Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

عدل و حریت کے مہر منیر (عائشہ صدیقی)

عدل و حریت کے مہر منیر

عائشہ صدیقی  (شمارہ 659)

اسلامی تاریخ کی اولو العزم عبقری شخصیت، سرور دوعالمﷺ کے رفیق، اسلامی خلامت کے تاجدار ثانی، قیصر وکسریٰ کے فاتح، آقاﷺ کے پہریدار، وفا کے علمبرار، امام عدل و حریت، فاتح عرب و عجم، خُسر نبیﷺ ، دامادِ علی سیدنا عمر بن خطاب یکم محرم الحرام کو شہید کر دیئے گئے تھے۔

 سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ واقعہ فیل سے تقریبا  ۱۳برس یعنی  ۵۸۳ ہجری کو پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام خطاب تھا اور والدہ کا نام ختمہ بنت ہشام تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب نویں پشت سے سرور کائنات احمد مجتبیﷺ سے جا ملتا ہے۔ عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن رباح بن عبداللہ بن عبداللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب۔الخ

 آپ کا نام عمر، لقب فاروق اعظم اور کنیت ابو حفص تھی۔ آپ نے عرب ماحول میں پرورش پائی۔ آپ کا چہرہ مبارک سفید مائل بہ سرخی، رخساروں پر کم گوشت، مضبوط بدن، قد مبارک دراز، آپ تمام آدمیوں سے اونچے معلوم ہوتے تھے۔  اونٹ چرانے، سپہ گری، شہسواری اور پہلوانی کے فن میں آپ کو کمال درجے کی مہارت حاصل تھی۔

  آپ کے گھرانے میں سب سے پہلے آپ کے بہن اور بہنوئی دین اسلام میں داخل ہوئے۔ ایک دن رسول اللہﷺ نے رب العالمین سے دعا کی: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے کہ دین اسلام کی سربلندی ہو یہ صرف عرب  ہی میں نہیں عجم تک پہنچے۔ اسلام کو عزت اور دوام حاصل ہو تو اے اللہ  !مجھے عمرو اور عمر دونوں میں سے کوئی ایک دے دے۔ اللہ پاک اپنے حبیب کی دعا کو بھلا کیسے رد فرماتے۔

ادھر آپ نے دعا فرمائی ادھر اللہ نے دونوں کے دلوں کو جانچا کہ عمرو کیوں اسلام نہیں لاتا ؟ اور عمر کیوں اس دولت سے بہرور نہیں ہوتا؟ اللہ نے جب دونوں کے دلوں کو ٹٹولا تو عمرو ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسلام سے دور تھا جبکہ عمر نا واقفیت کہ وجہ سے۔ اللہ رب العزت نے نبوت کے چھٹے سال دعائے رسول بنا کر اسلام کی دولت سے مالا مال فرما دیا۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رسول اللہﷺ کی رفاقت کا اعزاز بخش کر عمر کی فضیلت کو دہر میں عیاں کردیا۔

حضرت عمر بن خطاب کی شان، رفعت، مقام و مرتبہ، جلالت اور فضیلت کے بارے میں محسن اعظم شفیع امت حضرت محمد ﷺکے ارشادات ملاحظہ فرمائیں :

فرمایا:لا ریب اللہ نے عمر کی زبان و دل پر حق جاری و ساری فرما دیا۔

حضورﷺ اپنا خوب بیان کرتے ہوئے فرمایا. "میں نے جنت میں سونے کا ایک محل دیکھا، میں نے پوچھا کس کا محل ہے؟ تو جواب دیا گیا عمر بن الخطاب کا"

ایک مرتبہ سرورِ دلبراں حضرت محمد مصطفیﷺ  نے فرمایا   "(اے عمر)جس راستے پر تم چل رہے ہو گے اس پر تمہیں شیطان چلتا ہوا کبھی نہیں ملے گا۔ وہ مجبور ہوگا کہ اپنا راستہ بدل کر دوسرا راستہ اختیار کرے"

سرکار مدینہﷺ نے  فرمایا:میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔(ترمذی)

حضورﷺ ابوبکر و عمر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا "ہم تینوں قیامت  میں اسی طرح اٹھیں گے۔ایک مرتبہ حضورﷺ جبل احد پر تشریف لے گئے۔ اچانک پہاڑ میں ایک جنبش پیدا ہوئی۔ آپ نے فرمایا:"اے احد!ٹھہر جا۔ اس لئے کہ اس وقت تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں۔"

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعدسیدنا عمر بن خطاب کو امیر المومنین خلیفۃ المسلمین بنا دیا گیا۔ آپ کا دور سادہ نفسی عاجزی اور فروتنی کا زندہ و جاوید نمونہ تھا۔ کسی بھی قسم کی رشوت، بے ایمانی،دجل وفریب، جھوٹ، اور جھوٹی سفارش سے پاک خلافت دور اسلامی کی تاریخ کا درخشندہ اور مثالی دور تھا۔ آپ اپنی رعایا کا اتنا خیال کرتے کہ رات کو مدینے کی گلیوں میں گھومتے اور ان کی خبر گیری کرتے۔ خلیفہ بننے کے بعد اپنی ذمہ داریوں کی اتنی فکر کرتے کہ خود فرماتے ہیں کہ اگر دریائے فرات کے پاس کتا بھی پیاسا مرگیا تو عمر سے اس بارے میں سوال ہوگا۔

