Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

پانی کا بحران…فوری اِقدامات کی ضرورت (اداریہ)

پانی کا بحران…فوری اِقدامات کی ضرورت

اداریہ (شمارہ 651)

پاکستان میں پانی بحران پر خطرے کی گھنٹیاں تیز ہوتی جا رہی ہیں، اور یہ بلاوجہ نہیں ہے۔ ہمیں جس پانی بحران کا سامنا ہے اسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے، چاہے وہ پھر شہروں میں پینے کے پانی کی قلت کی صورت میں ہو یا زراعت میں کم پیداوار، کئی علاقوں میں آبی وسائل کے زہر آلود ہونے کی یا کسی خطرناک شکل میں ہو۔

گزشتہ 3 ماہ کے دوران میں ہمیں قومی میڈیا اور سوشل میڈیا پر حکومت کی اس مسئلے پر کسی قسم کی منصوبہ بندی نہ ہونے اور لاپرواہی اور نہروں اور ڈیموں کی کمی کے حوالے سے گرم جوش بحث و مباحثہ دیکھنے کو ملا۔لیکن ابھی تک کسی خاص قسم کا حکومتی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا سوائے بھاشا ڈیم کے لئے آٹے میںنمک کے برابر فنڈ کا اجراء کیا گیا ہے۔

فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان میں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ دارالخلافہ بھی شدید پانی کے بحران کا شکار ہے۔بلوچستان میں پانی کا بحران تو سال بھر پرانا ہے ۔اس کے بعض علاقوں کے مکین تو جوہڑ کے پانی پر گزارہ کرتے ہیں جہاں انسان اور جانور ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہیں ۔تھر کا ذکر تو ہر اخبار کی زینت بنتا رہا ہے اس کے حال پر تو کسی نے توجہ دی ہی نہیں۔پاکستان میں پانی بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔بھارت پانی کے مسلہ پر پوری دشمنی پر اتر آیا ہے۔پاکستان میں دریائوں میں پانی کی روانی کم ہے اور پھر دریائوں کا پانی بہاؤ کی صورت سمندر کی نظر ہوجاتا ہے اس کے محفوظ کر نے کا خیال کسی کو نہیں آیا ۔دیکھا جائے تو پچھلے بیس سالوں میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ٹھوس قدم کیے ہی نہیں گئے۔ اب لوگ میٹرو بس ،اورنج ٹرین اور اس طرح کے میگا منصوبوں سے پانی تو حاصل کرنے سے رہے ۔سی پیک منصوبے سے معاشی ترقی تو ہوگی لیکن پانی کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا اور نہ ہی موٹر وے پانی کی فراوانی کا سبب بن سکتی ہے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان منصوبوں کے ساتھ ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر بھی کام کیا جاتا ۔جب پانی نہیں ہو گا فصلیں کیسے پیدا ہو گیں، لوگ کیا کھائیں گے، اناج امپورٹ کرنا پڑے گا، خزانے پر بوجھ پڑے گا تو حالات کیا ہونگے۔حکومتوں کو خیال ہو تا تو اس طرف توجہ دیتے اور چھوٹے ڈیم بناتے مگروہ ایسا کیوں کرتے ان کو دیگر مسائل سیاسی سے فرصت ہوتی تو ایسا کرتے۔اب وقت آ گیا ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہییں۔ نہ صرف حکومتی بلکہ عوامی جوش وجذبے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پانی کا بلا ضرورت استعمال ترک کر دیں ۔پانی کے بے جا استعمال کی عادت شدید اسراف میں شمار ہوتا ہے۔ابھی چند دن قبل جب بارشیں ہوئیں تو کئی شہر سیلاب کا منظر پیش کرنے لگے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس نہ تو اپنے حق کا پانی حاصل کرنے کا کچھ جذبہ ہے اورنہ ہی پانی محفوظ رکھنے کا کوئی ٹھوس اقدام کیا جارہا ہے ، حالانکہ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online