Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

آہ غربت کے شب و روز ( محمد فیصل علی )

آہ غربت کے شب و روز

 محمد فیصل علی  (شمارہ 667)

بازار میں بلا کا رش تھا.ہر طرف قیامت خیز شور تھا.کان پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔اس ہنگامہ خیز ماحول میں ہر کوئی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھا۔گاہک دکان داروں سے محو گفتگو تھے۔ خوانچہ فروش اپنی صدائیں لگا رہے تھے۔ رکشہ ڈرائیور مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں مگن تھے..گاڑیوں والے ہارن پہ ہارن بجائے جا رہے تھے تاکہ ان کو راستہ مل سکے...

میں کافی دیر سے اس منظر کا بغور جائزہ لے رہا تھا.. ایسے میں میری نظر ایک سائیکل سوار پر پڑی... اس نے سائیکل روکی.. سامنے ہی ایک مٹھائی والی دکان تھی... وہ سست روی سے دکان کی طرف بڑھا.. اس کے انداز سے ہچکچاہٹ نظر آرہی تھی.. میں نے دیکھا وہ دکان کے اندر داخل ہو گیا تھا.. شیشے کے دروازے سے وہ صاف نظر آ رہا تھا.. اس نے ایک طائرانہ نظر مٹھائی کے سجے تھالوں پہ ڈالی.. دکان دار اس کو دیکھ کر کوئی خاص خوش نہ ہوا تھا.. شاید اس کے پھٹے پرانے لباس کو دیکھ کر.. یا اس کے چہرے پر چھائی غربت کی پرچھائیاں دیکھ کر... اور پھر دکان دار سے رہا نہ گیا.. اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے اس کی آمد کی وجہ پوچھی.. میں نے دیکھا وہ غریب شخص ڈر سا گیا.. اس نے انگلی سے اشارہ کیا..وہاں برفی کا تھال پڑا ہوا تھا.. شاید وہ برفی لینے آیا تھا.. جواب میں دکان دار نے کچھ کہا.. شاید ریٹ بتایا ہو گا اور پھر اس غریب شخص کا چہرہ بجھ سا گیا.. وہ مردہ اور بوجھل قدموں سے واپس مڑا.. دکان کے باہر رک کر اس نے ایک بار اپنی جیب سے پیسے نکال کر گنے اور پھر نفی میں سر ہلاتا ہوا اپنی سائیکل کی طرف بڑھ گیا... گویا اس کے پاس مٹھائی خریدنے کے لیے پیسے ناکافی تھے.. میں نے سوچا کہ یقیناً اس کے بچوں نے فرمائش کی ہوگی.. مگر جب وہ خالی ہاتھ گھر جائے گا تو ان کے ساتھ کیا گزرے گی.. ان کی خواہشات کا کس قدر خون ہوگا.. سائیکل سوار جا چکا تھا.. میں اپنی جگہ سے اٹھا اور آگے بڑھ گیا.. مجھے'' بک سینٹر '' پہ جانا تھا.. تھوڑی دیر بعد میں دکان پر پہنچ کر اپنی مطلوبہ اشیاء کی فہرست سیلزمین کو تھما چکا تھا... اسی اثنا میں مجھے دکان کے اندر ایک بارہ سالہ بچہ اور باپ آپس میں تکرار کرتے نظر آئے..

'' ابو!!  مجھے پچاس روپے والی پانچ کاپیاں درکار ہیں''

لڑکا ضد کر رہا تھا..

بیٹا... آج پیسے کم ہیں.. ابھی تین لے لو

باپ نے بے بسی کے عالم میں اسے سمجھایا..

''نہیں.. ابو.. مجھے بہت مار پڑے گی.. مجھے کاپیاں چاہیئں... وہ لڑکا رونے لگا تھا..

باپ نے جیب سے پیسے نکال کر دیکھے اور بولا

''کرائے کے پیسے بھی نہیں بچے ہیں.. ان چیزوں کو کافی سمجھو.. تم نے پڑھ کر کون سا افسر لگنا ہے.. چپ چاپ گھر چلو..

