Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

پیارے سفیان شہید… جزاک اللہ احسن الجزاء (بل احیاء۔ والد سفیان شہیدؒ)

پیارے سفیان شہید… جزاک اللہ احسن الجزاء

والد سفیان شہیدؒ (شمارہ 643)

جہاد اَمر ربی ہے۔ ایک محکم فریضہ ہے۔ جہاد اللہ تعالیٰ کی توحید کا، اس امت کا، مساجد مدارس خانقاہوں کا محافظ ہے، جہاد اپنا موافق اور مخالف خوب پہچانتا ہے اور اپنا لوہا منوانا جانتا ہے۔جہاد کے اس فریضہ کو سرانجام دینے والے اور موت سے ٹکرا کر زندگی پانے والے شہداء کے بارے اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول  ﷺ نے سچ فرمایا: خبردار شہداء کو موت نہیں ، شہداء کو مردہ نہ کہو بلکہ مردہ گمان بھی نہ کرو۔ وہ تو فانی دنیا سے نکل کر عظیم جنت کے مکین بن جاتے ہیں اور وہاں جنتی نعمتیں استعمال کرتے ہیں وہ حوروں کے ساتھ رہتے ہیں رزق کھاتے ہیں بلکہ کبھی کبھار ان کی ارواح دُنیا والوں کو بھی آ کر مل جاتی ہیں کیونکہ شہداء کچھ کام ہی ایسا کر گئے جس کی وجہ سے وہ ان انعامات کے مستحق ہوئے۔ شہید نے جب اللہ تعالیٰ کے لئے اللہ کے رسول ﷺ کے لئے دین اسلام اور پوری امت کی حیات کے لئے اپنے آپ کو موت کے منہ میں دے دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہمیشہ کے لئے زندہ جاوید بنا دیا۔اب اس کے بارے میں شک کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا کیونکہ خود خالق نے ان کی جان و مال کو پسند کیا اور خرید لیا ، اس کے بدلے پیاری جنت اور اس کی عمدہ عمدہ نعمتیں دے دیں پھر اس خریداری ، بیع وشراء پر تورات ، انجیل اور قرآن اور ان خدائی کتابوں کے پڑھنے والوں کو گواہ بنا دیا اب اس سودے بازی پر کس کی جرأت کہ شک کرے؟

شہداء عظیم لوگ ہوتے ہیں اپنی پیاری پیاری جوانیاں قربان کر جاتے ہیں اور امت کو اجتماعی زندگی دے جاتے ہیں۔ ہم دن رات مشاہدہ کرتے ہیں یہ اپنی ہمیشہ والی سچی زندگی کی خاطر مسلمانوں کو اور اسلام کو کیا کیا دے جاتے ہیں۔ رب تعالیٰ کو شہداء کی یہی اچھی اچھی عادتیں پسند آئیں تو رب کریم نے ان کو شہادت والا بلند مرتبہ عطاء فرما دیا جی ہاں یقیناً جو مسلمان فطری پر اُمت کا درد رکھتا ہو وہ ہوش سنبھالتے ہی مسلمان ماؤں بہنوں کی عزت کی حفاظت کے لئے نکل پڑتا ہے۔ اس کے اس کام میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی کفر جب سرکشی پر اُتر آتا ہے کہ مسلمان عزتوں کو کھلونا سمجھ لیتا ہے تو قدرتی طور پر کچھ سرپھرے نوجوانوں میدان میں اُتر آتے ہیں۔ان کا راستہ روکنا کفر کے بس کی بات نہیں رہتی پھر ایسے ذلیل کافروں کو ایسے زخم لگا کر جاتے ہیں کہ ان کی مائیں ساری زندگی بلاتی رہتی ہیں اور زخم چاٹتی رہتی ہیں۔

ہاں سفیان شہید ؒ بھی ایسے ہی غیرت مند نوجوانوں میں سے تھا جس نے جوان ہونے کے بعد اپنی کشمیری ماؤں بہنوں کی چیخیں سنیں تو پھر ہمارا نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے دین کا ہوکر رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ اس کی اس جرأت کو، غیرت کو اور شہادت قبول فرمائے، اجر عظیم عطاء فرمائے۔ اور ہمیں اس کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اس کو ہمارا شفیع بنائے۔

