Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

ماہِ رمضان المبارک کے بعد (محمد نجیب قاسمی)

ماہِ رمضان المبارک کے بعد

محمد نجیب قاسمی (شمارہ 648)

عمل کی قبولیت کی جو علامتیں علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر فرمائی ہیں ان میں سے ایک اہم علامت عمل صالح کے بعد دیگر اعمال صالحہ کی توفیق اور دوسری علامت اطاعت کے بعد نافرمانی کی طرف عدم رجوع ہے۔ نیز ایک اہم علامت نیک عمل پر قائم رہنا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو محبوب عمل وہ ہے جس میں مداومت یعنی پابندی ہو خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری ومسلم) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایام کو کسی خاص عمل کے لئے مخصوص فرمایا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمل میں مداومت (پابندی) فرماتے تھے۔ اگر کوئی ایسا کرسکتا ہے تو ضرور کرے۔ (مسلم) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ! فلان شخص کی طرح مت بنوجو راتوں کو قیام کرتا تھا لیکن اب چھوڑدیا۔ (بخاری ومسلم)

لہذا ماہِ رمضان کے ختم ہونے کے بعد بھی ہمیں برائیوں سے اجتناب اور نیک اعمال کا سلسلہ باقی رکھنا چاہئے کیونکہ اسی میں ہماری دونوں جہاں کی کامیابی وکامرانی مضمر ہے۔ چند اعمال تحریر کررہا ہوں، دیگر اعمال صالحہ کے ساتھ ان کا بھی خاص اہتمام رکھیں۔

نمازعید الفطر کی ادائیگی:

عید الفطر کی شب میں عبادت کرنا مستحب ہے اور دن میں روزہ رکھنا حرام ہے۔عید الفطر کے دن دو رکعتوں کا بطور شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ عید کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، حسب استطاعت عمدہ کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، صبح ہونے کے بعد عید کی نماز سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا، عید کی نماز کے لئے جانے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا، ایک راستہ سے عید گاہ ؍مسجد جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا، نماز کے لئے جاتے ہوئے تکبیر کہنا، یہ سب عید کی سنتوں میں سے ہیں۔عید کی نماز کا وقت طلوعِ آفتاب کے بعد شروع ہوجاتاہے۔ عید کی نماز کے بعد امام کا خطبہ پڑھنا سنت ہے، خطبہ شروع ہوجائے تو خاموش بیٹھ کر اُس کا سننا ضروری ہے۔ جو لوگ خطبہ کے دوران بات چیت کرتے رہتے ہیںیا خطبہ چھوڑکر چلے جاتے ہیں وہ غلط کرتے ہیں۔

ماہِ شوال کے  روزے:

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد چھ دن شوال کے روزے رکھے تو وہ ایسا ہے گویا اُس نے سال بھر روزے رکھے۔ (صحیح مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بشارت دی ہے کہ ماہِ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے والا اس قدر اجر وثواب کا حقدار ہوتا ہے گویا اس نے پورے سال روزے رکھے، اللہ تعالیٰ کے کریمانہ قانون کے مطابق ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا ملتا ہے ، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: جو شخص ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ (سورۂ الانعام ۰) تو اس طرح جب کوئی ماہ رمضان کے روزے رکھے گا تو دس مہینوں کے روزوں کا ثواب ملے گا اور جب شوال کے چھ روزے رکھے گا تو ۰ دنوں کے روزوں کا ثواب ملے گا تو اس طرح مل کر بارہ مہینوں یعنی ایک سال کے برابر ثواب ہوجائے گا۔ یہ چھ روزے ماہِ شوال میں عید کے بعد لگاتار بھی رکھے جاسکتے ہیں اور بیچ میں ناغہ کرکے بھی رکھے جاسکتے ہیں۔ اگر کسی شخص نے ان چھ روزوں کو رکھنا شروع کیا، لیکن کسی وجہ سے ایک یا دو روزہ رکھنے کے بعد دیگر روزے نہیں رکھ سکا تو اس پر باقی روزوں کی قضا ضروری نہیں ہے۔

فرض نماز کی پابندی:

نماز  ایمان کے بعد دین اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے جس کی ادائیگی ہر عاقل وبالغ مسلمان پر فرض ہے۔ لیکن انتہائی تشویش وفکر کی بات ہے کہ مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد اِس اہم فریضہ سے بے پرواہ ہے۔ رمضان کے مبارک ماہ میں تو نماز کا اہتمام کرلیتے ہیں مگر رمضان کے بعد پھر کوتاہی اور سستی کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ قرآن وحدیث میں اِس فریضہ کی بہت زیادہ اہمیت اور تاکید وارد ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر وقت (رمضان اور غیر رمضان) نماز کا پابند بنائے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یقیناًنماز مؤمنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔ (سورۂ النساء ) دن رات میں کل  رکعتیں ہر مسلمان مرد وعورت پر فرض ہیں: فجر کی  رکعت، ظہر کی  رکعت، عصر کی  رکعت، مغرب کی  رکعت اور عشاء کی  رکعت۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا اور اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا۔ (ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابوداود ، مسند احمد)

