Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

مقبوضہ کشمیر پر بھارتی لشکر کشی کے 71سال (محمد شاہد محمود)

مقبوضہ کشمیر پر بھارتی لشکر کشی کے 71سال

محمد شاہد محمود (شمارہ 667)

71برس قبل 27اکتوبر1947ء کو ایک گہری سازش کے تحت بھارت نے کشمیر پر لشکر کشی کرتے ہوئے اس پر اپنا نا جائز تسلط جما لیا تھا۔ جس کے بعد آج تک وہاں فوجی راج قائم ہے اور بھارت جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کرتے ہوئے کشمیری عوام کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھنے کے لئے تمام حربے آزما رہا ہے۔ اسی روز27اکتوبر کو بھارتی غاصب افواج کی کشمیر پر قبضے کے خلاف کشمیری پوری وادی میں یوم سیاہ مناتے ہیں، اس برس بھی وادی میں مکمل ہڑتال رہی۔ کٹھ پتلی حکومت نے اس موقع پر حریت کانفرنس کی تمام قیادت کو گھروں میں قید رکھا۔ جبکہ شہروں اور دیہاتوں میں کرفیو کی کیفیت تھی، اس کے باوجود کشمیر یوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو 27اکتوبر 1947ء کو بھارت نے جو حملہ کیا وہ ریاست جموں و کشمیر پر نہیں بلکہ براہ راست پاکستان پر تھا، یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر اہل کشمیر نے اپنا تعلق و ناطہ پاکستان سے نہ جوڑا ہوتا تو بھارت کبھی کشمیر پر حملہ نہ کرتا اس کا مطلب یہ کہ اہل کشمیر کو صرف پاکستان سے محبت کی سزا ملی ہے، سزا و جفا کا سلسلہ 71سالوں سے جاری ہے اس کے باوجود اہل کشمیر کی پاکستان کے ساتھ محبت میں کمی واقع نہیں ہوئی، اس لئے کہ اس محبت کی بنیاد دینوی اعراض و مفادات پر نہیں بلکہ دین اسلام پر ہے۔مجاہدین کشمیر اور کشمیری بزرگ قائد سید علی گیلانی اور ان کے رفقاء حریت کانفرنس کے دیگر قائدین و کارکنان کشمیری عوام بھارتی عزائم کی راہ میں چٹان بنے کھڑے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں ،پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں ،سینے پر گولیاں کھا رہے ہیں اور عہد وفا نبھا رہے ہیں۔

71سالوں سے بھارتی قابض افواج نے کشمیریوں کا محاصرہ کر رکھا ہے مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا ایسا خطہ ہے جس میں دس لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے اور نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔جو قرار داد بھارت سلامتی کونسل میںیکم  جنوری1948ء کو لے کر گیا تھا اس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہو سکا جو کہ اقوام عالم کی بے حسی اور ہندوستان کی عکاسی کو ظاہر کرتا ہے۔قرار داد خود ہی پیش کی اور آج تک اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہے۔ بھارتی لشکر کشی کے حوالے سے حریت لیڈر سید علی گیلانی نے کہا کہ 27اکتوبر 1947ء وہ منحوس دن ہے جب کشمیری عوام کی آزادی کو زبردستی ان سے چھین لیا گیا اور بھارت نے ان کی مرضی اور منشاء کے خلاف یہاں اپنی فوج کو اتارا انہوں نے کہا کہ جب سے یہ فوج کشمیری آواز کو دبانے کے لئے ان پر بے پناہ مظالم ڈھا رہی ہے، آج تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے، ہزاروں بے گناہ کشمیری ماورائے عدالت حراست میں قتل اور دس ہزار  سے زیادہ کو لا پتہ کر دیا گیا ہے، ہزار وں بے نام قبریں بھارتی بربریت اور درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ساڑھے سات ہزار خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔ سید علی گیلانی کے مطابق ریاست میں افسپا، ڈسٹربڈ ائریا ایکٹ اورپی ایس اے جیسے کالے قوانین نافذ ہیں اور ان کی وجہ سے پولیس اور فوج کو ستم ڈھانے کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ مودی سرکار نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کی نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ڈھونگ الیکشن کے نام پر بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج میں مزید اضافہ کیا اور اب روزانہ نام نہاد سرچ آپریشن کے بہانے کشمیریوں کا خون بہایاجارہاہے۔گزشتہ چند دنوں میں ڈاکٹر عبدالمنان وانی اور معراج الدین بنگرو سمیت درجنوں کشمیریو ں کو شہید کیا گیا ہے۔ اسی طرح کولگام میں نام نہاد سرچ آپریشن کے بہانے دس کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا جس کے بعد سے پوری کشمیری قوم سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور سری نگر سمیت پورے کشمیر میں احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالیں کی جارہی ہیں تاہم بین الاقوامی اداروں اور ملکوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بھرپور آواز بلند کرے اور بین الاقوامی سطح پر بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کیا جائے۔ کشمیر میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بھارتی فوج کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر نوجوانوں پر گولیاں برسارہی اور ان کی املاک برباد کی جارہی ہیں۔آئے دن کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر کے مساجد سیل کر دی جاتی ہیں اور کشمیریوں کو نماز جمعہ تک کی ادائیگی کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ شہداء کے جنازوں کی ادائیگی پر بھی پابندیاں لگائی جارہی ہیں اور نماز جنازہ پڑھنے والے کشمیریوں پر بغاوت کے مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی سمیت پوری کشمیری قیادت کو نظربند کر دیا گیا ہے اور تحریک آزادی میں حصہ لینے والے سرگرم کشمیری نوجوانوں کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔ بھارت کشمیر میں جس قدر زیادہ قتل و غارت گری کر رہا ہے اسی قدر نوجوانوں میں جذبہ حریت بیدار ہو رہا ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تحریک آزادی میں شامل ہو رہے ہیں۔مظلوم کشمیریوں کی لازوال قربانیوں نے آزادی کشمیر کی منزل کو قریب کر دیا ہے پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے ساتھ ہے۔ کشمیریوں کا لہو بہہ رہا ہو اور پاکستانی قوم خاموش رہے ایسا ممکن نہیں ہے۔ کشمیریوں کی نسل کشی پر انسانی حقوق کے عالمی اداروں اورملکوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ پاکستانی قوم تحریک آزادی میں کشمیریوں کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔کشمیری قوم جس طرح لازوال قربانیاں پیش کر رہی ہے وہ وقت قریب ہے کہ جب جنت ارضی کشمیر پر سے غاصب بھارت کا قبضہ ختم ہو گا اور مظلوم کشمیری مسلمان ان شاء اللہ آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online