Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

سمندر کے حکمران (ڈاکٹر محمد اسامہ)

سمندر کے حکمران

ڈاکٹر محمد اسامہ  (شمارہ 651)

مسلمانوں نے گوریلا طرز جنگ چھوڑ کر آمنے سامنے کی جنگ شروع کر دی ،وہ توسمندرکے سینے پر بے خوف و خطر آگے بڑھے چلے آتے تھے اور آناََ  فاناََ رومی بحری بیڑے میں ان کے جہاز گھتم گھتا ہو گئے،عربوں نے آنکڑے پھینک کر رومی جہازوں کو اپنے قریب کیا اور اپنے جہازوں کے ساتھ باندھ کرسطح سمندرپرہی میدان تیار کر لیا،ہوا  رکی ہوئی تھی اور سمندر پرسکون لیکن اوپر  قیامت برپا تھی،عرب تیغ زن بے خوف وخطر رومیوں کے جہازوں پر چڑھ کر ٹوٹ پڑے، اور وہ کشت و خون کیا کہ لاشوں کے انبار لگ گئے اور سمندر خون سے سرخ ہو گیا ،ہرقل روم کامایہ ناز جرنیل بیٹا بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا رومی شکست کھا کر واپس ہوئے اور مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال اور کشتیاں لگیں جنہوں نے ان کی بحری قوت کو مزید قوت دی جبکہ اس فتح سے مسلمانوں کا جو مورال بلند ہوا اور بحیرہ روم میں رومیوں کے رعب ودبدبے کا خاتمہ ہوا وہ الگ ہے ـ۔

کچھ ان الفاظ کے ساتھ یورپ کا مشہور مئورخ  فلپ کے ہیٹی اس تاریخی بحری جنگ کا منظر پیش کرتا ہے جس نے آئندہ  چل کر تاریخ عالم پر دوررس اثرات ڈالے۔حضرت امیر معاویہؓ کے دورحکومت میں رومی اپنے شامی مقبوضات کو  مسلمانوں سے چھڑانے کے لئے بار بار سمندر کے راستے حملہ آورہوتے رہتے کیونکہ اس وقت تک بحیرہ روم پر بلا شرکت غیرے ان ہی کا راج تھاجبکہ زمین کے سینے پر ان کی آہن پوش فوجوں کے سیلاب کا ہرریلہ شمع توحید کے پروانوں کی شمشیر خارا شگاف سے ٹکرا کر عبرت کی ایک داستان بن چکا تھاا سلئے اب صحرا نشینوںکو سمندر میں للکارا جا رہا تھا ۔قافلہ ایمان عشق و وفا کی منزلیں طے کرتا ہوا صحرا سے سمندر کی طرف کفرکے تعاقب میںگامزن سفر تھا۔ عرب کے تپتے ریگزاروں میں پروان چڑھنے والے شاہسوار جن کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے قیصر و کسریٰ کے محلات لرز اٹھے تھے جن کی تکبیرکے نعروںسے افریقہ کے جنگل گونج رہے تھے،آج یہ صحرانشین اپنے عشق کا امتحان دینے سمندر کے سینے پر سوار ہو چلے تھے ۔صحرا وں کے ریتیلے طوفانی بگولوںمیں بے خوف خطر بڑھ کر منزلوں کو دبوچ لینے والے آج بحیرہ روم کی بے رحم سرکش موجوں کے مقابل تھے۔

لیکن تاریخ انسانیت کوشجاعت کا تعارف کروانے والے،عزم ،ہمت وحوصلے کو نئی منزلوں سے آشنا کروانے والے،قربانی و جوانمردی کواس کے عروج سے آگاہی کی خیرات دینے والے آج سمندرپر یوں سوارتھے جیسے بادشاہ اپنے تخت پر۔

