Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

حج کے بعد … چند ضروری باتیں(۱) (محمد ناصرالدین)

حج کے بعد … چند ضروری باتیں(۱)

محمد  ناصرالدین  (شمارہ 659)

اسلام کا اہم ترین رکن حج بلاشبہ ان تمام مسلمانوں پر فرض ہے جو اسے مکمل اوراحسن طورپر اداکرنے کی طاقت اوروسعت رکھتے ہوں، اس اہم ترین فرض کی ادائیگی ہرصاحب وسعت پر عمر میںکم از کم ایک بار فرض ہے اورجس نے قدرت اوروسعت کے باوجود حج نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ یہودی ہوکرمر ے یا نصرانی اوریہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ

وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً۔

اوراللہ ہی کیلئے لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو ۔

حج ایک عاشقانہ عبادت ہے جس کے لئے اللہ کی عبادت کاعاشق دنیا کی ہر چیز کو خیر باد کہہ کرمستانہ وار نکل کھڑا ہوتا ہے اورتکالیف ومصائب کی پرواہ نہیں کرتا اس لئے محض اللہ کی خوشنودی اوراداء فرض وتعمیل ارشاد کی نیت سے حج کریں ،نام ونمود یا سیر وتفریح ،تبدیلی آب وہوا اورحاجی کا لقب حاصل کرنے کیلئے ہرگز سفر نہ کیا جائے اس سے اگرچہ حج کافریضہ ادا ہوجائے گامگر ثواب کی محرومی ہوگی ۔ہر سال کی طرح اس سال بھی اس فرض کی ادائیگی اورحرم محترم کی حاضری کے لئے ہر ملک ،ہر شہر اورعلاقہ سے بندگانِ الٰہی جو ق در جوق پہنچے اورحج کے ارکان کو حتی الامکان خوبی وخوش اسلوبی سے اداکرنے کی کوشش کی ۔ہم میں سے اکثریت ایسے افراد واشخاص پر مشتمل ہے جو حج کرنے کی طاقت اوروسعت رکھنے کے باوجود اس کی ادائیگی میںتساہلی اورکوتا ہی کرکے عذاب جہنم کے مستحق بن رہے ہیں ۔(اعاذنااللہ)

ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ حاجی حج کے بعد خود کو مافوق الفطرت ہستی تصور کرنے لگتا ہے ،اسے دوسروں پر اپنی افضلیت اوراہمیت کااحساس ہونے لگتا ہے ، حج کے باعث غیر حاجی کو حقیر وکمترتصور کیا جاتا ہے ،حج کے بعد اپنے آپ کو حاجی کہلوانے کا شوق اورخبط سوار ہوجاتا ہے ،دوسرے بھی حاجی صاحب کہہ کر پکارتے ہیںاورحاجی اس نئے لقب کو سن کر پھولے نہیں سماتا حالانکہ یہ بھی شیطانی چال ہے ،اپنی عبادتوں کو مشتہر کرناریا ہے ،دکھا وا اورنفاق ہے ، اسلامی تعلیمات کے قطعاً خلاف ہے ۔غورکریں! حج کوئی سند اورڈگری نہیں ہے کہ اس کو کرنے سے آدمی سند یافتہ ہوجائیگا ،بلکہ حج بھی اسلام کاایک اہم رکن ہے ،ایک فرض ہے ،جس فرض کی ادائیگی بلندی  درجات کاباعث اورعند اللہ مسئولیت سے بچنے کا ذریعہ ہے ۔

آج کے دورمیں حج کے نام پر طرح طرح کی بدعات وخرافات جنم لے رہی ہیں ،حج بیت اللہ کے لئے روانگی سے پہلے اپنے عزیزو ں ،دوستوں اورحلقہ یاراں کوباقاعدہ دعوت نامے بھیجے جاتے ہیں ،انہیں دعوت ناموں کے ذریعہ بلایا جاتا ہے، طرح طرح کی تیاریاںکی جاتی ہیں ،شامیانے ،ٹینٹ اورکھانے پینے کا پر تکلف اہتمام ہوتا ہے ،مستورات بھی بے پردہ گھومتی نظر آتی ہیںاورپھر بے پردہ مستورات پر مشتمل کارواں قریبی ہوائی اڈہ ، ریلوے اسٹیشن اوربس اسٹینڈ تک ساتھ جاتا ہے ،فوٹو گرافری ہوتی ہے،محرم اورنامحرم کے فوٹو کھینچے جاتے ہیںویڈیو کیسٹیںتیار کی جاتی ہیں جنہیںاپنے اورپرائے اسکرین پر دیکھتے ہیں ،جن لوگوں کو ایسے مواقع پر حاجی کے ساتھ بطور مشایعت ایسی جگہوںپر جانے کاموقع ملاہے ان سے اس بے پردگی کی تصدیق کی جاسکتی ہے ۔برصغیر پاک وہند وغیرہ کے انٹر نیشنل ہوائی اڈے ایسے موقعوں پر بے پردہ خواتین اورنوجوان لڑکیوں کااڈہ محسوس ہوتے ہیں ،کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ایک فرض کی ادائیگی کے لئے اللہ اوراس کے رسول کی کتنی نافرمانیاں اورلعنتیں ہمارے گلے پڑگئی ہیں ،حاجی کے گلے میں پھو لوںاور روپیوں کے ہاربھی ڈالے جاتے ہیں انہیں بند لفافے پیش کئے جاتے ہیں ، اوراس منظر کو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ کوئی حاجی نہیں ہے بلکہ کسی بارات کا دولہاہے ؟ فیااسفا۔

