہے اور گناہوں سے معافی مانگی جاتی ہے عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے ہر صاحب استطاعت مسلمان مرد اور عورت پر فطرہ یا فطرانہ دینا واجب ہوتا ہے جس کا مقصد اپنے آس پاس کے غرباء ، نادار اور مستحق لوگوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا ہوتا ہے فطرانہ کی رقم جب ان تک پہنچتی ہے تو وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو جاتے ہیں ۔

تو صاحبو ! اس بار آپ بھی اپنی دعاؤں میں اور عید کی خوشیوں میں شام غزہ اور فلسطین عراق کے نہتے مظلوم مسلمانوں کو ضرور شامل رکھیئے گاان کو بھولنا نہیں اور ان کے لئے خاص طور پر دعائیں کریں ان کی کامیابی اور ان کی بحالی اور ان کی عزتوںمیں اضافہ کی۔ غریبوں، ناداروں، مسکینوں اور یتیموں کو بھی اپنی عید کی خوشیوں میں اپنی چادر اپنی حیثیت اپنی جیب کے مطابق شامل کریں ۔ ناراض دوست احباب اور رشتہ داروں کو اس عید سعید کے موقع پرخوشی سے گلے لگائیں مستحق افراد کی امدا د کا ارادہ کریں اور اگلی آنے والی عید پر آپ اور بھی خوشیاں سمیٹیں گے ۔ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online