Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

میرا پیارا بھائی۔۔۔۔۔ شریف اللہ شہیدؒ (۳) (بل احیاء۔ حبیب الحق)

میرا پیارا بھائی۔۔۔۔۔ شریف اللہ شہیدؒ (۳)

حبیب الحق (شمارہ 663)

(گزشتہ سے پیوستہ)

شہید کی والدہ کو خوشبو محسوس ہونا:

شریف اللہ شہیدؒ کی شہادت سے ایک دن قبل یعنی 5 ستمبر بروز بدھ نماز ظہر کے بعد والدہ محترمہ کو اچانک ایک عجیب قسم کی خوشبو محسوس ہوئی۔۔۔ خوشبو اتنی دلفریب تھی کہ والدہ محترمہ کے دل و دماغ کو معطر کردیا۔۔۔ والدہ محترمہ اٹھی اور اپنے کمرے میں الماریوں اور کونے کھانچوں میں وہ خوشبو تلاش کرنے لگی۔۔۔ جب خوشبو نہ ملی تو اپنے نواسوں سے کہا کہ یہ خوشبو کس نے لگائی ہے۔۔۔ سب نے کہا کہ نہ تو ہم نے خوشبو لگائی ہے اور نہ ہمیں محسوس ہورہی ہے۔۔۔ لیکن والدہ محترمہ ماننے کو تیار ہی نہ تھی۔۔۔ گھر میں جتنی قسم کی عطر موجود تھی وہ سب والدہ کو سونگھائی گئی لیکن والدہ فرمانے لگی کہ وہ خوشبو ان سب سے الگ ہے۔۔۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک وہ خوشبو والدہ محترمہ کو اپنے کمرے میں محسوس ہوتی رہی اور پھر ختم ہوگئی۔۔۔۔ یہ یقینا شریف اللہ شہیدؒ کی کرامت اور شہادت کی مقبولیت کی علامت تھی۔۔۔ اور یہ خوشبو اس سے قبل بھی بعض شہداء کے والدین کو محسوس ہوئی ہے ۔ ہمارے پیارے دوست عرفان ببلو شہید رحمہ اللہ کے والد محترم اور حضرت مولانا محمد عارف صاحب (جامعۃ النور) کے چھوٹے بھائی عبدالصمد شہیدؒ کی والدہ کو بھی ایسی خوشبو محسوس ہوئی ہے۔۔۔۔

شہید کا والدہ کے خواب میں آناـ

شریف اللہ شہیدؒ کی شہادت جمعرات کے دن ہوئی جبکہ والدہ کو اطلاع جمعہ کے دن صبح دی گئی۔۔ والدہ محترمہ فرمانے لگی کہ شب جمعہ کی رات کو شریف اللہ شہید میرے خواب میں آیا اور میرے سامنے والی چارپائی پر بیٹھا اور مجھ سے کہنے لگا کہ امی میں بہت سکون میں ہوں آپ نے نہ تو پریشان ہونا ہے اور نہ ہی کوئی ٹینشن لینی ہے۔۔۔ جبکہ میرے دوسرے بھائی رحیم الحق کو بھی جمعہ والے دن خواب میں آیا۔۔۔ بقول بھائی رحیم الحق کے کہ میں جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھ کر 1200 مرتبہ والا کلمہ طیبہ کا معمول کررہا تھا کہ اس دوران میری آنکھ لگ گئی۔۔۔ خواب میں شریف اللہ آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ دیکھو میں تو مرا نہیں ہوں زندہ ہوں اور پھر اپنا ایک پائنچہ اٹھا کر اپنی ٹانگ دکھائی کہ مجھے یہ تھوڑے سے چھرے لگے ہیں باقی میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔

شہید کی شہادت کی مقبولیت کی ایک اور علامت:

