Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

تشخص پاکستان (سعود عبدالمالک)

تشخص پاکستان

سعود عبدالمالک (شمارہ 662)

گزشتہ دنوں ہمارے بہت ہی عزیزعاجز، ہنس مکھ، قابل ، خاموش طبیت والے ساتھی جو کہ پیشے کے لحاظ سے استاد اور اچھے ماہر تعلیم تھیاپنے پیشے سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے ہمیں تنہا کرکے اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے ۔  انا للہ وانا الیہ راجعون  ہمارے یہ ساتھی ذبیح اللہ خان تو اس دنیا سے رخصت لئے کر چلے گئے لیکن اپنے پیچھے یادوں اور علم کا ایک سمندر چھوڑ گے میں ان کو دوست کم استاد زیادہ مانتا تھا بہت کچھ ان سے سیکھا اور ان کا اپنے پیشے کے ساتھ مخلص ہونا ہمارے لے قابل تقلید ہے میں اپنے رب سے یہی امید رکھتا ہوں کہ اللہ رب العزت نے اس شخص کی بخشش اس بنا پر کرلی ہو گی کہ یہ صرف نام کا ذبیح اللہ نہ تھا بلکہ عمل میں بھی ذبیح تھا اس میں تکبر نام کی کوی چیز مجھے ان بارہ سالوں میں نظر نہیں آی اللہ سے التجا بھی ہے امید بھی ہے اور دعا بھی ہے کہ اس شخص کو جنت میں اعلی و ارفع مقام عطا کرے اور اس کی مغفرت کرے ذبیح اللہ بھای تواس دنیا میں نہیں رہے لیکن دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

ابھی ذبیح اللہ بھائی کا دکھ تازہ ہی تھا کہ ہمارے ایک اور ساتھی عالم، حا فظ ،دلیر جرات مند ، غیرت مند اہلسنت والجماعت پشاور کے صدر مولانا اسماعیل درویش  دہشتگردی کا نشانہ بن کر شہادت کے عالیٰ مقام پر فائز ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

 اللہ رب العزت ان کی شہادت قبول کرے مولانا پیشے کہ لحاظ سے حکمت کا کام کرتے تھے وطن عزیز سے محبت اس قدر رکھتے تھے کہ اپنے دواخانے کا نام بھی پاکستان دواخانہ رکھا ہوا تھا انتہائی فقیر منشا انسان تھے تبلیغی جماعت سے کام شروع کیا اور ناموس صحابہ پر قربان ہو گئے صحابہ کے تحفظ کے لئے پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، ہری پور اور لاہور کی جیلوں میں اسیری کے ایام بھی گزارے حکمت اور عملیات کا کام کرتے دنیا کی لالچ دل میں نہ تھی ساری زندگی کرائے کے گھر میں گزاری اور جب جنازہ اٹھا تو وہ بھی کرائے کے گھر سے ۔ اس سے بڑی دنیا سے بے رغبتی کی اور کیا مثال ہو سکتی ہے  میری تمام مطلقہ و غیر مطلقہ ساتھیوں سے درخواست ہے کہ مولانا اسماعیل درویش اور ذبیح اللہ بھائی کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دودو رکعت نوافل ادا کرے ۔

میرے لئیان دونوں ساتھیوں کی شخصیت قابل فخر ہے اور وطن پاکستان کے لئے قابل افتخارہے ان جیسے اور بھی کئی لوگ ہوں گے جوکہ پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں انہوں نے ہمیشہ وطن کا نام اونچا رکھنے کے لئے اپنی نفس کی خواہشات کو قربان کیا ہو گا لیکن وطن کی عزت کی لاج ہر جگہ رکھی ہو گی۔ اور رکھ رہے ہوں گئے ۔

پچھلے دونوں بہت ہی افسوس ناک واقعی اس  وقت پیش آیا جب کویت سے آئے ہوئے وفد سے بریف کیس  اور بٹواہ چوری ہوا اس خبر نے پاکستان کے تشخص کوجس طرح پامال کیا اس کی مثا ل  ۰ سالہ تاریخ میں نہیں ملتی ۔  اب ہمارے دانشور بہت کچھ کہیں گئے لیکن کسی نے بھی کچھ نہیں کہا سب پر خاموشی کی ہوا لگ گئی کیونکہ چور بھی معمولی نہیں تھا صر ف اور صرف کسی گریڈ کا آفسر تھا ۔ اب اسی طرح کے آفسران صاحبان شکوے بھی کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیرونی ملک جاتے ہوئے ائیر پورٹ پر برا سلوک ہوا تو عرض خدمت ہے کہ آپ کہ اعمال ہی ایسے ہیں کہ آپ کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے ۔

