Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

خود کو پانی کے حوالے کر دیجئے (نشتر قلم۔زبیر طیب)

خود کو پانی کے حوالے کر دیجئے

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 651)

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الإسلام دینا  (القرآن)

ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کوکامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔

یہ امت مسلمہ پر اللہ کی نعمت ہے کہ اس نے ان کے لیے ان کے دین کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا،اس کے بعد نا کسی نبی کی اور نہ کسی دین کی ضرورت ہے۔یعنی دین اسلام ہی انسان کے لیے مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے ۔اب اس کے احکامات میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی اور نا ہی کوئی نئی چیز اس میں داخل کی جا سکتی ہے۔بحیثیت مسلمان ہم کو کامیاب زندگی کے لییان احکامات پر پوری زندگی عمل کرناہے، دین اسلام کا ماخذ قرآن مجید ہے، جب کہ سنت نبویﷺ اس کا عملی نمونہ ہے۔ دین اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر لمحہ، ہر پہلو، چاہیسماجی ہو ،معاشی ہو ،سیاسی ہو، تعلیمی ہو یا انسان کی صحت کے متعلق ہو،راہنمائی فراہم کرتاہے۔جس کا عملی نمونہ سیرت نبویﷺ ہمار ے سامنے موجود ہے۔

اسلام دین فطرت ہے، یہ فقط روحانیت کا سر چشمہ اور آخرت سنوارنے کا وسیلہ نہیں بلکہ یہ ہماری مادی زندگی کے لیے ایک بہترین عملی اور مکمل ضابطہ حیات ہے، اس پر عمل پیرا ہونے کی بدولت نہ صرف مادی ،معاشی،سیاسی،اخلاقی اور روحانی عروج حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ صحت و توانائی کے حصول کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔اس مقصد کے لیے اسلام نے مکمل ضابطہ اخلاق مرتب کیا ہے   اور ایسا معاشرہ جس میں انسان صحت مند، توانا،مضبوط اعصاب کا مالک ، قوت برداشت رکھنے والا ،بیماریوں سے پاک،گندگی سے پاک صاف ، اورظاہری و باطنی طور پر پاکیزہ ہو۔جسمانی تعلیم شروع سے ہی انسان کے ساتھ ہے ،جن کو اختیار کرکے انسان کو نہ صرف روحانی سکون حاصل ہوتا ہے بلکہ جسمانی بالیدگی بھی حاصل ہوتی ہے۔اسلامی تعلیم کی طرح تعلیم جسمانی کا مقصد بھی انسان کی مکمل شخصیت کے حامل افراد اور ایک  مثالی ماحول کا قیام ہے ۔انسان کی جامع شخصیت کی تعمیر اور کامیاب زندگی گزارنے کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات اور جسمانی تعلیم کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

مشہور قول ہے۔

’’ اَلْعِلْمُ عَلْمَانِ عِلْمُ الاْدَیْانِ وَعِلْمُ الْاَبْدْاَنِ‘‘

علم دو ہی ہیں ایک دین کا علم دوسرا جسم کا علم

کامیاب زندگی گزارنے کے سلسلے میں صحت و تند رستی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جب کہ اسے برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا، ورزش وکھیل، صفائی و پاکیزگی، نیند و آرام اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ تمام امور اسلامی تعلیمات اور عبادات کے ساتھ ساتھ صحت کے اصولو ں میں موجود ہیں۔ ویسے توانسانی صحت کی حفاظت اور خیال رکھنے کے لئے بہت سی مشغولیات ہیں لیکن اس وقت ہمارا موضوع ایک انتہائی اہم اور سستی ترین تفریح اور ورزش ہے جس کا نام ’’تیراکی ‘‘ ہے۔

تیراکی تمام ماہرین جسمانی کے نزدیک دنیا کی سب سے بہترین ورزش اور صحت جسمانی کے اعتبار سے بہت ہی مفید عمل ہے۔دنیا کا ستر ۷۰ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ جبکہ خشکی صرف تیس ۳۰ فیصد ہے۔ انسانی زندگی میں کبھی نہ کبھی انسان کو گہرے پانیوں سے واسطہ ہر حال میں پڑتا ہی ہے۔ ایک مسلمان کے لئے تیراکی میں بہت سے فوائد ہیں۔نہ صرف یہ انسان کی اپنی دنیاوی ضرورت ہے بلکہ جہاد کی نیت سے سیکھنا اور سکھانا ایک بہترین صدقہ جاریہ ہے۔چاہے آپ کو ساری زندگی تیراکی کی نوبت نہ آئے مگر آپ کا جہاد کی نیت سے سیکھا ہوا عمل انشاء اللہ قبر میں بھی کام آئے گا اور قیامت کے دن اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا۔

