Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

اخلاقی وعملی فتنے (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

اخلاقی وعملی فتنے

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 663)

’’فتنہ‘‘ کہنے کو تو ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اپنے اثرات اور مفہوم کے اعتبار سے بہت گہرا ہے۔

لغوی طور پر فتنہ کے معنی ہیں ’’امتحان اور آزمائش‘‘ اس بھٹی کو بھی فتنہ کہتے ہیں جس میں سونے چاندی کے میل کچیل کو علیحدہ کیا جاتا ہے۔ گویا کہ آزمائش کے لمحات سے گزر کر ایک مسلمان کندن بن جاتا ہے اور دوسرا شخص میل کچیل کی طرح علیحدہ ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں مصیبت، مشکل، سزا، سختی، گناہ، فسق و فجوراور کفر بھی فتنے کے مفہوم میں داخل ہیں۔

قرآن مجید میں فتنے کا مفہوم کئی معانی میں استعمال ہوا ہے۔ کہیں آزمائش ، کہیں سزا کے معنی میں، اورکہیں کفر ،کہیں فساد کے معنی میں۔

حدیث میں بیان کردہ فتنے کا مفہوم زیادہ تر باہمی فساد، خانہ جنگی اور باہمی کشمکش کی ایسی صورتِ حال پر بولا گیا ہے جب کچھ واضح نہ ہو پائے اور اخلاقیات کی سطح اس قدر گر جائے کہ معاملات سدھرنے کی بجائے اُلجھتے چلے جائیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے آخری محبوب نبیﷺکی زبانی امت مسلمہ کو درپیش ہونے والے فتنوں کی پہلے سے نہ صرف پیشن گوئی فرمائی بلکہ ان فتنوں سے بچنے کی راہ بھی متعین فرمائی۔

’’علمائے ربانین‘‘ امت کے نبض شناس ہوتے ہیں، امت کے حالات میں آنے والے اتار چڑھاؤ اور نشیب وفراز سے وہ مکمل طور پر آگاہ ہوتے ہیں اور اپنی ایمانی بصیرت اور خداداد صلاحیت کے بل بوتے پر وہ امت کے ہر بگاڑ کودور کرنے کی حتی الوسع سعی وکوشش کرتے رہتے ہیں۔ انہیں جب، جہاں اور جس صورت میں موقع ملے، وہ امت کی اصلاح میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھتے۔

انہی علمائے ربانین میں ایک اونچا نام محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کا ہے۔ آپؒ نے آج سے کم وبیش چالیس سال قبل امت میں اٹھنے والے مختلف فتنوں کے بارے میں قلم اٹھایا۔ ان فتنوںکی نشاندہی فرمائی اوران کے علاج بھی تحریر فرمائے۔ لیکن ’’قلندرہرچہ گوید دیدہ گوید‘‘ کے مصداق ایسا لگتا ہے کہ گویا حضرتؒ نے وہ مضامین آج کے حالات اور آج کے مسلمانوں کے بارے میں تحریر فرمائے تھے۔ حضرت والاؒ کے انہیں مضامین میں سے ایک مضمون جو حضرت نے فتنہ کے متعلق تحریر فرمایا افادۂ عام کے لئے نذر قارئین ہے۔

 اللہ پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطافرمائے۔ آمین

’’حق تعالیٰ نے امت محمدیہ کے لئے جس ہادی ورسولﷺ کا انتخاب فرمایا، اسے رحمۃ اللعالمین بنایا۔ اس رحمت کا ظہور بہت سی شکلوں میں ہوا۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ تمام امت خواہ وہ دعوتِ محمدیہ کے سایہ میں آئی ہویا نہ آئی ہو، اس رحمت عامہ کی بدولت عام عذابِ الٰہی سے محفوظ ہوگئی، پہلی امتوں پر طرح طرح کے عذابِ عام نازل ہوئے، جن سے پوری پوری امتیں تباہ وبرباد کردی گئیں۔ بعض کوبندراور خنزیر کی شکل میں مسخ کردیا گیا، بعض پر آسمان سے پتھر برسائے گئے، بعض کو زمین میں دھنسا دیاگیا، بعض کو طوفان کی نذر کردیا گیا اور بعض کو سمندر میں غرق کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرتﷺکی امت کو ان سے محفوظ رکھا۔

صحیح بخاری وغیرہ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔

’’قل ھوالقادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم او من تحت ارجلکم او یلبسکم شیعاً ویذیق بعضکم بأس بعض‘‘

’’تو کہہ اس کو قدرت ہے اس پر کہ بھیجے تم پر عذاب اوپر سے جیسے پتھر برسایا، طوفانی ہوا اور بارش، یا تمہارے پائوں کے نیچے سے، جیسے زلزلہ اور سیلاب وغیرہ یا بھڑادے، تم کو مختلف فرقے کرکے اور چکھا دے ایک کو لڑائی ایک کی۔‘‘ (ترجمہ، شیخ الہندؒ)

جس میں تین قسم کے عذاب سے ڈرایاگیا ہے، آسمانی عذاب، زمین کا عذاب اور باہمی اختلاف کاعذاب تورسول اللہﷺنے پہلی قسم کے عذاب سے نجات کی دعافرمائی اور وہ قبول ہوئی، پھر دوسری قسم کے عذاب سے نجات کی دعاکی اور وہ بھی قبول ہوئی، جب تیسری قسم کے عذاب سے نجات کی دعا فرمائی توقبول نہیں ہوئی جس سے معلوم ہواکہ اس امت کا عذاب آپس کا اختلاف ونزاع ہوگا۔