ٓآج پاکستان کے تشخص کو جتنا نقصان اس طبقے نے پہنچایا ہے شاید کسی اور نے نہیں پہنچایا ہو ۔ خیر بات تنقید کی طرف جا نکلی، تنقید مقصد نہیں لیکن آج سے چند سال قبل جب ایبٹ آباد کا واقع ہوا تو بہت سے دانشورں نے اس بات کو  زوروشعور سے اٹھایا کہ پاکستان کے تشخص کو بہت نقصان پہنچا  اب یہ خاموشی کیوں ؟ بس وہی بات آتی ہے کہ دوہرا معیار  کی پالیسی ہے ان کی۔

افسوس ہوتا ہے جب وطن عزیز پاکستان کا نام بدنام ہوتا ہے اس وطن کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو قربانیوں کی ایک طویل داستان ملتی ہے آج بھی یہ ملک اگر قائم ہے تو ان شہداٰ کے خون کی وجہ سے قائم ہے ہمیں اس ملک کے وقار کو بہتر سے بہتر بنانا ہو گا پاکستان کے تشخص سے ٹکرانے والے ہر اس شخص سے لڑنا ہوگا  ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ پاکستان ایک نظریا تی مملکت ہے جس کا ستر برس قبل کوئی وجود نہیں تھا ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے ملک کی کوئی جغرافیائی تاریخ نہیں اور یہ ایک نظریاتی تحریک کے نتیجے میں نظریاتی بنیاد وں پر قائم ہوا ۔اب اس کی حفاظت ہمارا  قومی فریضہ ہے ۔

اب یہ فریضہ کیسے ادا کیا جائے اس کے لئے ہمیں ایمانداری  اور خلوص کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔  اور ہمیں اپنی تاریخ پر نظر ڈالنی ہو گی ۔ مجھ اپنے دوست ذبیح اللہ مرحوم  کی وہ  ورک شاپ  اچھی طرح یاد ہے جس میں انہوں نے لاڈمیکالے کا وہ حوالہ دیکھا یا جس میں انہوں نے اس خطے کے بارے میں کہہ

"I have traveled across the length and breadth of India and I have not seen one person who is a beggar, who is a thief. Such wealth I have seen in this country, such high moral values, people of such caliber, that I do not think we would ever conquer this country unless we break the very backbone of this nation, which is her spiritual and cultural heritage, and, therefore, I propose that we replace her old and ancient educational system, her culture, for if the Indians think that all that is foreign and English is good and greater than their own, they will lose their self-esteem, their native culture and they will become what we want them, a truly dominated nation."

Lord Macaulay's Address To The British Parliament - February 2, 1835:

''میں نے اس ملک انڈیا کے طویل وعریض حصے میں پھرا ہوں مجھ کہی پر بھی کوی بیکاری اور چور نظر نہیں آیا ۔ میں ملک کے جس حصے میں بھی گیا ہوں

وہاں پر اعلی اخلاق واقدار کے لوگ نظر آے میرے خیال سے ہم اس وقت تک اس قوم کو شکست نہیں دے سکتے جب تک ہم ان کی ریڑھ کی ہڈی جو کہ  روحانی اور ثقافتی ورثہ ہے اس کو ختم نہ کردیں میں یہ مشورہ دیتا ہوں کہ ان کا پرانہ تعلیمی نظام اور ثقافت کو  تبدیل کردیا جاے اور انڈین اس سوچ پر مجبور ہو جاے کہ انگریز اور ان کی زبان ان کے لے اچھی اور بہتریں ہے وہ اپنی خود اعتمادی کھو دیں گے اپنی روایات بھی اور یہ وہ بن جایں گے جو ہم چاہتے ہیں یہ ایک مغلوب  قوم بن جاے گی ۔  

یہ خطاب 2 فروری 1835 کو لاڈمے کالے نے برٹش پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کیا۔

اس خطاب کے بعد برطانیہ راج نے وہی کیا کہ سب سے پہلے تعلیم نظام کو تبدیل کیا اور ان لوگوں کو جاہل کہا جو انگریزی نہیں جانتے تھے ۔ اور آج تک یہ نحوست چھائی ہوئی ہے اس لے لاڈ میکا لے کہ تعلیم یافتہ اب بٹوے اوربریف کیس چوری کررہے ہیں بس اللہ ہی ہماری حفاظت کرے اور اس نظام سے ہمیں نجات دے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online