ایک مومن  کے لئے تیراکی کا عمل بہت مفید ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’مومن کا بہترین کھیل تیراکی ہے اور عورت کا بہترین کھیل سوت کاتنا۔‘‘ (کنزالعمال)

 اس لیے صحابہ کرامؓ نہ صرف یہ کہ تیراکی کے ماہر تھے، بلکہ بسا اوقات تیراکی کا مقابلہ بھی کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ہم حالت احرام میں تھے کہ مجھ سے حضرت عمر ؓ کہنے لگے آؤمیں تمہارے ساتھ غوطہ لگانے کا مقابلہ کروں، دیکھیں ہم میں سے کس کی سانس لمبی ہے ۔

کچھ عرصہ پہلے ایک خبر پڑھی جس میں دریائے نیلم کا ایک پل گرنے کہ وجہ سے دو درجن سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ موت اور زندگی بلاشبہ اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر جائے وقوعہ پر موجود مقامی لوگوں کا بیان ہے کہ پانی کا بہاؤ اس قدر تیز نہ تھا اگر ان میں سے کسی کو  معمولی تیراکی آتی ہوتی تو شاید کسی کی جان بچ سکتی تھی لیکن پانی کا خوف اور اس میں گرنے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے کئی جانیں ضائع ہو گئیں۔

ایک سروے کے مطابق صرف پچھلے دو سالوںکے دوران پاکستان میں وہ لوگ جو ڈوبنے کہ وجہ سے مر گئے ان کی تعداد اکتیس سو سے زائد ہے۔ایک مومن اگر ماہر تیراک ہو تو وہ نہ صرف خود کو ایسے حالات میں ڈوبنے سے بچا سکتا ہے بلکہ کسی دوسرے ڈوبتے ہوئے انسان کو بھی بچا سکتا ہے۔ یہ حقوق العباد میں ذیل میں ایک بہت ہی نیک عمل ہے۔ اس لئے تیراکی کا عمل آج سے ہی سیکھنا شروع کر دینا چاہیے۔

بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے ہمیں صحت مندانہ سرگرمیوں کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔ مسلمان آج مفید چیزوں سے دور اور غلیظ چیزوں کے قریب ہو گیا ہے۔ تیراکی ، ڈرائیونگ، بندوق چلانا، فرسٹ ایڈ کی تربیت اور اپنا خود کا بچاؤ کرنا ( سلیف ڈیفنس) یہ اکثر مغربی ممالک میں ایک طالبعلم کے لئے ضروری ہیں۔ تب تک اسے سکول یا کالج کی ڈگری نہیں ملتی جب تک وہ ان پانچ چیزوں میں مہارت حاصل نہ کر لے جبکہ ہمارے لئے ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہمارے ہاں تو بس چغل خوری ، لڑائی جھگڑا، زبان درازی، گالیاں، غیبت کرنا اور دھوکہ دینا اصلی مہارتیں ہیں اور جب تک ان چیزوں میں ہم خود کو ماہر نہ سمجھ لیں تب تک کامیابی کی ضمانت نہیں دی جاتی۔

حکومت وقت کو چاہیے کہ اس سلسلے میں خصوصی اقدامات کرے۔ تعلیمی اور نجی ادارے اس حوالے سے تالاب بنائیں اور طلباء و اساتذہ کو تربیت فراہم کریں۔ وہ ادارے جو اپنی مدد آپ کے تحت اس حوالے سے اقدامات کرتے ہیں وہ لائق تحسین ہیں۔

تیراکی جیسی صحت مند سرگرمی خود سیکھئے، اپنے لئے اور دوسروں کے لئے سیکھئے، جہاد کی تربیت کی نیت سے سیکھئے،اسلام کے لئے سیکھئے۔تاکہ کبھی بھی راہ چلتے یا زندگی کے کسی موڑ پر گہرے پانیوں سے آپ کا مقابلہ ہو تو آپ بلاخوف و خطر اس میں کود جائیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online