سنن مؤکدہ کا اہتمام:

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں (فرض کے علاوہ) پڑھیں، اُس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادیا گیا۔ (مسلم) ترمذی میں یہ حدیث وضاحت کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دن رات میں مندرجہ ذیل بارہ رکعتیں پڑھے گا اُس کے لئے جنت میں گھر بنایاجائے گا:  ظہر سے پہلے،  ظہر کے بعد،  مغرب کے بعد،  عشاء کے بعد اور  فجر سے پہلے۔ ان سنن مؤکدہ کے علاوہ دیگر سنن غیر مؤکدہ، نماز تہجد، نماز اشراق، نماز چاشت، تحیۃ الوضوء اور تحیۃ المسجد کا بھی اہتمام فرمائیں۔

قرآن کی تلاوت کا اہتمام:

تلاوتِ قرآن کا روزانہ اہتمام کریں خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔ علماء ِ کرام کی سرپرستی میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں وارد احکام ومسائل کو سمجھ کر اُن پر عمل کریں اور دوسروں کو پہونچائیں۔ یہ میری ، آپ کی اور ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم قرآن کریم کے معنی ومفہوم نہیں سمجھ پا رہے ہیں تب بھی ہمیں تلاوت کرنی چاہئے کیونکہ قرآن کی تلاوت بھی مطلوب ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک حرف قرآن کریم کا پڑھے اس کے لئے اس حرف کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجردس نیکی کے برابر ملتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ا ل م ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف،لام ایک حرف اور میم ایک حرف (ترمذی)

حلال رزق پر اکتفا:

حرام رزق کے تمام وسائل سے بچ کر صرف حلال رزق پر اکتفا کریں خواہ مقدار میں بظاہر کم ہی کیوں نہ ہو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کل قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ پانچ سوالوں کے جواب دیدے۔ ان پانچ سوالات میں سے دو سوال مال کے متعلق ہیں کہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ صرف حلال وسائل پر ہی اکتفا کرے، جیساکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حرام مال سے جسم کی بڑھوتری نہ کرو کیونکہ اس سے بہتر آگ ہے۔ (ترمذی) اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ انسان جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو، ایسے شخص کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (مسند احمد)

بچوں کی دینی تعلیم وتربیت:

ہماری یہ کوشش وفکر ہونی چاہئے کہ ہماری اولاد اہم وضروری مسائل شرعیہ سے واقف ہوکر دنیاوی زندگی گزارے اور اخروی امتحان میں کامیاب ہوجائے کیونکہ اخروی امتحان میں ناکامی کی صورت میں دردناک عذاب ہے، جسکی تلافی مرنے کے بعد ممکن نہیں ہے، مرنے کے بعد آنسو کے سمندر بلکہ خون کے آنسو بہانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یاد رکھیں کہ اگر ہم اخروی زندگی کو سامنے رکھ کر دنیاوی زندگی گزاریں گے تو ہمارا بچوں کی تعلیم میں مشغول ہونا، ان کی تعلیم پر پیسہ خرچ کرنا اور ہر عمل دنیا وآخرت دونوں جہاں کی کامیابی دلانے والا بنے گا، ان شاء اللہ۔ لیکن آج عصری تعلیم کو اس قدر فوقیت واہمیت دی جارہی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو بالغ ہونے کے باوجود نماز وروزہ کا اہتمام نہیں کرایا جاتا کیونکہ ان کو اسکول جانا ہے، ہوم ورک کرنا ہے، پروجیکٹ تیار کرنا ہے، امتحانات کی تیاری کرنی ہے وغیرہ وغیرہ یعنی دنیاوی زندگی کی تعلیم کے لئے ہر طرح کی جان ومال اوروقت کی قربانی دینا آسان ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔

ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے دوری:

معاشرہ کی بے شمار برائیاں ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے پھیل رہی ہیں، لہذا فحش وعریانیت وبے حیائی کے پروگرام دیکھنے سے اپنے آپ کو بھی دور رکھیں اور اپنی اولاد وگھر والوں کی خاص نگرانی رکھیں تاکہ یہ جدید وسائل آپ کے ماتحتوں کی آخرت میں ناکامی کا سبب نہ بنیں، کیونکہ آپ سے ماتحتوں کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کواُس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔(سورۃ التحریم )

اللہ تبارک وتعالیٰ مغفرت اور رحمت والے مہینہ میں کئے گئے ہمارے تمام اعمال صالحہ کو قبول فرمائے اور ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارہ کا فیصلہ فرمائے۔ آمین، ثم آمین۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online