لڑکے نے اپنا منھ بازوؤں میں چھپا لیا.. وہ رو رہا تھا.. باپ کے چہرے پر افسوس اور بے بسی تھی.. مگر وہ کیا کر سکتا تھا.. اس نے بیٹے کو بازو سے پکڑا اور تقریباً گھسیٹتا ہوا دکان سے باہر لے گیا.. میں سوچ رہا تھا کہ ہماری حکومت اگر بچوں کو سٹیشنری بھی فراہم کرے تو کیا قومی خزانہ خالی ہو جائے گا.. نان سیلری بجٹ کے نام پر ایک خطیر رقم سکولوں کو دی جاتی ہے.. کاش حکومت اس رقم میں سے طلبہ کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے..

یہ لیں جناب... سیلز مین کی آواز نے میری سوچوں کا تسلسل توڑ دیا..

وہ میری مطلوبہ چیزیں کاؤنٹر پر رکھ چکا تھا.. میں نے بل ادا کیا اور سامان اٹھا کر باہر آگیا..

دماغ مختلف سوچوں کی زد میں تھا.. اور پھر میری مشاہدہ کی عادت نے میری توجہ ایک اور منظر کی طرف مبذول کرادی.... ایک معمر خاتون جنہوں نے ہاتھ پہ ڈرپ والا ''برنولہ''  لگایا ہوا تھا... شاید وہ ڈرپ لگوا کے آئی تھیں.. چہرے سے نقاہت عیاں تھی... وہ ایک میڈیکل سٹور پہ کھڑی تھیں.. دکان دار نے ایک سیرپ کاؤنٹر پہ رکھا ہوا تھا... خاتون پیسے دینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھا رہی تھیں مگر دکان دار انکار کر رہا تھا.. شاید یہاں بھی پیسوں کا معاملہ تھا...اور پھر خاتون اسے اپنا برنولہ دکھا کر کچھ کہنے لگیں.. شاید اپنی خراب طبیعت کا ذکر کر رہی ہوں گی.. مگر کم پیسوں سے دوائی نہیں مل سکتی تھی.. لہٰذا وہ ناکام لوٹ آئیں...

یہ مناظر دیکھ کر میرا دل اداس ہو گیا تھا.. میں چاہتے ہوئے بھی ان سب کی مدد نہیں کر سکتا تھا..غربت ہمارے ملک کا بہت بڑا المیہ ہے.. یہاں موجود طبقاتی تقسیم نے محرومی میں اضافہ کیا ہے.. امیر، امیر تر ہو ہو رہا ہے تو غریب، غریب تر... سیاسی جماعتیں اپنی اپنی فکر میں غرق ہیں.. اگر یہ عوامی خدمت گار ہوتے تو سب باتیں بھلا کر عوام کی خدمت میں لگ جاتے.. مگر یہ تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں تاکہ ان کے اقتدار کو طول مل سکے.. کاش ہمیں اچھا حکمران نصیب ہو جائے.. انتخابات کے بعد جو حکومت بننے جارہی ہے.. اس کے دعوے تو بہت ہیں.. اللہ کرے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں.. اور اللہ تعالٰی ہم پاکستانی عوام کو بھی اچھا بنادے.. ہم اپنے اپنے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض سرانجام دیں تو اس ملک میں بہتری آسکتی ہے.. یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا... مگر ہم اسلام کو ہی قتل کر رہے ہیں... کاش ہم اس چند روزہ حیات مستعار کو جاوداں بنا سکیں... کاش اب کی بار منتخب ہونے والے نمائندے سزایافتہ لیڈران سے عبرت حاصل کریں.. آخر میں چند اشعار پاکستانی عوام کے نام

وطن کو سجائیں جو اہل وطن

نظر آئیں ہر سو چمن در چمن

ہماری یہ جنت سلامت رہے

سلامت رہے  تا قیامت  رہے

آمین ثم آمین یا رب العالمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online