اس اختلاف کی صورتیں مختلف رہی ہیں، یہ کبھی باہمی خانہ جنگی اور قتل وقتال کی صورت میں ظاہر ہوا، کبھی باہمی نزاع وجدال کی صورت میں نمودار ہوا، کبھی شقاق وافتراق کے راستے سے آیا اور کبھی بدظنی وبدگمانی، طعن وتشنیع اور لعنت وملامت کی صورت میں اُبھرا۔

اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ خلیفۂ مظلوم سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے بعد اس امت پر فتنوں کا دروازہ کھل گیا۔ جنگ جمل، جنگ صفین، واقعہ حرہ، واقعہ دیر الجماجم، واقعہ کربلااور سیدنا حسینؓ کی شہادت وغیرہ، اسی دردناک سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ بہر حال اس امت میں ابتدا ہی سے فتنوں کا دورشروع ہوا اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت میں فتنوں کا دور کم وبیش برابر جاری رہے گا۔ فرق یہ ہے کہ دور اول میں عہد نبوت کے قرب کی وجہ سے امت کا ایمان قوی تھا، یہی وجہ ہے کہ شدید ترین اختلاف اور جدال وقتال کے باجود دور اول کے تمام فتنے امت کے ایمان کو متزلزل نہیں کرسکے۔ بلکہ تمام مسلمانوں کا ایمان اپنی جگہ قائم وراسخ رہا۔

سب سے بڑا اور خطرناک فتنہ وہ ہوتا ہے جس سے زوال ایمان کا خطرہ پیدا ہوجائے، اگرچہ اپنی ظاہری شکل وصورت کے اعتبار سے وہ معمولی معلوم ہوتاہو۔ چنانچہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت کا سب سے بڑافتنہ دجال لعین کا فتنہ ہوگا، جو خدائی کا دعویٰ کرے گا اور ہر قسم کے دجل وفریب سے لوگوں کے ایمان کو غارت کرے گا۔ یہ فتنہ اگرچہ قیامت کے بالکل قریب ہوگا اور قیامت کی علامات کبریٰ میں سے ہوگا تاہم اس کی شدت واہمیت کی بنا پر ہر نبی ورسول نے اپنی اپنی امتوں کو اس فتنہ سے ڈرایا اور اس کے ایمان سوز نتائج وعواقب سے آگاہ کیا مگر چونکہ اس فتنہ کا ظہور امت محمدیہ کے عہد میں ہونا تھا اور اس فتنۂ کبریٰ سے براہ راست اسی امت کا تعلق تھا۔

اس لئے حضرت رسالت پناہ جناب رسولﷺنے بہت وضاحت وصراحت کے ساتھ اس سے ڈرایا اور اس کی واضح علامتیں بیان فرمائیں تاکہ ہر شخص دجالی فتنہ کو پہچان سکے اور امت گمراہی سے بچے… الغرض زوال ایمان کا فتنہ توسب سے بڑافتنہ ہے… اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے اور اس کا ظہور بھی امت کے بالکل آخری دور میں ہوگا لیکن اس کے علاوہ ہردور میں جن فتنوں کا ظہور ہوتارہا ہے… وہ اعمال واخلاق، بدعت والحاد اور تشتُّت وافتراق کے فتنے ہیں۔

ہمارا یہ دور جس سے ہم گزررہے ہیں،گوناگوں فتنوں کی آماجگاہ ہے، ہرطرف سے مختلف قسم کے فتنوں کی یورش ہے ان میں سب سے زیادہ جن فتنوں سے امت کو واسطہ پڑا ہے، وہ اخلاقی و عملی فتنے ہیں۔ عوام زیادہ تراخلاقی فتنوں میں مبتلا اور بدعملی کے فتنوں کا شکار ہیں، فریضۂ نماز میں تساہل، فریضۂ صیام سے تغافل، فریضہ حج وزکوٰۃ میں تکاسل وغیرہ وغیرہ… عبادات ہوں یا اخلاق، معاملات ہوں یا معاشرت ہر شعبہ دین میں بدعملی کا دور دورہ ہے اور بہت سے فتنے اسی بدعملی کے نتائج ہیں۔

ملک میں شراب نوشی، عریانی وبے حیائی، فواحش ومنکرات، مردوزن کے مخلوط اجتماعات، مخلوط تعلیم، تھیٹر اور سینما، ریڈیو اور ٹیلیویژن، زنا اور بدمعاشی، بداخلاقی وبداطواری، لوٹ مار، چوری اور ڈاکہ، رشوت وخیانت، جھوٹ اور بہتان طرازی، غیبت اور چغلی، حرام خوری کی نت نئی صورتیں، حرص دنیا کی خاطر اشیاء خوردنی میں ملاوٹ۔

کہاں تک شمار کیا جائے، بے شماربرائیاں ہیں جو دور حاضر میں اس کثرت سے ظاہر ہوئیں کہ پچھلے زمانوں میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ عقل حیران اور انسانی ضمیر انگشت بدنداں ہے کہ یااللہ! دنیا کیا سے کیا ہوگئی؟ اگر آج قرون اولیٰ کے مسلمان زندہ ہوکر آجائیں اور اس دور کے مدعیٔ اسلام مسلمانوں کے اخلاق وعمل کا یہ نقشہ دیکھیں تو خدا جانے کیا کہیں اور ہمارے بارے کیا رائے قائم کریں۔

’’نعوذباللہ من الفتن ماظھر منھا ومابطن‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online