Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

تیراکی ایک بہترین جسمانی ورزش (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

تیراکی ایک بہترین جسمانی ورزش

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 651)

انسان جسم اور روح کا مرکب ہے، اس کی مثال کمپیوٹر کے ہارڈویر اور سافٹ ویر کی مانند ہے، اگر کمپیوٹر کے ہارڈویر میں کوئی خرابی آجائے تو اس کا سافٹ ویر بھی کام نہیں کرتا، اسی طرح سافٹ ویر کی خرابی ہارڈویر کو بھی کام سے روک دیتی ہے۔ سافٹ ویرانسان کی روح اور ہارڈویر ہمارا جسم ہے۔ انسانی صحت کے لیے ان دونوں کا صحت مند ہونا ضرور ی ہے۔

جسمانی فٹنس کے لیے سب سے اہم چیز صحت ہے، اگر صحت خراب ہو تو فٹنس بھی ٹھیک نہیں رہ سکتی، کیو ں کہ صحت پر ہی اس کا دارو مدار ہوتا ہے۔ آج کے دور میں انسان کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے، اس میں سب سے بڑا مسئلہ صحت اور تندرستی کا ہے ،صحت اور تندرستی اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے ۔ حضر ت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس نعمت کے بارے سوال ہو گا وہ جسمانی صحت اور ٹھنڈا پانی ہے۔

حضور اکرمﷺنے حضرت ابوبکر اور حضرت بلال کی صحت کے لیے دعا فرمائی:

 اے اللہ! جس طرح تو نے مکہ کوہمارے لیے محبوب کیا ہے، اس طرح مدینہ کومحبوب فرما اور مدینہ کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمارے صاع اور مد میں برکت کر دے۔

صحت کی اہمیت کا اندازہ حضور اکرمﷺکی اس حدیث سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضور اکرمﷺسے عرض کیا کہ کون سا صدقہ ثواب کے لحاظ سے بڑا ہے؟ آپﷺنے فرما یا صدقہ دو،جب تم تند رست (صحت مند) ہو۔

اگر انسان صحت مند اور تندرست ہو گا تو اللہ کی تمام نعمتوں سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکتا ہے ،جبکہ بیماری کی حالت میں ایسا نہیں کر سکتا۔

جسمانی فٹنس کے چھ عناصر ہیں۔ طاقت، قوت، برداشت، لچک، پھرتی اور توازن، جس شخص میں مندرجہ بالا عناصر موجود ہوں، اسے مکمل فٹ قرار دیا جاتا ہے۔ اس فٹنس کو حاصل کرنے کے لیے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ورزش کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور ڈاکٹر حضرات اور جسمانی فٹنس کے ماہرین کی رائے کے مطابق بہترین جسمانی ورزش ’’تیراکی‘‘ ہے۔ اس لیے کہ یہ مکمل جسمانی ورزش ہے، جس میں جسم کے تمام اعضاء وجوارح کی بھرپور ورزش ہوتی ہے ، یہاں تک کہ سانس کی بھی ورزش ہوتی ہے ۔

تیراکی جہاں تفریح طبع اور جسمانی ورزش کاعمدہ ذریعہ ہے، وہیں بہت سے دیگر سماجی ودماغی فوائد کاحامل بھی ہے۔ اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’ مؤمن کا بہترین کھیل تیراکی ہے اور عورت کا بہترین کھیل سوت کاتنا۔ (کنزالعمال)

اس لیے صحابۂ کرام نہ صرف یہ کہ تیراکی کے ماہر تھے، بلکہ بسا اوقات تیراکی کا مقابلہ بھی کرتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ہم حالت احرام میں تھے کہ مجھ سے حضرت عمر کہنے لگے آؤ! میں تمہارے ساتھ غوطہ لگانے کا مقابلہ کروں، دیکھیں ہم میں سے کس کی سانس لمبی ہے ۔ (عوارف المعارف للسہروردی)

مکہ ومدینہ اور اس کے مضافات میں سمندر اور نہر نہ ہونے کے باوجود آپﷺنے اپنے صحابہ کو تیراکی کی ترغیب دی۔ تیراکی ایک ایسا واحد کھیل ہے جو جسم کی ورزش کے لیے کھیلوں میں سب سے زیادہ مفید ہے۔ تیراکی سے جسم کے تمام اعضاء کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور اعصاب میں بالیدگی ہوتی ہے۔ نبی کریمﷺکا ارشاد مبارک ہے:

’’اللہ تبارک وتعالیٰ کی یاد سے تعلق نہ رکھنے والی ہر چیز لہوولعب ہے، سوائے چار چیزوں کے، آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، اپنے گھوڑے سدھانا، دونشانوں کے درمیان پیدل دوڑنا اور تیراکی سیکھنا سکھانا۔ (کنزالعمال، الجامع الصغیر)

اگر آپ خود کو تندرست و توانا رکھنا چاہتے ہیں تو ورزش کی عادت کو ضرور اپنائیے۔ اکثر لوگ خود کو صحت مند رکھنے کیلئے مختلف قسم کی ورزش اور بھاری بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہیں لیکن اگر آپ تیراکی یا تیرنا جانتے ہوں تو اس سے اچھی ورزش اور کوئی نہیں۔ جب آپ پانی میں تیرتے ہیں تو اس وقت آپ کے جسم کے تمام اعضاء خاص طور پر کندھے، بازو اور ٹانگیں حرکت میں ہوتی ہیں۔ ان تمام اعضاء کے مسلسل حرکت میں رہنے سے آپ کی ٹانگیں اور کندھے مضبوط جب کہ جسم تر و تازہ ہوجاتا ہے۔

