Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

ذوالحجہ کے ابتدائی عشرہ کا قیام اور روزہ کی فضیلت (امیر افضل اعوان)

 ذوالحجہ کے ابتدائی عشرہ کا قیام اور روزہ کی فضیلت

امیر افضل اعوان  (شمارہ 656)

حرمت والے مہینوں میں شامل ماہ ذوالحجہ کی بہت زیادہ اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے، ان ایام میں اسلام کا اہم رکن حج ادا کیا جاتا ہے اور اہل ایمان سنت ابراہیمی کی یاد میں قربانی کا اہتمام بھی کرتے ہیں، قرآن کریم میں خالق کائنات ذوالحجہ کی حرمت بارے خود ارشاد فرما ہے’’ بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ ہے، اللہ کی کتاب (لوح محفوظ) میں ، اس دن سے جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا،ا ن میں سے چارمہینے حرمت والے ہیں، یہی دین کا سیدھا راستہ ہے تو ان مہینوں میں قتال ناحق سے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا ‘‘ سورۃ التوبہ ، آیت36، ماہ ذو الحجہ کی حرمت بارے ایک احدیث مبارکہ میں منقول ہے ’’ سال میں بارہ مہینے ہیں، ان میں چار حرمت والے ہیں، تین مسلسل (لگاتار) ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم (چوتھا) رجب المرجب ہے جو شعبان اور جمادی( الآخر) کے درمیان ہے، صحیح بخاری3197، صحیح مسلم 1679، واضح رہے کہ ان چار حرمت والے مہینوں میں تین پے در پے اس لئے ہیں کہ دراصل انہیں حج کے مہینے کہا جاتا تھااور اسی نسبت سے کہ جب حاجی حج کے لئے ذوالقعدہ میںاپنے گھروں سے نکلیں تو لڑائیاں، مارپیٹ، جنگ و جدال، قتل وقتال بند ہو اور وہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں ، پھر ذو الحجہ میں احکام حج کی ادائیگی امن و امان سے عمدگی وشان سے ہوجائے تو حجاج کرام ماہ محرم کی حرمت میں اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیںاور سال کے درمیان میں رجب کو حرمت والا مہینہ بنا نے کی وجہ یہ ہے کہ زائرین اپنے طواف بیت اللہ کے شوق کو عمرہ کی صورت میں ادا کرلیں، قرآن و حدیث کی رو سے ان چار مہینوں میں خصو صاً جنگ وجدال اور دیگر حرام امور سے اجتناب کرنا چاہئے، حتیٰ کی کفار سے لڑنے کی ضرورت ہو تب بھی اس بات کا خیال رکھناچاہئے کہ اس کا آغاز کسی حرمت والے مہینے سے نہ ہو، ہاں اگر کافر حملہ آور ہوں تو پھر دفاع میں ہتھیار اٹھانا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔

ذوالحجہ کا شمار حرمت والے مہنیوں میں ہوتا ہے اور اس حوالہ سے قرآن پاک میں ارشاد باری  تعالیٰ ہے کہ ’’ اے لوگو !جو ایمان لائے ہو، اللہ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو اور نہ حرمت والے مہینوں کی، نہ قربانی والے جانوروں کی، نہ ان جانوروں کی جن (کو اللہ کی نذر کے لئے علامت کے طور پر ان) کے گلوں میں پٹے باندھ دیئے گئے ہوں اور نہ ان (لوگوں) کی بے حرمتی کرو جو اپنے رب کے فضل اور (اس کی) خوشنودی کی تلاش میں بیت الحرام (کعبہ) کی طرف جا رہے ہوں اور جب تم احرام کھول چکو تو شکار کر سکتے ہو، (اور دیکھو،) کسی قوم کی دشمنی جس نے تم کو مسجد حرام (میں جانے) سے روکا ہے تم کو اس بات پر نہ ابھارے کہ زیادتی کرنے لگو (تمہارا دستور العمل تو یہ ہونا چاہئے کہ) نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) میں تعاون نہ کرو اور اللہ (کے غضب) سے ڈرو کیونکہ اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘سورۃ المائدہ، آیت2، قرآن و حدیث کی رو سے ذوالحجہ کے اولین عشرہ کی بہت زیاد فضیلت ہے ،قرآن کریم میں ان دس راتوں کے حوالہ سے ذکر ہے کہ ’’ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی ‘‘ سورہ الفجر، آیت 2،یہاںدس راتوں سے مراد بعض مفسرین نے رمضان کا آخری عشرہ لیا ہے، جن میں لیلۃالقدر ہوتی ہے اور بعض مفسرین نے فجر سے عام فجر نہیں بلکہ یوم النحر یا عید الاضحیٰ کی فجر مراد لی ہے اور دس راتوں سے مراد یکم ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ تک کی راتیں ہیں اور یہ دونوں قسم کی دس دس راتیں بڑی فضیلت والی اور اپنی اپنی جگہ اہم ہیں‘‘اس حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں مرقوم ہے’’ حضرت ابن عباسؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے فرمایا ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں کئے گئے اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام ایام میں کئے گئے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہیں، صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ  ﷺ اگر ان دس دنوں کے علاوہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے تب بھی؟ آپ  ﷺنے فرمایا ! ہاں تب بھی انہی ایام کا عمل زیادہ محبوب ہے البتہ اگر کوئی شخص اپنی جان ومال دونوں چیزیں لے کر جہاد میں نکلا اور ان میں سے کسی چیز کے ساتھ تو واپس نہ ہوا (یعنی شہید ہوگیا) تو یہ افضل ہے‘‘جامع ترمذی، جلد اول، حدیث741،  اس باب میں ابن عمرؓ،  ابوہریرہؓ، عبداللہ بن عمرؓ اور جابر ؓ سے بھی روایت ہے۔