 مسلمان قوم ساتویں صدی عیسوی میں سمندر میں اتری اور جزیرہ قبرص پر قبضہ سے مشرقی بحیرہ روم میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور اپنے شامی مفتوحہ ساحلی علاقوں کا دفاع آگے سمندر میں بڑھ کر کیا،جس کی وجہ سے بازنطینوں کی سمندری برتری کو محدود کردیا ،اسی دوران کھلے سمندر میں چھ سو جنگی کشتیوں کے عظیم بحری بیڑے کے ساتھ جس کی قیادت خود ہرقل روم کابیٹاکررہا تھا، پہلی بار رومیوں نے کھلے سمندر میں مسلمانوں کے ساتھ پنجہ آزمایا ۔مسلمان اپنے سے تین گنابڑے بحری بیڑے سے پہلی مرتبہ سمندر میں نبردآزما ہوئے اور پہلی ہی جنگ میں بحیرہ روم میں اپنی فتح کے جھنڈے گاڑدئیے۔  اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے لیفٹینٹ جنرل سرجان گلب اپنی کتاب "The Great Arabs Conqustes"میں لکھتا ہے کے اب وہ وقت گزر گیا جب رومی جہاز بے خوف و خطر اپنی بالادستی کا نشان بن کر بحیرہ روم کے سینہ پر پھرا کرتے تھے یا اپنی مظلوم اردو زبان میں یوں کہیے کے ’’وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے‘‘  اور پھر مسلمان  رھوڈس،کورسیکا،سارڈینیا ،اور سسلی کو فتح کرتے ہوئے اٹلی کے شہر باری پر اپنی فتح کے جھنڈے لہرانے لگے۔ اور حالت یہاں تک آپہنچی کہ مسلمان عیسائیت کے مرکز روم پر حملہ آور ہوئے اور یورپی مورخ فلڈ یورا ن ، فلپ ۔ کے ہیتی،موسیوسیدیو وغیرہ کے مطابق پوپ نے اپنی عافیت اسی میں جانی کہ سالانہ خراج دے کر صلح کر لی اور اس طرح عسائیت کے مرکز روم کو مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہونے سے بچا لیا۔  بحیرہ روم پر مسلمانوں کا کنٹرول اس حد تک مضبوط ہوا  اور اس کے اتنے دورس اثرات پڑے جن پر روشنی ڈالتے ہوئے لیفٹینٹ سرجان گلب اپنی کتابـ"The Empire of Arabs"میں بتاتا ہے کہ اسی بحیرہ روم میں جوکبھی رومی بحری بیڑوں کی عظمت کا گواہ تھااب اسکندریہ سے لیکر اندلس کے دہانے تک صرف مسلمانوں کا راج تھا اور بحیرہ روم میں عظیم سلطنت رومہ کا عظیم الشان رومی بحری بیڑا تو کیا کوئی تختہ تک نہ تھا ۔اس صورتحال نے پورے یورپ کو بڑے بھیانک نتائج سے دوچار کیا،عیسائیت پوری دنیا سے کٹ کر رہ گئی۔پہلے کاغذ ناپید ہوا،پھر گرم مصالحے،کالی مرچ،لونگ اور خوشبویات عنقا ہو گئیں۔ریشم اور دوسری مشرق کی سوغات پورے یورپ سے ختم ہو گئیں اور پورا یورپ مسلمانوں کے بحری محاصرے کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوب گیا اس وقت تک جب تک یہ قوت زوال پذیرنہ ہو گئی۔دوسری طرف مسلمان بحری قوت میں اتنا آگے بڑھ گئے  کہ مسلمانوں کے بحری جہاز مشرق میں انڈونیشیا،ملائشیا  اور حتٰی کہ مشرقی چین کے ساحلوں تک اسلام اور سامان تجارت پہنچا رہے تھے تو دوسری طرف  مغرب میں سیدسلیمان ندوی صاحب کی تحقیق کے مطابق کولمبس سے دو سو سال پہلے  تلاطم خیز سمندر کے غرور کو پامال کرتے ہوئے امریکہ پہنچ چکے تھے جس کا کئی یورپی مورخین کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں،اور  امریکی ساحلی پٹی اور میکسکو کے جنگلات سے ملنے والے اموی دور خلافت کے سکے اور عربی بولنے والے جنگلی قبیلوں کی دریافت ایک کھلا ثبوت ہیں۔جبکہ اس حقیقت سے تو کسی کو انکار نہیں کہ کولمبس کا جہاز راں مشہو ر مسلماں جغرافیہ دان  ابن ماجد تھا۔ جنوب میںمسلمانوں کے بحری جہاز مڈغاسکر اور کیپ ٹائون  کے سمندروں میں اپنی عظمت کے نشان ثبت کر رہے تھے اور افریقہ کی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ نئی آبادیاں آباد کر رہے تھے او ر یورپی مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ واسکو ڈے گامے کو کیپ تائون  اور وہاں سے ہندوستان کا راستہ دکھانے والے بھی عرب جہاز ران تھے۔کیونکہ ان جنوبی سمندروں کے حکمران بھی وہی تھے تو دوسری طرف شمال میں سائبیریا کے برف  زاروں میں ان کی فتح کے علم لہرا رہے تھے۔ سمندروں کی اس بے تاج بادشاہی کی وجہ سے ساری دنیا کی تجارت ان کے قبضے میں تھی ۔دور جدید کی بحریہ کے بانیوں میں شمار کیا جانے والا مشہور زمانہ ایڈمیرل جر نل الفریڈتھائر موہان؎ اپنی تھیوری The Influnce of sea power upon history؎؎؎ ؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎(بحری قوت کا   تاریخ پر اثر) میں لکھتا ہے ـ"The country with greater navel power have greater worldwide impact"(یعنی زیادہ بحری قوت رکھنے والا ملک ہی زیادہ  عالمی اثر و رسوخ رکھ  سکتا ہے) اور  اس کے اس نظریئے نے جدیدبحریہ کی بنیاد رکھی ۔ اور مغربی مورخین کے مطابق "The Muslims Established the most complete mastery in world"(مسلمانوں نے دنیا پر کامل ترین حکومت کی ہے)کے پیچھے ان کی بحری بالادستی کا بڑا عمل دخل تھا۔اسی بالا دستی کو قائم رکھنے کے لئیے مسلمانوں نے تیونس میں دنیا کا سب سے بڑا بحری جہازوں کا کارخانہ بنایا  اور ساحلی پٹی پر مختلف بحری کارخانوں کا سلسلہ تشکیل دیا،پہلی مرتبہ سمندروں کی وسعتوں کا طمطراق کچلتے ہوئے ان کی پیمائش کی اور ایسی درست کی کہ آج بھی زمانہ معترف ہے ۔ ابن خلدون نے بحیرہ احمرکی پیمائش اس دور میں ۱۴۰۰میل بتائی جو اب جدید تحقیقات کے مطابق معمولی فرق کے ساتھ ۱۳۱۰میل ہے۔پہلی بار سمندروں کے نقشے مرتب کئے گئے قطب نما کے استعمال کو رائج کیا اور سمتوں کے تعین کے نئے اصول متعارف کروائے،سمندری سفر کا تحریری ضابطہ طے کر کے اسے لاگو کیا۔نئی سمندری تجارتی شاہراہیں دریافت کیں۔ڈوبے ہوئے جہازوں کو نکالنے کے لئے جر ثقیل ایجاد کیا۔ جہاں بری جنگ میں دریا کی سرکش موجوں کو اپنے گھوڑوں تلے روند کر حیران کیا وہاں اندلس کے ساحلوں پر اپنے ہی بحری بیڑے کو آگ لگا کر عقل کو پریشان کیاتو کہیںبحری جنگ کی انسانی تاریخ میں پہلی بار بحری بیڑے کو کئی میل خشکی پر چلا کر  ناقابل تسخیربازنطینی پایہ تخت  قسطنطنیہ کو فتح کرنے والا اسی قوم کافرزند سلطان محمد شاہ فاتح تھا جس نے بحری جنگ کو نئے اسباق سے آشنا کیا۔خلافت عثمانیہ کے امیرالبحر خیر الدین باربروسا جس نے اپنے سے بیس گنابڑے صلیبی بحری بیڑے کو بحیرہ روم میں پرویزہ کے مقام پرشکست فاش دی جسے صلیبی اپنی تمام تر بحری قوت اپنے ماہرترین بحری جرنیل  اندرادوریا کی قیادت میں اکھٹی کر کے مقابلے پرلائے تھے۔لیکن اس شکست نے ان کی بحری طاقت کی کمر توڑ کر رکھ دی اور امیر البحر خیر الدین باربروسا کی وفات کے تقریبادو سوسال بعد تک بھی رومی اپنا بحری بیڑہ بحیرہ روم میں داخل کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