حضرت مفتی شبیراحمد صاحب لکھتے ہیں:

آج کل کے زمانے میں ایک بیجااسراف اورنئی چیز کادروازہ کھل گیا ہے کہ عورتوں اورمردوں کا بسوں اورگاڑیوں کے ذریعہ ایک حاجی کو لینے کیلئے کافی تعداد میںبارات کی شکل میںائرپورٹ پر پہنچتے ہیں اورجب حاجی صاحب ہوائی اڈے سے باہر آتے ہیںتو حاجی صاحب کے گلے میں سہرہ ڈالاجاتا ہے اورجو عورتیںپہنچتی ہیں ان کوشرم وحیا کاپاس ولحاظ بھی نہیں ہوتا ،اجنبی مردوں کے ہجوم میںاپنی شرم وحیاکوبالائے طاق رکھ دیتی ہیں نیزاگرجہاز لیٹ ہوجائے توایرپورٹ پر اتنی تعداد میں لوگ پڑے رہتے ہیںکہ چلنا پھرنا دشوار ہوجاتا ہے ، اسی طرح ریلو ے اسٹیشنوں کا حال ہے اس کے بعد حاجی صاحب کودُلہابناکر لایاجاتا ہے اورپھر حاجی صاحب اپنے گھر آکر اپنے حج کی دعوت ولیمہ کرتا ہے یہ سب کا سب بیجا اسراف ہے ۔اسی طرح پڑھے لکھے طبقہ میں یہ وباپھیلتی جارہی ہے کہ حاجی یا کسی سرکردہ شخصیت کے فریضہ  حج کی ادائیگی کے بعدباقاعدہ جلسہ منعقد کرکے سپاس نامے  پڑھے جارہے ہیں۔عید الاضحیٰ سے پہلے ایک دوست عالم دین نے بتایا کہ ان کے علاقہ میں کچھ لوگوں کے درمیان اس عنوان پر بات بڑھ گئی کہ ایک عالم دین کا مرتبہ بڑھا ہوا ہوتا ہے یا ایک حاجی کا،وہاں پر موجود اکثریت اس بات کی قائل تھی کہ حاجی کامرتبہ بڑھا ہوا ہوتا ہے اس لئے کہ وہ لاکھوں روپئے خرچ کرکے حاجی بنتا ہے ۔افسوس کی بات ہے کہ ملت اسلامیہ کے درمیان کیسی لغو بحثوں نے جنم لے لیا ہے ۔اندلس پر جس وقت عیسائیوں نے قبضہ کیا اوروہاں کی مسلم حکومتوں کو نیست ونابو د کردیا گیا اس وقت بھی مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ ان کے درمیان یہ بحث ومباحثے ہورہے تھے کہ داڑھی کے ایک بال میں کتنے فرشتے جھول سکتے ہیںاور ایک سوئی کے ناکے پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں؟اس عنوان پر باقاعدہ مناظرے بھی ہورہے تھے اورعیسائی مشن اپنا کام کررہاتھا ،نتیجہ یہ ہواکہ مسلمان مغلوب ہوگئے اورعیسائی غالب ۔

بہرحال حج ایک فرض کی ادائیگی کا نام ہے ،کوئی سند اورڈگر ی نہیں ہے اورعلم دین کا اس قدرسیکھنا کہ حلال وحرام کی تمیزہوجائے ،ہر مسلما ن پر فرض ہے ،ہر عبادت چاہے نماز ہو یا روزہ، زکوۃ ہو یا حج سب میںاخلاص وللہیت، خوف وخشیت ، تقویٰ واحساس بندگی ضروری ہے ،علم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ،حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا یہ فرمان آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

’’ لیس العلم بکثرۃ الروایۃ ولکن العلم الخشیۃ ‘‘(حلیۃ الاولیاء)

کثرت معلومات کانام علم نہیں ہے ،علم تو خوف خدا کانام ہے۔

اسی طرح حج ہے جس کے ارکان کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کے باوجود اللہ سے یہ امید اورتوقع رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے قبول فرمالے تو بڑی بات ہے ورنہ خدا معلوم ہر سال کتنے لوگ حج کرتے ہیں اوران میں سے اکثر کے حج کو قبولیت نصیب نہیں ہوتی ۔

( باقی آئندہ  ان شاء اللہ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online