Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

انسانی تخلیق اور حقوق و فرائض قرآن و حدیث کی روشنی میں (امیر افضل اعوان)

انسانی تخلیق اور حقوق و فرائض قرآن و حدیث کی روشنی میں

امیر افضل اعوان (شمارہ 660)

تخلیق کائنات پر غور کیا جائے تو یہ احساس اور بھی قومی ہوجاتاہے کہ اللہ رب العزت نے کائنات کا ایک زرہ بھی بے مقصد نہیں بنایا، انسان کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اسے اشرف المخلوقات قرار دیئے جانے کی کوئی وجہ توہو گی، یقینا ہے مگر افسو س کہ آج انسان اپنی تخلیق اور دنیا میں بھجوائے جانے کے مقاصد کو فراموش کربیٹھا ہے اور دنیا کی حرس و ہوس نے اسے اندھا کردیا ہے کہ وہ ان مقاصد کی طرف  رجوع کر نے کو تیا ر ہی نہیں اور اسی لئے حوادث اسے گھیرے ہوئے ہیں ، مسائل اسے تھامے ہوئے ہیں، مشکلات اسے اپنے دامن میں لئے چل رہی ہیں ،پریشانیں اس کی راہ میں خیمہ زن ہیں اور مصائب توگویا اس کی تاک میں رہتے ہیں ، بحیثیت انسان و مسلمان ہمارا سب سے پہلا تعلق اپنے رب سے ہے کیوں کہ وہ ہی ہمارا خالق ومالک ہے، اس حوالہ سے مسلمان کا بیدار قلب اور صاحب بصیرت ہونا اور حکم الٰہی کا مطیع ہونا شرط اول ہے۔

بحیثیت مسلمان ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر، ہر پہلو میں رضائے الٰہی کے حصول کو مقدم رکھے بلکہ اس کو ہی اپنی زندگی اور زندگی کا مقصد سمجھے، مومن کی زندگی سراپا بندگی ہونی چاہئے اسے اللہ تعالی کے فیصلے اور تقدیر پر راضی رہنا چاہئے، نماز ، روزہ، حج، زکواۃ سمیت مومن کو دیگر عبادات کا اہتمام کرنا چاہئے اور ہمیشہ اپنے متعلقین کے بارے میں جوابدہی کا احساس رکھتے ہوئے توبہ  و استغفار  کووظیفہ حیات بنائے رکھنا چاہئے، اپنے خالق و مالک کے بعدانسان کا دوسرا تعلق اس کے نفس سے ہے یہاں اسے اپنے وجود کو اپنے خالق ومالک کی امانت سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت، صفائی اور ہیئت درست رکھنے اور بیماری کی صورت میں علاج کا حکم ملتا ہے، اپنے خالق ومالک کے احکامات کے مطابق  ایک پاکیزہ زندگی گزارے اور حصول علم کو مقدم رکھے، والدین سے تعلق میں مومن کو ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے ان کی قدرومنزلت و حقوق کا خیال کرنا اور ان کی نافرمانی سے بچنا چاہئے، یہاں والدین کے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم ملتا ہے، اس کے بعد جہاں بیوی سے تعلق کی بات ہے وہاں اسے ازدواجی زندگی میں اسلامی طریقہ کا التزام کرنا چاہئے اور باہمی اصلاح کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق صلہ رحمی سے کام لیتے ہوئے رشتہ داروں کے حقوق کو مقدم رکھتے ہوئے قطع رحمی سے گریز کرنا چاہئے، بحیثیت مسلمان ہمیں اپنی رعیت کے حوالہ سے اپنے حقوق و فرائض کاخیال رکھتے ہوئے پڑوسیوں سے بھی نرمی کا برتائو کرنا چاہئے کیوں کہ اس سلسلہ میں بہت سخت وعید یں ہیں،اس کے علاوہ اپنے بہن ، بھائیوں کے ساتھ بھی اخوت ومحبت کا سلوک کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ دوستی اور محبت صرف اللہ پاک کے لئے ہی ہوتی ہے، مومن کے لئے اپنی عملی زندگی میں جھوٹ سے مکمل گریز اور بدعات ولغویات سے اجتناب کرنا ضروری ہے، خوش اخلاقی کو اپنا شیوہ بناتے ہوئے اسے حسد ، کینہ اور منافقت سے دامن بچانا چاہیے۔

قرآن وحدیث میں مومن کے کردار و عمل کی بڑے کھلے انداز میں وضاحت کردی گئی ہے کہ اس کی ذات کسی کے لئے باعث تکلیف اور کسی بھی آزار کا سبب نہ ہو بلکہ عملی زندگی میں مسلمان کو چاہئے کہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہوئے ان کے لئے مشکلات کی بجائے آسانیاں پیداکرنی چاہیں، مومن کے کردار کا احوال بیان کرنے کے لئے سوۃ المومنون ہی کافی ہے، جہاں اللہ پاک خود ارشاد فرماہے کہ ’’بے شک ایمان والے کامیاب ہو گئے، جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں اور جو بیہودہ باتوں سے منہ موڑنے والے ہیںاور جو زکواۃ دینے والے ہیںاور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیںمگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر اس لیے کہ ان میں کوئی الزام نہیںپس جو شخص اس کے علاوہ طلب گار ہو تو وہی حد سے نکلنے والے ہیںاور جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدہ کا لحاظ رکھنے والے ہیںاور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیںوہی وارث ہیںجو جنت الفردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے‘‘ سورۃ المومنون، 1-11، ان آیات مبارکہ میں واضح بیان ملتا ہے کہ مثالی مسلمان کیااور کون ہوتا ہے اور کیسے بن سکتا ہے۔

 معاشرہ میں خود کو دیندار ظاہر کرنے کے لئے ہم  اپنے قول و فعل کا تضاد دور نہیں کرپاتے اور ان تمام امور کو سرانجام دینے میں کوئی باک نہیں سمجھتے کہ جن سے اسلام ہمیں روکتا ہے، آج معاشرہ میں نظر ڈالیں تو بخوبی احساس ہوتا ہے کہ پنجگانہ نماز کی پابندی کرنے والے بھی اکثر افراد جھوٹ، فریب، دغا بازی اور سود سمیت دیگر بہت سے گناہوں سے کنارہ کشی اختیار نہیں کر پاتے کہ جن سے ہمیں ہمارے خالق و مالک نے بہت سختی سے باز فرمایا ہے، جن کی ہمارے پیارے رسول  ﷺ نے مکمل نفی کی اور اس سے بچنے کا درس دیا، افسوس صد افسوس کہ ہم تو خیر الامت کے لقب سے سرفراز کئے گئے ہیں اور بحیثیت امت محمدی   ﷺ ہمار فرض ہے کہ ہم اللہ تعالی کے پیغام کو دنیا کے ہر نفس تک پہنچائیں اوراس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہم اسلام کو اپنی ذات پر لاگو کریں مگر ہماری اکثریت جس دوعملی کا شکار ہے اس کردار و عمل کے تضاد کے باعث آدھے تیتر اور آدھے بٹیر کی صورت معاشرہ میں موجود ہیں تو سوچئے کہ جب ہم خود ہی اپنی اصلاح اور دینی احکامات کو خود پرلاگو نہیں کرسکتے تو دوسروں کو کیا تبلیغ کریں گے اور کیا دین سمجھائیں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online