لیکن آج مسلمانوں سے سیکھے اسی اصول پر کہ جس کا راج سمندر پر اس کا راج دنیا پرکے مطابق خوفناک بحری بیڑے سمندروں میں دندنا رہے ہیں جہاں چاہتے ہیں جمگھٹا لگا لیتے ہیں جسے چاہتے ہیں دھمکی دیتے ہیں ،جدھر چاہتے ہیں موت تقسیم کرتے ہیں اور اپنی عالمی بالادستی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔  ان حالات کے تناظر میں یہ بات اشد ضروری ہو جاتی ہے کہ ہم اپنی بحری طاقت کو مزید مستحکم کریں۔ کیونکہ خود مسلمانوں کی بحری تاریخ سے متاثر ایڈمرل جرنل الفریڈتھائر موہان تو رہا ایک طرف ،ہمیں تو ہمارے پیارے آقا مدنی ﷺنے آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے بحری قوت کی اہمیت کا قوی احساس دلایا اور عاشقان نبوت کوبھرپور ترغیب دی۔

’’جو شخص میرے ساتھ مل کر جہاد کرنے سے محروم رہا اسے چاہیے کہ وہ سمندر میں جہاد کرے ،جس نے ایک بار سمندر میں جہاد کیا گویا اس نے  میرے ساتھ مل کر پچاس با ر جہاد کیا‘‘ (الطبرانی ،ابن عساکر)۔

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online