میری والدہ محترمہ بلڈ پریشر اور شوگر کی مریضہ ہے۔۔۔ شریف اللہ شہیدؒ کی شہادت کی خبر سننے کے بعد والدہ کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی والدہ محترمہ نے دو رکعت صلوٰۃ الحاجت پڑھی اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! اگر شریف اللہ کی شہادت آپ کی بارگاہ میں قبول ہوگئی ہے تو اس کی شہادت کی مقبولیت کی وجہ سے مجھے شفاء نصیب فرما تاکہ آنے والے مہمان کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ شہادت پر ماں غمگین ہے۔۔۔۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے اللہ سے دعا مانگی اور ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرے تو میری تمام بیماری ایک دم دور ہوگئی گویا کہ مجھے کوئی بیماری تھی ہی نہیں۔۔۔ یہ شہید کی شہادت کی مقبولیت کی واضح دلیل ہے۔

شہید کا والہانہ شوق شہادت:

شریف اللہ شہید رحمہ اللہ آخری بار محاذ پر جانے سے پہلے بہت بدلے ہوئے لگ رہے تھے۔۔۔ نمازوں کے بعد بہت دیر تک مسجد میں رہنا اور دیر تک ذکر و تلاوت میں مشغول رہنا۔۔۔۔ یہ عادت پہلے کی عادتوں سے ہٹ کر تھی۔۔۔ اکثر میں اس کو دیکھتا کہ ذکر، تلاوت اور تسبیحات سے فارغ ہوکر بہت دیر تک اللہ کے سامنے گڑگڑا کر شہادت کی دعا مانگتا رہتا۔۔۔

ایک مرتبہ والدہ محترمہ کے سامنے ایک عجیب خواہش کا اظہار کیا۔۔۔ والدہ صاحبہ فرمانے لگی کہ ایک مرتبہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ مجھے اجازت دو میں جیش محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی دستے میں اپنا نام لکھوانا چاہتا ہوں۔۔۔۔ والدہ محترمہ نے منع کیا کہ آپ کو جہاد سے نہیں روکتی جب دل چاہے چلے جایا کرو شہادت ملنی ہوگی تو بغیر فدائی حملے کے بھی مل جائے گی اور اس صورت میں کم از کم آپ کی قبر کا اَتہ پتہ تو ہوگا۔۔۔ کہنے لگا کہ امی میری قسمت میں فدائی حملے کے علاوہ کہاں شہادت ہو گی۔۔۔ اور پھر کہنے لگا کہ دیکھو نا میں اور میرے بھائی بار بار محاذ جنگ پر گئے ہیں لیکن شہادت ابھی تک کسی کو بھی نہیں ملی۔۔۔ اس لئے میں فدائی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ لیکن والدہ کی طرف سے اجازت نہ مل سکی۔۔۔ بہرحال شہادت کی تڑپ سچی تھی جو اللہ نے پوری فرمائی۔۔۔

شریف اللہ کی عمر جب صرف13 یا14 سال کی تھی تو اس وقت وہ ایک کھیل کھیلا کرتا تھا۔۔۔ وہ یہ کہ دو تین دوست جمع ہوجاتے تھے ۔ پھر شریف اللہ شہید، شہادت کی ایکٹنگ کرتے ہوئے لیٹ جاتا دوسرے دوست اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے اس کے بالوں میں کنگھا کرتے اور نقلی شہید کے اردگر بیٹھ کر شہادت والی نظم چلا کر رونے کی ایکٹنگ کرتے تھے۔۔۔۔ بعض اوقات اس کی ویڈیو بنا کر لوگوں کو دکھاتے تو کوئی یقین ہی نہیںکرتا کہ یہ نقلی شہید ہے۔۔۔ یہ مشغلہ دوران حفظ جامعۃ النور میں بھی جاری رہا جس کا تذکرہ برادر مکرم حضرت مولانا محمد عارف صاحب مدظلہ العالی نے بھی اپنے تاثرات میں کیا ہے جو قارئین کی نذر کریں گے ان شاء اللہ۔

یہ تھا شہید کا شہادت کے ساتھ عشق و جنون کہ زندگی میں نقلی شہادت کی مشقیں کر کرکے بالآخر شہادت کو حاصل کرگیا۔

