Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

ادارہ انسانی حقوق اور پل چرخی جیل (سعود عبدالمالک)

ادارہ انسانی حقوق اور پل چرخی جیل

سعود عبدالمالک (شمارہ 660)

عالمی طاقتوں نے جب سے افغانستان کی سرزمین پر اپنے قدم جمانا شروع کیے ہیں تب سے لے کر اب تک اس ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے صحراؤں، ریگستانوں، پہاڑوں، ندی نالوں، گلی کوچوں، شہروں اور دیہاتوں، جیل خانوں اور میدانوں میں ظلم و ستم کی ہزاروں داستانیں رقم ہیں۔ سرخ ریچھ سے لے کر سفید ہاتھی تک، احمد شاہ مسعود سے لے کر جرنل دوستم تک، بگرام سے لے کر شبرغان تک، دشتِ لیلیٰ  سے لے کر قندوز  تک، جو ظلم وستم ہوا  بہت کم لوگ ہی اس سے واقف ہیں۔ اگر ان کو بیان کیا جائے تو شاید چنگیزخان اور ہلاکو کی روح بھی کانپ جائے۔

انہی داستانوں میں ایک داستان پل چرخی جیل کی ہے  جو چند ہفتوں قبل میڈیا اور سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی لیکن پھر فوراً  ہی غائب ہو گئی یا غائب کروادی گئی ۔ اس کو کیوں ہٹایا گیا ؟ اس کے پیچھے کیا حقائق تھے ؟آخر ہوا کیا؟ ان تمام سوالوں کا جواب جاننے سے پہلے ہم مختصراً پل چرخی جیل کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔اور آپ کو ماضی سے حال تک کی داستان سناتے ہیں۔

پل چرخی جیل جس کو سردار داؤد نے روس کے کہنے پر مجاہدین کے لئے قائم کیا لیکن قدرت کا  عجیب نظام ہے، سردار داؤد کی وفات کے بعد اس کا تمام خاندان اس جیل میں بند ہو گیا اور بند کرنے والا اس وقت حفیظ اللہ امین تھا۔ پھر نورمحمد ترکی نے حفیظ اللہ امین کو قتل کرنے کے بعد اس کا خاندان اس جیل میں بند کر دیا۔ ببرک کارمل آیا تو اس نے بھی اسی روایت کو قائم رکھتے ہوئے نور محمد ترکی کے خاندان کو اس جیل میں بند کر دیا۔ ببرک کارمل کے فرار کے بعد ڈاکٹر نجیب نے ببرک کارمل کے حامی اور مجاہدین کو بند کیا، پھر روس آیا اور پل چرخی کے پیچھے دشت پولیگون قائم ہوا۔ جہاں ہزاروں افراد کو شہید کرنے کے بعد اجتماعی قبروں میں دفن کردیا گیا۔ ڈاکٹر نجیب کو جب اقتدار سے ہٹایا گیا تو اس کو اور اس کے خاندان کو اس جیل میں رکھا گیا۔ طالبان دور حکومت میں ڈاکٹر نجیب کو پھانسی دی گئی اور افغانستان کے جنگجو جوکہ افغانستان پر قابض تھے ان کو قید کر کے اس جیل میں رکھا گیا۔

حالات نے پھر کروٹ بدلی دشمنان اسلام اور عالمی دہشت گرد امریکہ آیا اس نے ان بے گنا ہوں کو جو اسلام کے شیدائی تھے ان کو اس جیل میں بند کیا اور جیل کے اندر جو ظلم وستم کی داستان قائم کی اس نے روس کے مظالم کو پیچھے چھوڑ دیا۔

اس طرح سردار داؤد سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہے اور نہ جانے کب تک  یہ چلتا رہے گا۔ مذکورہ جیل سے وقتاًفوقتاً قیدیوں سے غیر انسانی سلوک کیے جانے کی خبریں منظر عام پر آتی رہتی ہیں ۔ حتی کہ بعض اوقات قیدیوں کی شہادت کی خبریں بھی شائع ہوئیں۔ لیکن افسوس کہ انسانی حقوق کی تنظیموں میں کسی نے بھی نہ روک تھام کی کوشش کی اور نہ آواز  بلند کی۔

اسی جیل میں چند دن قبل قلم شاہ ولد برکت شا ہ  نامی قیدی کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کی وجہ سے وہ شدید علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ پھر کچھ دن بعد صوبہ فاریاب سے تعلق رکھنے والے قیدی شا ہ پسند ولد محمد ہاشم بلاک نمبر 3 میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے کرتے وفات پا گئے۔ مرحوم شاہ پسند ماہ رواں میں دوسرے اور سال میں ساتوں قیدی ہیں جو بیماری کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔پل چرخی جیل میں ان چند سالوں میں خراب صورت حال اور غیر انسانی سلوک کی وجہ سے 100سیاسی اور مجرم قیدی مختلف بیماریوں کی وجہ سے چل بسے۔ مریض قیدیوں کے ساتھ کابل انتظامیہ کے رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے۔ متعدد بیمار قیدی بھی مہلک اور متعدی امراض میں مبتلا ہیں۔ اگر ان کے علاج پر توجہ نہ دی گئی تو خدا نخواستہ وہ بھی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