اے پیارے ! آپ نے دنیاوی چکروں سے دور ہو کر ملک، قوم ، اسلام ، مسلمان، ماؤں بہنوں کی خاطر  اپنی جوانی کو قربان کیا۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتے۔ اللہ نے آپ کی محنت ضائع نہیں کی۔ آپ کو شہادت والا عظیم رُتبہ عطاء فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سے امید قوی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی شایان شان اجر بھی ان شاء اللہ عطاء فرمائیں گے۔

پیارے شہیدؒ ! یہ راستہ جس پر چل کر تم استقامت دکھا گئے اور کامیاب ہو گئے۔ کفر کو ہلاک اسلام کو مضبوط اور کامیاب کر گئے۔ اس راستے پر بڑے بڑے پہاڑ  ہل جاتے ہیں۔ اور استقامت کا دعوی کرنے والے بڑے بڑے بے وفائی کر جاتے ہیں۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم‘‘ …الخ

اے شہیدؒ ! تیری جرأت و استقامت کو سلام۔ تم کتنی چھوٹی سی عمر میں کتنا بڑا کام کر گئے ہو۔ ہم جیسے سست لوگوں کے لئے مشعل راہ بن کر چلے گئے ہو۔ حضرت علیؓ نے حق فرمایا استقامت ہزار کر امتوں سے بڑی کرامت ہے۔ اے پیارے شہیدؒ! آپ نے شہادت کے وقت تک نہ جہاد چھوڑ ا اور نہ جہاد پر کوئی شبہ کیا۔ نہ مجاہدین کا گلہ شکوہ کیا نہ اپنی جماعت پر کوئی کیچڑ اچھالا۔ نہ امیر جیش سے متعلق کوئی غیر مناسب بات کی جزاک اللہ خیرا۔ ایسے کٹھن راستے پر چلتے چلے جانا آپ جیسے شیروں کا ہی کام ہے۔ سفیان شہیدؒ اور اس کی طرح دیگر شہداء جب دشمنوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو دشمنوں پر گولیاں برساتے ہیں اور دشمن کو مردار کر کے خود بھی شہید ہو جاتے ہیں۔ اللہ اکبر۔ حدیث کے مطابق ساٹھ سال کی مقبول عبادت سے زیادہ اجر عظیم کما جاتے ہیں ۔ اے شہید تو بہترین حافظ اور قاری تھا اسلام مسلمانوں کا خصوصاً وطن پاکستان کا کشمیری ماؤں، بہنوں کا درد مند تھا اللہ تعالیٰ تیری قربانی قبول فرمائے۔ آمین

اے شہیدؒ! آپ کا اور آپ کے امیر جیش کا بہت شکریہ۔ آپ نے ہمیں جہاد جیسے اہم پاک فریضہ کی طرف توجہ دلائی اللہ تعالیٰ آپ دونوں کے درجے بلند فرمائے اور تمہیں ہمارا شفیع بنائے۔

اے دنیا کے کافرو! کفر کے ٹھیکیدارو! تم نے پہلے بھی بڑی بڑی سنگین غلطیاں کیں کشمیر پر چڑھائی کی ، بابری مسجد کو شہید کیا۔ ہندوستان میں مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کی۔ افغانستان میں گھسے، فلسطین پر ظلم کیا۔ شام کے سنی مسلمانوں کو پیسا۔ برما کے مسلمانوں کے جگر گوشوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا بوسنیا صومالیہ تک کے مسلمانوں کو معاف نہیں کیا۔

اے کافرو! اب بھی وہی تاریخ دھرا رہے ہو آئندہ بھی اپنی بد فطری کی وجہ سے بڑی غلطیاں کرو گے تو یاد رکھو مسلمان مائیں کسی زمانہ میں نہ بانجھ ہوئیں نہ اب ہیں نہ آئندہ بانجھ ہوں گی۔ سفیان شہید ؒ جیسے شیر جنتی رہیں گی۔ جو تمہیں سبق سکھاتے ہوئے خود جنت میں چلے جائیں گے کیونکہ مسلمان کو پتہ ہے شہادت کا مٹھاس کیسا ہے۔ ایک مجاہد کو جنت اور جنت کی نعمتوں سے شہادت زیادہ عزیز اور میٹھی ہے۔ مسلمان تمہیں تمہاری غلطیوں کا سبق سکھاتے رہیں گے۔

کاش کفار کو اپنی دنیا و آخرت کی بربادی کا پتہ چل جائے اور اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں مگر بد فطرت باز نہیں آئیں گے تو خوش قسمت بھی میدانوں کا رُخ کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online