Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

فلسطین میں ناجائز یہودی آباد کاریاں (محمد فیض اللہ جاوید)

فلسطین میں ناجائز یہودی آباد کاریاں

محمد فیض اللہ جاوید (شمارہ 668)

کبھی یہودی آباد کاری، کبھی عسکری اور سول مقاصد کے لیے فلسطینی اراضی پر قبضے، کہیں بائی سڑکیں اور کہیں دیوار فاصل۔

یہ ہے غرب اردن کے شمالی شہر سلفیت کے نواحی علاقے "الزاویہ" کا مقدر جس کا قدرتی حسن صہیونیوں کی ان چیرہ دستیوں سے برباد ہوگیا۔ اس پر مستزاد یہودیوںکے لیے قائم کردہ قبرستان ہے جس کی آڑ میں الزاویہ کے قدرتی حسن پر بلڈزور چڑھا دیئے گئے۔

کوئی دن ایسا نہیں گذرتا کہ اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کار "الزویہ" کے فلسطینیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مکروہ حربے اور ہتھکنڈے استعمال نہ کرتے ہوں۔

سہ جہتی چیرہ دستیاں

مقامی فلسطینی کسان عبداللہ شقیر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "الزویہ"  کی اراضی یہودیوں کے لیے "مباح" قرار دی گئی ہے جب کہ فلسطینی جو اس کے حقیقی مالک ہیں اپنی ہی زمینوں سے محروم ہیں۔ "الزویہ" کو تین اطراف سے گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ ایک طرف یہودی آباد کاری کا طوفان بدتمیزی برپا ہے اور دوسری طرف اسرائیلی فوجیوں کی چوکیاں اور کیمپ قائم ہیں جب کہ تیسری سمت سے یہودی کالونیوں کو ملانے کے لیے تعمیر کی گئی بائی پاس سڑکیں ہیں۔

سفلیت گورنری کے یہودی آباد کاری کے امور کے انچارج جمال الدیک نے کہا کہ حال ہی میں یہودی آباد کاروںنے فلسطینیوںکی مزید اراضی ہتھیا لی ہے اور اس پر "مجید دان" کے نام سے ایک نئی کالونی قائم کی گئی ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی حکام کی طرف سے یہاں پر بینر لگائے گئے تھے جن پر یہ تحریر تھا کہ یہ اراضی یہودیوںکے قبرستان کیلیے مختص ہے جب کہ بعد میں اسے صنعتی علاقے کے لیے وسعت دی گئی۔

یہودی آباد کاروں کے لیے قبرستان

"الزویہ"  بلدیہ کے چیئرمین نعیم شقیر نے  کہا ہے کہ "الزویہ"  کی اراضی پر کئی یہودی کالونیاں تعمیر کی گئی ہیں۔ قصبے کی قیمتی اور خوبصورت زمینوں کا ایک حصہ نسلی دیوار کے نیچے آگیا ہے جب کہ اب وہاں پر ایک نیا قبرستان بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ قبرستان کی اراضی کو یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہودی آبادکاروں نے "الزویہ"  کا علاقہ خلایل سیریسیا" کا علاقہ خاص طورپر ہدف بنا رکھا ہے۔ قصبے کی جنوبی سمت میں اسرائیلی فوج نے فوجی زون قائم کررکھا ہے اور آئے روز فلسطینی اراضی کو فوجی مقاصد کے لیے غصب کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی فوج کے مقامی کمانڈر نے خوض 4 کے علاقے کو عسکری اہداف کے لیے استعمال کرنے کا حکم جاری کیا اور وہاںپر بسنے والے فلسطینیوں کو وہاں سے نکل جانے کے ساتھ چھ روز کے لیے فوجی حکم پر اپنا اعتراض جمع کرانے کا نوٹس جاری کیا گیا۔

فلسطین میں یہودی آباد کاری کے امور کے ماہر خالد معالی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے فوجی مقاصد کے لیے اراضی ہتھیانے کا نوٹس ایک ایسے وقت میںجاری کیا ہے جب دوسری جانب "الزویہ"  میں یہودی توسیع پسندی کا سلسلہ بھی زوروں پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "الزویہ"  قصبہ سلفیت کے سب سے زیادہ مصیبت زدہ اور یہودی آباد کاری کی زد میںہے۔