پل چرخی جیل کے علاوہ قابض فورسز اور کابل انتظامیہ کی تمام جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ کوئی قانون اور اصول نہیں، جس کے تحت قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں نظم اور ڈسپلن ہو۔ کم از کم انسانی سلوک پر مبنی کوئی چال چلن ہو۔ قابض فورسز اور کابل انتظامیہ کی جیلوں میں اکثر قیدی بے قصور ہیں۔ بالخصوص ان میں بیشتر سیاسی قیدی محض شک کی بنیاد پر حراست میں لیے گئے ہیں۔ وہ کئی سال تک کسی عدالتی حکم کے بغیر جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ مذکورہ قیدیوں میں کم عمر بچے اور اسی سال سے زیادہ عمر کے بزرگ بھی موجود ہیں۔ امارت اسلامیہ کی جیلوں میں دشمن کے سیکڑوں اہل کار قیدی ہیں۔ ان کے ساتھ مکمل اسلامی اور انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کے علاج، کھانے پینے اور دیگر اشیائے ضروریہ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ابھی عیدالاضحی کے موقع پر امیر المومنین کے حکم پر سیکڑوں قیدی رہا کیے گئے۔ ان کو نہایت احترام کے ساتھ جیلوں سے رہا کر کے اپنے گھروں تک باحفاظت پہنچانے کا اہتمام کیا گیا۔ دشمن نے قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک اور منفی رویہ اختیار کرنے میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے والا یہی دشمن انسانی حقوق کی حفاظت کی بات کرتا ہے اور مختلف پہلوؤں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتا ہے۔

دوسری جانب امارت اسلامیہ افغانستان کا رویہ یہ ہے کہ وہ قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کی مذمت کرتی ہے۔ قیدیوں کے اسلامی اور انسانی حقوق کی پاس داری کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی تمام تنظیموں اور کارکنوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ خاص طور پر پل چرخی جیل کی موجودہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے مکمل اور فوری کوشش کریں۔

اسی صورت حال کے پیش نظر گزشتہ دِنوں امارت اسلامیہ کے کمیشن قیدی امور کی طرف سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ  وفات پائے جانے والے قیدیوں میں سے کوئی ایسی بیماری میں مبتلا نہیں تھے، جس کا علاج ناممکن ہو، بلکہ جیل انتظامیہ کی عدم توجہ، جیل میں صحت کی سہولیات کی عدم موجودگی اور جیل سے باہر ہسپتالوں میں قیدیوں کو علاج کی اجازت نہ دینا وہ اسباب ہیں، کہ قابل علاج بیماری کے باوجود  بیمار قیدی موت کے حد تک پہنچ جاتے ہیں اور آخرکار اپنی زندگی سے محروم ہوجاتے ہیں۔

پل چرخی جیل میں یہ بیمار قیدی ایسی حالت میں زندگی سے محروم ہورہے ہیں کہ اس سے دو روز قبل  بدنام زمانہ جیل کے ہزاروں قیدی وحشی فوجیوں کی شدید وحشت اور ظلم سے روبرو تھے اور متعدد قیدیوں پرمسلح فوجیوں نے اندوہناک تشدد کیا۔کابل وحشی رجیم کا نہتے قیدیوں کیساتھ یہ ظالمانہ سلوک ایسی حالت میں جاری ہے،جس کا نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار تنظیمیں مشاہدہ کررہی ہیں مگر ان کے خلاف کسی قسم کا ابلاغی ردعمل کا اظہار نہیں کیا جاتا۔ نام نہاد آزاد میڈیا بھی قیدیوں کیساتھ ناجائز رویے کے متعلق خبریں کماحقہ شائع نہیں کرتی اور اس کوشش میں ہے کہ کابل رجیم کے جرائم کو چھپا دیں۔

مزید یہ بھی کہا گیا کہ امارت اسلامیہ اس بات کا عہد کرتی ہے کہ مسلمان عوام اور ان مظلوم اور بے دفاع فرزندوں کی حمایت ہر ممکنہ وسیلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کریگی اور قیدیوں کے غمزدہ خاندانوں کو تسلی دیتی ہے کہ قیدی مظلوم عوام کے ایک حقدار حصے کی طرح امارت اسلامیہ کے ترجیحات میں ہیں اوران کے مشکلات کو پہنچنے کے لیے بھرپور کوشش کریگی۔  ان شا اللہ

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جو آئینہ میڈیا امارت اسلامیہ کے بارے میں ہمیں بتاتا ہے اس کے برعکس وہ لوگ کام کرتے ہیں جس کا انداز طالبان کی قید سے رہا ئی پانے والے لوگوں نے اپنے خیالات میں کیا اور جو لوگ انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں سارا میڈیا ان کا ترجمان ہے تو آج وہ پل چرخی میں ہونے والے ظلم پر خاموش کیوں ہے؟ آخر یہ دوہرا معیار انہوں نے کیوں بنا رکھا ہے؟ ان تمام باتوں کا ایک ہی جواب ہمیں نظر آتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے تعصب!  کیونکہ انسانیت کا درس ہمیں اسلام نے دیا اسلام نے ہی ہمیں بغیر کسی تعصب کے حقوق انسانی سکھا تا ہے جب کہ یہ انسانی حقوق کی تنظیمں ان ہی کا رونا روتے ہیں جہاں سے ان کو فائدہ ہو۔ یہ تنظیمیں بنائی ہی اپنے مفادات کے لئے جاتے ہیں اور ان کے دلفریب نعروں سے بہت سے لوگ دھوکا کھاتے نہیں بلکہ کھارہے ہیں ۔  اگر یہ تنظیمیں واقعی انسانی حقوق کے لئے سرگرم ہیں تو اب تک عراق ، شام ، برما ، کشمیر اور افغانستان میں ہونے والے مظالم پر خاموش تماشائی کیوں بنے بیٹھے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online