شریف اللہ شہیدؒ کی شہادت کے موقع پر موجود ساتھیوں نے بتایا کہ جب شریف اللہ زخمی ہوا تو اس وقت بھی وہ اللہ کا ذکر کررہا تھا ایک ساتھی نے بات کرنا چاہی تو اس کو اشارے سے بتایا کہ میں ذکر کررہا ہوں۔۔۔۔ اور پھر ہاتھ اٹھا کر حضرت امیر المجاہدین حفظہ اللہ اور ساتھیوں کے لئے دعا کی۔۔۔ پھر اپنی جیب سے 5000 روپے نکال کر ساتھیوں کو دیئے کہ یہ میری طرف سے صدقہ ہے اس سے اپنی دعوت کرلینا اور پھر حالت ذکر میں اپنی جان جانِ آفریں کے حوالہ کرکے بزبانِ حال کہا؎

جان دی دی ہوئی اس کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوسکا

شہید کے گھر مرکزی حضرات کی آمد:

شریف اللہ شہید رحمہ اللہ کی شہادت کی قبر عام ہوتے ہی مہمانوں کی آمد کا اِک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو تقریباً تین ہفتے گزرنے کے بعد آج بھی جاری ہے۔۔۔ شہید کے گھر جہاں عام مہمانوں کی آمد ہوئی وہاں چند مرکزی حضرات بھی تشریف لائے جن میں سے چند کے اسماء گرامی یہ ہیں۔۔۔ حضرت مولانا محمد عارف صاحب (مہتمم جامعۃ النور)، جناب رشید کامران صاحب (ناظم مرکز بہاولپور)، جناب محمد اسلم صاحب (شعبہ احیاء سنت)، حضرت مولانا امداد اللہ صاحب، حضرت مولانا ریاض صاحب (شعبہ امور شہداء خیبر پختون)، بھائی نعیم اختر صاحب، حضرت مولانا الیاس قاسمی صاحب اس کے علاوہ حضرت امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر صاحب حفظہ اللہ کے برادر صغیر حضرت مولانا طلحہ السیف صاحب، حضرت مولانا مجاہد عباس صاحب، حضرت مولانا ابوجندل حسان صاحب، حضرت مولانا نظام الدین صاحب (ناظم شعبہ ہدایت پاکستان) محترم جناب حذیفہ صاحب (نائب ناظم شعبہ ہدایت پاکستان) کی جانب سے دلی مبارکباد اور قلبی تعزیت کے پیغامات موصول ہوئے۔۔۔۔

برادرم مکرم حضرت مولانا محمد عارف صاحب اور والد محترم حنظلہ شہیدؒ حضرت مولانا محمد نواز صاحب کے تاثرات بھی تحریر کی صورت موصول ہوئے جو افادہ قارئین کی غرض سے پیش خدمت ہے ۔

تاثرات حضرت مولانا نواز صاحب:

حضرت مولانا محمد نواز صاحب حفظہ اللہ کمسن مجاہد اور شہید حنظلہ رحمہ اللہ کے والد گرامی ہیں۔ حنظلہ شہیدؒ 26 رمضان المبارک 1439؁ھ کو وادی میں شہید ہوئے تھے جن پر تفصیلی کالم حضرت مفتی اصغر خان کشمیر صاحب ’’مادر زاد مجاہد‘‘ کے عنوان سے لکھ چکے ہیں۔۔ شہید کے والد محترم کے درج ذیل تاثرات موصول ہوئے۔۔۔

’’اللہ پاک ہمارے اس بیٹے (شریف اللہ) کی شہادت قبول فرمائے۔۔۔ اور والدین کو اور بھائیوں کو، رشتہ داروں کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔۔۔ بہرحال شہادت بہت بڑی نعمت ہے۔ جس بیٹے نے حاصل کی اور خاندان والوں کے لئے بہت بڑی سعادت ہے۔۔۔ آج جب مولانا صاحب آپ کے بھائی کی خبر آئی تو ایک مرتبہ پھر ہم سب گھر والے اکھٹے ہوکر بیٹھ گئے۔۔۔ بالکل حنظلہ شہیدؒ کی شہادت کا وہ منظر یاد کرنے لگے۔۔۔ میری اور اہل خانہ کی طرف سے آپ سب کو مبارک باد (من جناب: والدین، بہن بھائی حنظلہ شہیدرحمہ اللہ)

تاثرات حضرت مولانا محمد عارف صاحب:

شریف اللہ شہیدکی یاد میں :