حج کے مہینہ یعنی ذوالحجہ کے ابتدائی عشرہ میں عبادات کی خصوصی اہمیت بیان کی گئی ہے، آپ  ﷺ اس دورانیہ میں عبادت اور روزوں کا بھی ترجیحاً اہتمام کیا کرتے تھے، اس باب میں ایک حدیث میں منقول ہے’ ’ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم  ﷺنے فرمایا اللہ کے نزدیک ذوالحج کے پہلے دس دنوں کی عبادت تمام دنوں کی عبادت سے زیادہ پسندیدہ ہے، ان ایام میں سے (یعنی ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں) ایک دن کا روزہ پورے سال کے روزوں اور رات کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے‘‘ جامع ترمذی، جلد اول، حدیث742،

رسول کریم  ﷺ ماہ ذوالحجہ کے ان ابتدائی دس ایام میں عبادات کا خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے ، ایک حدیث مبارکہ میں ذکر ہے کہ ’’ رسول کریم  ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ ؓسے روایت ہے کہ آپ  ﷺ ماہ ذوالحجہ میں نو روزے رکھتے تھے (یعنی یکم تاریخ سے لے کر نو تاریخ تک) اور عاشورہ کے روز یعنی دسویں محرم کو روزہ رکھتے تھے اور ہر ماہ میں تین روزے رکھتے تھے ایک پیر کا روزہ اور دوسرا جمعرات کا روزہ‘‘سنن نسائی، جلد دوم، حدیث328، درج بالا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل ایام ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیںاور نفل روزوں میں ذوالحجہ کے پہلے نو روز کے روزے زیادہ افضل ہیں ، ان میں نو ذوالحجہ کا روزہ زیادہ درجہ ، اہمیت و فضیلت کاحامل ہے اور ان ایام میں انجام دیا جانے والا ہر عمل دیگر ایام میں کئے جانے والے نیک اعمال کی نسبت زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے ، عشرہ ذوالحجہ میں کئے گئے اعمال کی فضیلت بارے علماء نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں جس کے مطابق اس عشرہ میں یوم نحر، یوم عرفہ اور یوم تویہ آتا ہے، اس لئے یہ عشرہ سال کے تمام ایام سے افضل ہے حتیٰ کہ رمضان المبارک سے بھی ، تاہم رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی راتیں سال کی تمام راتوں سے افضل ہیں کیوں کہ اس کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک شب قدر ہے  اور سال کے تما م دنوں میں ذوالحجہ کے اولین عشرہ کے دن افضل ترین ہیں، معاشرتی طور پر ہم ایام عیدین کے موقع پر جشن عیش وطرب کی محفلیں سجاتے ہیں جب کہ یہ ایام عبادات کی حوالہ سے بہت زیادہ اہمیت اور درجات کے حامل ہیں، ہمیں چاہئے کہ ان ایام میں دنیاوی مصروفیات کو ترک کرکے اپنے خالق و مالک کی خوشنودی کو مقدم رکھتے ہوئے قیام و سجود کا خصوصی اہتمام کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاکہ ہمارے اعمال صالح بروز حشر ہمارے لئے بخشش ونجات کا باعث بن سکیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online