Bismillah

656

۲۸ذوالقعدہ تا ۴ ذوالحجہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۷تا۳۰اگست۲۰۱۸ء

مادیت پرستی کی طرف ہمارا تہذیبی و سماجی انتقال" (رضوان چوہان)

 مادیت پرستی کی طرف ہمارا تہذیبی و سماجی انتقال"

رضوان چوہان  (شمارہ 655)

اگرچہ میری عمر اتنی نہیں کہ بڑے بزرگوں کے سے تجربے کی بنیاد پر میں اپنے معاشرے میں تہذیبی و سماجی مد و جزر کا بخوبی جائزہ لے سکوں لیکن مجھے میرے  گزارے ہووے ماہ و سال ہی ہمارے تہذیبی و سماجی تغیر و تبدل کا پتہ بہت آسانی سے دے رہے ہیں میں اپنے بچپن میں جن معاشرتی و سماجی خوبیوں کا مشاہدہ کر آیا ہوں اب مجھے ہماری تہذیب کا وہ حسن و سادگی ہم سے بچھڑتا نظر آرہا ہے، میں نے اپنے بچپن میں جو ایثار و رواداری اور محبتوں کے مظاہر پائے تھے اور ان خوبیوں کی وجہ سے جن فرحتوں کا میں مشاہدہ کر آیا ہوں وہ تمام تہذیبی و معاشرتی گوہر عنقریب موہن جو دڑو کا حصہ بنتے ہووے واضح نظر آرہے ہیں اور مجھے ہماری معاشرتی و سماجی خوبیوں کی موت پر ہماری ناآسودگیوں کا مشاہدہ انتہائی شدت سے ہو رہا ہے، میرے خیال سے ہمارا یہ تنزل بہت ساری جہات میں تیزی سے جاری ہے اور ہمارے اس تنزل کی بنیادی وجہ مادیت پرستی کی طرف ہمارا تہذیبی و سماجی انتقال ہے شاید شاعر نے اسی مناسبت سے کہا ہے :

دام فریب تھا خوشنما الجھایا گیا زمانے کو

آزار بیشمار ہووے اب توڑا گیا پیمانے کو

ہمارا تعلیمی نظام

 مجھ ناقص العقل کے خیال میں ہمارا تہذیبی و سماجی انتقال ہمارے تعلیمی نظام میں فرنگی ذہنیت کے زیر اثر کی جانے والی بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا ہمارا مروجہ نظام تعلیم انسان کو بچپن سے ہی مادیت پرستی کے گھیرے میں کسنا شروع کر دیتا ہے اور ایک ایسی نفسیات اور رحجان کی تشکیل دیتا ہے جو انسان کو دو جمع دو چار کرنے والی ایک مشین بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا یہاں تک کہ اعلی تعلیمی مدارج طے کرتے کرتے انسان مادی حرص و ہوس اور خود پرستی کا شکار ایک مریض بن جاتا ہے جس کا مطمع نظر مال و منصب اور شہرت کے حصول کے سوا کچھ نہیں ہوتا جب انسان کا مقصد صرف مال و منصب اور نام و نمود رہ جائے تو ایسا انسان معاشرے کے لئے باعث تسکین و راحت آخر کس طرح بن سکتا ہے ایسے انسان میں اعلی اخلاقی اقدار اور ایثار و رواداری کا ملنا ناممکن ہے ایسا شخص صرف مغربی برانڈز کا غلام بن جاتا ہے اور مادیت پرستی کے دیس مغرب کی ہر چیز اس کے لئے لائق تقلید ہوتی ہے.

ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں یہ ہم جو کیمبرج اور آکسفورڈ میں یا مقامی مہنگے اسکول و کالجز میں لاکھوں کے اخراجات کر کے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو داخل کرواتے ہیں کیا اس میں کسی اجتماعی سوچ و فکر کا عمل دخل ہوتا ہے ؟ ملک و ملت کی کوئی فلاح درکار ہوتی ہے ؟ اعلی اخلاقی اقدار کا حصول مقصد ہوتا ہے یا مادی فوائد اور مناصب کاحصول پیش نظر ہوتا ہے ؟ جناب میری نظر میں اس سے زیادہ فرسودہ نظام تعلیم کوئی ہو نہیں سکتا جو انسان سے اس کی انسانیت چھین لے اور اسے حرص و ہوس اور شہرت کا متلاشی خود غرض درندہ بنا دے . معاشرے کے ہر شعبے کو جب اسی نظام تعلیم سے آراستہ لوگ مہیا کیے جاتے ہیں تو ان شعبوں کا حال بھی وہی ہوگا شاید آپ کہیں کہ پھر یورپ اور امریکا کا یہ حال کیوں نہیں ہے تو جناب غیر مسلم اقوام اور ملت اسلامی میں ترکیب کا فرق ہے شاہین اگر اڑان چھوڑ کر چاہے کہ وہ کتے کی طرح دوڑے تو وہ چند قدم بھی نہ چل سکے گا اور اپنی آسمانوں کو چھوتی اونچی اڑان سے بھی جائے گا، جناب مغرب کو جن سماجی مسائل کا سامنا ہے اس پر ان کے دانشور خود فکرمند ہیں جس میں ان کا سب سے بڑا مسلہ خاندانی نظام کی موت اور اخلاقی بے راہ روی ہے پھر اس کے نتیجے میں فرد کی تنہائی اور ذہنی ڈپریشن ، دنیا میں سب سے زیادہ خود کشی جاپان میں کی جاتی ہے اور ذہنی ڈپریشن کا مرض سب سے زیادہ سکینڈی نیوین ممالک اور امریکا و برازیل میں ہے.