ہمارے جامعہ کے سابق معروف طالب علم بھائی حافظ قاری شریف اللہ بھی شہید ہوگئے ، اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ مغفرت اعلیٰ شہادت کا مرتبہ نصیب فرمائے آمین ۔ برادر محترم مولانا حبیب الحق کے حکم پر چند یادیں زیر تحریر لارہا ہوں اس تحریر کی برکت سے اللہ پاک ہماری مغفرت فرمائے اور قارئین کو جذبۂ شہادت عطا فرمائے آمین ثم آمین ،کیونکہ مجاھد قرآن کریم کے مطابق ’  اللہ کا محبوب  ‘  ہوتا ہے اور شہید تو پھر عہد وفا کو پورا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید کے مطابق اللہ پاک کا مقرب بن جاتا ہے تو ان مقربین کا تذکرہ بھی اللہ پاک کو محبوب ہے ۔

شریف اللہ شہیدرحمۃاللہ علیہ ہمارے جامعہ میں کئی سال طالب علم رہے اور اللہ پاک نے خوب جہاد کا جذبہ عطافرمایا صرف باتیں نہیں کرتا تھا بلکہ محاذ جنگ کی محبت ان کے دل میں ہر وقت رہتی۔ جب محاذ سے آتے تو بندہ کو محاذ کے احوال بیان کرتے رہتے ۔ ایک دفعہ مرکز شریف سے ہمارے طلباء کرام کے جائزہ کے لئے اساتذہ کرام تشریف لائے ، ان میںمولانا مامون رحمۃاللہ علیہ بھی تھے ، (جوکہ مرکز شریف کے مقبول اساتذہ کرام میں سے تھے اور ناظم تعلیمات بھی تھے )انہوں نے مجھے کہا کہ جب میں حفظ کی کلاس کے جائزہ کیلئے گیا تو وہاں میں نے شریف اللہ کو دیکھا پھر مولانا مامون رحمۃاللہ علیہ کہنے لگے اس سال جب میں (مولانا مامون رحمۃاللہ علیہ ) محاذ پر گیاتھا تو وہاں شریف اللہ نظمیں چلاتا تھا ہمارے آرام میں وہ خلل ڈالتا تھا، پر میں ہنسنے لگاکہ آپ کا اس سے آج پھر واسطہ پڑا بعد میں جب نوجوانی میں مولانا مامون صاحب (رحمۃاللہ علیہ ) کا اچانک وصال ہوا ، اورشریف اللہ شہیدرحمۃاللہ علیہ مجھے ان کے انتقال کے بعد ملے تو میں نے مولانا مامون رحمۃاللہ علیہ والی بات ان کے سامنے دھرائی اور شریف اللہ شہید رحمۃاللہ علیہ کو مزاحاً کہا کہ قیامت کے دن تمہاری خیر نہیں مولانا مامون کو آپ نے محاذ پر تنگ کیا ۔ تو شریف اللہ شہیدرحمۃاللہ علیہ نے بندہ کو اپنے مخصوص انداز میں عاجزانہ کہا کہ میں نے تو کانوں میں ہینڈفری لگائی تھی باہر آواز جاتی نہ تھی میں نے کسی کو تنگ نہیں کیا ، اب تو ا ن شاء اللہ شریف اللہ شہیدرحمۃاللہ علیہ اورمولانا مامون شہیدرحمۃاللہ علیہ (نیت کے لحاظ سے شہید ) آپس میں اکرام و سکون سے گپ شپ لگارہے ہوں گے ، کون کہتا ہے کہ مومن مرگیا ہے ، دراصل وہ اپنے وطن گیا ، آخری ملاقات گزشتہ رمضان ۱۴۳۹؁ھ کو شریف اللہ شہیدرحمۃاللہ علیہ سے ہوئی جب وہ جامعہ میں اساتذہ کرام سے ملاقات کے لئے آئے تھے ، بندہ کے ساتھ مسجد میں کافی وقت محاذ کے احوال کا تذکرہ کرتا رہا ، بس پھر زیارت نصیب نہ ہوئی ۔ اللہ پاک مجھے بھی ان کے ساتھ شہادت عطافرماکر شامل فرمائے آمین ثم آمین ۔       ( باقی آئندہ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online