خالد معالی نے بتایا کہ صہیونی فوج نے "برکان" یہودی کالونی کے لیے اراضی ہتھیانے کے بعد "الزویہ"  میں 35 ہزار قبروں کے لیے فلسطینی اراضی  غصب کی۔

٭…٭…٭

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج نے ہر طرح کی دہشت گردی اور جارحیت روا رکھی ہوئی ہے۔ 30 مارچ 2018ء کے بعد حق واپسی اور غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے جاری احتجاج کے دوران قابض فوج نے طاقت کا اندھا دھند استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہروں میں حصہ لینے والے فلسطینیوں پرصہیونی فوج کی طرف سے طاقت کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ فلسطینیوں کے اعصاب کو منجمد کرنے والی آنسوگیس اور خون کی شریانوں کے اندر تک اترنے والی زہریلی گیسوں کا استعمال بھی معمول ہے مگراس کے ساتھ ساتھ  ایک اور چیز بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ وہ یہ کہ اسرائیلی فوج غزہ کی سرحد پر احتجاج کرنے والوں کی ٹانگوں پر گولیاں مارتی ہے تاکہ وہ دوبارہ احتجاج میں شامل نہ ہوسکیں۔

میڈیاکی رپورٹ کے مطابق غزہ کی سرحد پر احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو ٹانگوں سے یا تو معذور ہوگئے ہیں یا ان کی ٹانگیں زخمی ہوئی ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جو ایک یا دونوں پائوں سے معذور ہیں۔ یہ فلسطینی اب تا حیات معذور ہو چکے ہیں۔ان مظاہروں میں اب تک 22 ہزار فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کے پائوں میں گولیاں ماری گئیں اور انہیں جسمانی طور پر معذور کردیا گیا۔

اعصاب شکن حملے

غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے جہاد الاریکہ بھی شامل ہیں۔ جہاد ایک ماہ قبل غزہ کی سرحدی باڑی کے قریب گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔ 23 سالہ جہاد المصری کو دائیں ٹانگ کی پنڈلی میں گولی گلی جس کے نتیجے میں ٹانگ کی رگیں کٹ گئیں اور وہ اب پائوں سے معذور ہوچکا ہے۔جہاد المصری کا کہنا ہے کہ میں مسلسل 45 دن سے شدید تکلیف اور معذوری کی کیفیت میں ہوں۔ زخمی ہونے کے بعد میری ٹانگ کا پلستر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میں ایک سال تک تندرست نہیں ہوسکتا جب کہ معذوری اب پوری عمر کی ہے۔جہاد اب تک متعدد بار اس کی ٹانگ کا آپریشن کیا جا جاچکا ہے مگر اس کی ٹانگ میں لگنے والی گولی کے اثرات کو بچایا نہیں جاسکا۔

مئی کا قتل عام

ایک زخمی فلسطینی نوجوان احمد عیاد نے بتایا کہ وہ 14 مئی کو غزہ کی کی مشرقی سرحد پر جمع ہونے والے مظاہرین میں شامل تھا۔ احمد عیاد کو چودہ مئی کو اسرائیلی فوج نے احتجاج کے دوران گولیاں ماریں۔

اس کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ میں ایک پائوں سے محروم ہوچکا ہوں۔ میری دائیں ران بھی سہولت سے حرکت نہیں کرسکتی۔

اس کے بھائی 32 سالی علاء کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے کی گئی فائرنگ سے ایک گولی میری ٹانگ کے پار ہوگئی تاہم گولی لگنے کے باوجود اس کی ٹانگ کی رگیں بچ گئیں۔

ان دونوں رپورٹس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ اسرائیلی فوج اب کھلم کھلا فلسیطنیوں کے حق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے اس پر پوری دنیا کو ہوش کے ناخن لینے چاہییں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online