 ایک دن عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہیں خطبہ دے رہے ہیں۔اتنے میں مجمع سے ایک شخص کھڑا ہوا۔ اور سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کو مخاظب فرمایا اے امیر المومنین !یہ جو آپ کے جسم پر کپڑا ہے یہ زیادہ ہے۔ بیت المال سے جو کپڑا ملا وہ کم تھا۔امیر المومنین نے اپنے بیٹا سے فرمایا: بیٹا !بتائو تمہارے باپ کے جسم پر جو کپڑا ہے۔ کہاں سے لایا ہے؟ حضرت عبد اللہ بن عمر کھڑے ہوئے اور فرمایا۔ میرے والد کو جو کپڑا ملا بہت ہی تھوڑا تھا۔ میں نے اپنا کپڑا ابا جان کو دے دیا تاکہ وہ پورا لباس بنواسکیں۔

آپ نے اپنی خلافت میں شجاعت اور بہادری کے ڈنکے بجائے۔تاریخ میں ایسے کارنامے رقم کئے کہ بڑے بڑے مفکر، خطیب، قلم کار، فلاسفر، مورخ، اور نامور سکالرز سب ہی اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اور صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی آپ کی خلافت پر عش عش کر اٹھے۔آپ نے اپنے دور میں دو بڑی سلطنتوں قیصر و کسری کو فتح کرلیا۔ عراق و ایران، روم، ترکستان اور دیگر علاقوں میں اسلامی پرچم لہرایا۔ آپ نے اپنے دورِ خلافت میں نئے فتح ہونے والے علاقوں میں ۹۰۰مساجد تعمیر کراوئیں۔

 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دورانیہ دس سال چھ ماہ دس دن پر محیط تھا۔ آپ نے  ۲۲لاکھ مربع میل پر اسلامی پرچم لہرایا۔

اللہ جل شانہ نے جتنی حسین زندگی عطا فرمائی اتنی عظیم اور شاندار موت سے ہمکنار فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رب العالمین سے دعا فرمایا کرتے تھے کہ::"اے اللہ!!تیرے راستے میں شہادت چاہتا ہوں اور تیرے حبیب کے شہر میں موت چاہتا ہوں۔"

 اللہ پاک نے دعا کو قبولیت کا درجہ عطا فرمایا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام فیروز عہد فاروقی کی فتوحات سے سخت نالاں تھا، اس کا سینہ بغض و عدوات سے جل رہا تھا اور اس میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ وہ اس تلاش میں تھا کہ کوئی موقع ایسا آئے کہ کسی نا کسی طرح عمر کو نقصان پہنچایا جائے۔

  عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ نماز فجر کی امامت خود سر انجام دیا کرتے تھے یہ ۲۴ ذوالحجہ کی ایک صبح تھی جب عمر، نبی کریمﷺ کے مصلے پر کھڑے نماز پڑھا رہے تھے کہ وہی غلام ابو لولو فیروز جو زہریلا خنجر چھپائے صف میں کھڑا تھا۔ موقع ملتے ہی اس نے عمر رضی اللہ عنہ پر خنجر سے وار کر دیا۔ عمر شدید زخمی ہو کر گر پڑے اور امامت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سپرد کردی۔ ادھر فیروز بھاگنے کی کوشش میں تھا لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین نے صفیں مضبوط کر لیں۔ جب اسے بھاگنے کا موقع نا ملا تو خود اس خنجر سے اپنی جان لے لی۔

 صحابہ کرام نماز سے فارغ ہوئے حضرت عمر ؓنے پوچھا میرا قاتل کون ہے؟ بتایا ایک کافر آپ رضی اللہ عنہ نے کہا الحمد اللہ۔ آپ کو یقین ہوگیا کہ شہادت کی دعا قبول ہو چکی ہے۔ آپ نے اپنے لخت جگر کو اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی طرف بھیجا کہ جائو اجازت لے کر آئو کہ عمر آقاﷺ کے پہلو میں دفن ہونا چاہتا ہے۔ اماں عائشہ نے اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کی خبر سن کر آپ نے چند وصیتیں کیں۔

 آپ زیر علاج تھے بالآخر زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے یکم محرم الحرام کو آپ جامِ شہادت نوش کر گئے ۔ وصیت کے مطابق میت کو اماں عائشہ کے حجرے کے دروازے پر لے گئے۔ دوبارہ اجازت مانگی۔اجازت ملتے ہی آپ کو روضہ رسول کی طرف لے جایا گیا اور پہلوئے آقا مدنیﷺ میں دفن کر دیا گیا۔

اللہ پاک ہم سب کے دلوں کو اصحاب نبی کریم ﷺ کی سچی محبت سے منور فرما کر ان کی مدحت بیان کرنے کی دولت سے خوب مالا مال فرمائے( آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online