Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابات (اداریہ)

مقبوضہ کشمیر میں بلدیاتی انتخابات

اداریہ (شمارہ 663)

مقبوضہ کشمیر میں انتخابی ڈرامے کا پہلا مرحلہ جو کہ آٹھ اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے ہڑتال اور الیکشن کے بائیکاٹ کے باعث بُری طرح ناکام ہو گیا۔ بھارتی فورسز اور کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت پسند قیادت کو گھروں میں نظربند کر دیا جبکہ مزید بیسیوں رہنمائوں اور ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ ہڑتال اور مظاہروں کے باعث وادی میں 50فیصد سے زائد حلقوں میں انتخاب ہو ہی نہیں سکا۔ ٹرن آئوٹ بھی انتہائی کم رہا۔جموں کشمیر کی تقریباً ۹۰ فیصد عوام نے اس انتخاب کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا ہے۔خود انڈین میڈیا کے مطابق وادی کے 598وارڈوں کی 172 سیٹوں پر ایک بھی پرچہ نامزدگی داخل نہیں ہو سکا ہے جبکہ 190سیٹوں پر محض ایک ایک امیدوار میدان میں ہے۔تصور کیا جا رہا ہے کہ وادی میں تقریباً 60 فیصد سیٹوں پر پولنگ کا عمل نہیں ہوگا۔جموں و کشمیر میں انتظامیہ کے مطابق 4 مرحلوں پر مشتمل بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلہ کیلئے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے ۔ ریاست میں 13 سال بعد بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ایک درجن اضلاع کے 422 حلقوں میں پولنگ ہوگی۔  ان 422 حلقوں سے 1283 امیدوار مدمقابل ہیں۔ 4 مرحلوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں میں گنتی 20 اکتوبر کو ہوگی۔ اس موقع پر وادی کشمیر کے متعدد حصوں میں انٹرنیٹ کی خدمات بھی معطل کر دی گئی ہے۔خیال رہے کہ علیحدگی پسندوں نے 8 اکتوبرکو پورے جموں وکشمیر جبکہ بلدیاتی انتخابات کی باقی تاریخوں یعنی10 اکتوبر، 13 اکتوبر اور16 اکتوبر کو جن جن علاقوں میں میونسپل انتخابات ہو رہے ہیں ، اس دن اُن علاقوں میں احتجاجی ہڑتال کرنے اور ان انتخابات سے عملاً مکمل طور لا تعلقی کا اظہار کرنے کی کال دی ہے۔کشمیریوں نے جس طرح گزشتہ روز بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا بائیکاٹ کیا اسی طرح ریاستی انتخابات میں بھی ہر بار کیا جاتا ہے۔ ان انتخابات میں زیادہ سے زیادہ 10 فیصد ٹرن آئوٹ کو ریکارڈ سمجھا جاتا ہے۔ کئی امیدوار سو سے بھی کم ووٹ لیکر ریاستی اسمبلی کے ممبر بنتے رہے ہیں۔ ایسے انتخابات کی حیثیت مذاق سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

 بھارت انہی بے حیثیت انتخابات کو کشمیریوں کی اجتماعی رائے قراردے کر اپنے حق میںاستعمال کرتا ہے۔ ان انتخابات میں کشمیریوں کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے عالمی برادری کو ادراک ہو جانا چاہئے کہ کشمیری ایسے بے بنیاد انتخابات نہیں ، بلکہ استصواب رائے کی صورت میں اپنا حق مانگتے ہیں جو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کر رکھاہے۔ مظلوم کشمیری ہمہ وقت اس امید پر حق خودارادیت کیلئے اقوام عالم کے ضمیر کو جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔دوسری طرف بھارت کی یہ ہٹ دھرمی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکی ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online