یہ ورزش دل اور جوڑوں کیلئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ تیرتے وقت جسم کو اپنا بوجھ نہیں اُٹھانا پڑتا۔ اس لئے یہ موٹے لوگوں اور حاملہ عورتوں کے علاوہ اُن لوگوں کیلئے بھی بہت اچھی ورزش ہے جنہیں کمر اور جوڑوں کا درد رہتا ہے۔

تیراکی کرنے سے انسانی جسم کے جس حصے کو سب سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ اس کے پٹھے ہوتے ہیں، اس لیے کہ تیراکی کی وجہ سے آپ کے جسم کے تمام پٹھے استعمال ہوتے ہیں جس سے وہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ صیح معنوں میں تیرنا جانتے ہیں تو اس بات کو سمجھنا مشکل نہیں کیونکہ تیرنے والا اس کے فوائد کو بہتر سمجھ سکتا ہے۔ پانی میں تیرنے کے لئے آپ کو اپنے دونوں بازوؤں کو کندھوں سمیت حرکت میں لانا پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ آپ پانی کو ہاتھوں سے پیچھے دھکیلتے ہوئے آگے کی طرف جاتے ہیں۔ اس عمل کے دوران آپ کے جسم کے پٹھے اور ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔

تیراکی کرنے کا فائدہ نہ صرف آپ کے پٹھوں کو ہوتا ہے بلکہ اس کا فائدہ براہ راست آپ کی ٹانگوں کو بھی پہنچتا ہے۔ کیونکہ جب آپ پانی میں تیر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت صرف کندھوں کا سہارا نہیں لیا جاتا بلکہ ٹانگوں کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر آپ پانی میں صرف بازوؤں کو ہی گھماتے رہے تو ٹھیک سے نہیں تیر سکیں گے، لہذا آپ کو ٹانگوں کا استعمال کچھ یوں کرنا پڑے گا کہ دونوں ٹانگیں پانی میں سیدھی کرکے مچھلی کی دم کی طرح چلاتے رہیں۔ ٹانگوں کے اسطرح مسلسل حرکت میں رہنے سے آپ جوڑوں کے درد سے بچ سکتے ہیں کیونکہ تیرنے سے آپ کی ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔

تیراکی کرنے سے دل کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔ یقیناً آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور گھوم رہا ہوگا کہ تیرنے سے دل کی حفاظت یا تیرنے سے دل کا کیا تعلق لیکن اگر یہ کہا جائے کہ تیرنے کا سب سے زیادہ فائدہ جسم کے اندرونی اعضاء بالخصوص دل کو ہوتا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ بات یاد رکھیں کہ تیرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور جو افراد تیراکی کو اپنی عادت بناتے ہیں وہ اعصابی طور پر مظبوط ہوتے ہیں۔ جم میں ورزش کرنے سے زیادہ فائدہ تیرنے سے ہوتا ہے۔ جب آپ تیر رہے ہوتے ہیں تب آپ کا سینہ پانی کے ایک خاص بہاؤ کو برداشت کر رہا ہوتا ہے اور اسی کا فائدہ دل کو بھی ہوتا ہے۔ تیرنے سے دل کی دھڑکن اور دل میں خون کی گردش ٹھیک رہتی ہے۔

بیشتر افراد کا یہ خیال ہے کہ عمومی طور پر پانی انسانی جسم کے درجہ حرارت کے مقابلے میں ٹھنڈا ہوتا ہے اس لئے یہ مشکل ہے کہ پانی میں تیرنے سے وزن پر قابو پایا جاسکے۔ لیکن نئی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ تیرنے سے انسانی جسم میں موجود کیلوریز اور وزن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ بریسٹ اسٹروک کے طریقے سے تیرتے ہیں تو یہ آپ کے جسم کی60    کیلوریز کو کم کرے گا، بیک اسٹروک80، فری اسٹائل100  اور بٹرفلائی اسٹروک150  تک جسم کی کیلوریز کو کم کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ہمارے جسم میں کولیسٹرول کی دو اقسام پائی جاتی ہیں، ایک ایچ، ڈی، ایل اور دوسرا ایل، ڈی، ایل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایچ، ڈی، ایل کو اچھا اور ایل، ڈی، ایل کو برا کولیسٹرول سمجھا جاتا ہے۔ تیرنے سے جسم میں کولیسٹرول کی اچھی قسم ایچ، ڈی، ایل میں اضافہ ہوتا ہے اورکولیسٹرول کی یہ قسم دل کی بیماری سے بچاتی ہے اور تیراکی کرنے سے کولیسٹرول کی بری قسم ایل، ڈی، ایل میں نمایاں کمی آتی ہے۔

تیراکی کرنے کے یہ تو چند جسمانی فوائد ذکرکیے گئے ہیں جبکہ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ جسمانی فوائد نہ بھی ہوتے تو بھی اسے سیکھنے سیکھانے کا جب ہمارے آقاﷺنے فرما دیا تو ہمارا یہ یقین ہے کہ ’’تیراکی‘‘ ہماری دنیا وآخرت کے لیے بہتر ہی ہوگی اس لیے رحمۃ للعالمینﷺنے اس کی طرف امت کو متوجہ فرمایا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں حضوراکرمﷺکی ہر سنت کو اپنانے اور اسے امت میں پھیلانے کی توفیق عطافرمائیں۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online