سائنس اور مادی ترقی، درحقیقت تباہی

سائنس کی جس ترقی کے سہارے مذہب کو کارنر کیا جاتا ہے اسی سائنسی ترقی سے تنزلی ہو رہی بظاہر جو مادی فوائد نظر آرہے وہی درحقیقت مادی طور پر بھی مضر ہیں اور روحانی تنزل کا بھی سبب، بے شمار مصنوعات بنانے کے کارخانے مختلف کیمیکلز اور ٹرانسپورٹ کی آلودگی انسان کو سلو پوائزن زہر دے کر مار رہی ہے، ہمارے ایک آء ٹی کے استاد ہمیں بتاتے تھے کہ شعاع بیسڈ RAY BASED ٹیکنالوجی جتنا آگے جائے گی نسل انسانی کی تباہی اتنا قریب آے گی انسان کو بے شمار بیماریوں کا سامنا ہوگا اور جس سائنس کے سبب بیماریاں ملیں گی وہی سائنس پھر میڈیکل سائنس اور علاج کا احسان جتانے بھی سامنے آجائے گی اور ممکن ہے کہ ان شعاعوں کی بھرمار یا غیر فطری ایٹمی ٹیکنالوجی یا کیمیکلز اور جینیٹکس کی بدولت پورے کرہ ارض پر زمینیں اناج اگلنا بند کر دیں دریاؤں جھیلوں اور سمندروں کے پانی زہریلے ہو جائیں بس وہ زمین پر بسنے والے تمام جانداروں پر قیامت ہوگی جس کی وجہ یہی سائنسی ترقی ہوگی.

سائنس نے انسانوں کو ایسی فریبی چکا چوند اور آسائشوں کے پیچھے گمراہ کیا ہے جس سے انسانیت کا چین سکون لٹتا جا رہا، انسان رشتوں ناطوں سے یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی بچھڑتا جا رہا ایسی آسائشوں کے حصول کی خاطر جن سے حقیقی راحت کا حصول نا ممکن ہے بل کہ انسان کی اصل تباہی تو جدید ترقی کے ہاتھوں برپا ان غیر متوازن معاشی حالات کی بدولت ہے جن کو متوازن کرنے کے لئے انسان خود پاگل بنا پھر رہا اس کے اندر ہی اندر تفکرات اور اندیشوں کے غم اسے مار رہے، ایک عام فرد کے لئے زندگی کی رفتار کا ساتھ دینا نا ممکن ہوتا جا رہا، کریم اور اوبر کے بیشمار ڈرائیورز 15 گھنٹے کی مسلسل ڈرائیونگ کر کے مختلف امراض کا شکار ہو رہے کہتے ہیں کہ ہدف پورا کریں گے تو گھر چلے گا ورنہ جینا مشکل ہے چلیں یہ تو محنت کش لوگ ہیں لیکن سب ایسے نہیں ہوتے اکثریت جائز اور ناجائز کی پرواہ نہیں کرتی چاہے کوئی بھی راستہ مل جائے مال کمانے کا.

دنیا میں ترقی کے نام پر انسان کی خواہشات اور ضروریات میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا گیا، بڑوں کو گاڑی بنگلہ اور برانڈز درکار ہیں تو پھر ایک ایک بچے کو ہزاروں کے موبائلز ٹیبلیٹس اور نہ جانے کیا کچھ چاہیے، بڑوں کے اخراجات ہٹا دیں تو صرف بچوں کے ہی بے شمار رسمی تعلیمی اخراجات (وہ تعلیم جو انسان کو انسان بنانے کی خاطر حاصل نہیں کی جاتی بل کہ آسائشوں، منصب اور نام و نمود کی خاطر مطلوب ہوتی ہے اور جس سے پڑھے لکھے جہلا کا ہی ظہور ہوتا ہے) پھر میڈیا اور دیگر عوامل کے ہاتھوں محلاتی خواہشوں کے جال جس کے سبب ہر فرد اپنی چادر پھاڑ کر جینا چاہتا ہے  ایسی نام و نمود چاہتا ہے جس سے چاہے راحت نہ ملے لیکن معاشرے کی واہ واہ حاصل ہو جائے مختصر یہ کہ کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے سائنسی ترقی نے انسان کو تباہی کا شکار کر دیا ہے ایثار ، رواداری ، دیانتداری ، محبت و خلوص ، سادگی اور قناعت جیسے گوہر اب نایاب ہیں کہ جن کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے، صنعتی انقلاب کا شکار معاشرے اپنے آپ سے بچھڑ چکے ہیں اور وہ معاشرے جو فی الوقت ترقی کے جادو کا شکار نہیں اور کچھ خوبیاں ان میں باقی ہیں وہ بھی اپنا سب کچھ اس سحر کے پیچھے گنوانے کے لئے پر تول رہے ہیں.

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online