Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

امریکہ کا شکست کا اعتراف (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

امریکہ کا شکست کا اعتراف

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 671)

دنیا کی سب سے بڑی قوت افغانستان میں زخموں سے چور چور ہے۔ وہ وہاں ہزیمت پر ہزیمت اٹھا رہی ہے۔ وہ ارض افغانستان میں اسی طر ح گھر چکی ہے اور پھنس چکی ہے جیسے روس اپنی مداخلت کے آخری سالوں میں گھر چکا تھا اور راہ فرار تلاش کر رہا تھا۔ چونکہ امریکہ ڈھیٹ اور ضدی ہے اور گرفتار بلا ہونے کے باوجود اس وقت تک نہیں مانتا جب تک کہ پانی اس کے سر تک نہیں پہنچ جاتا اور وہ غوطے کھانے لگتا ہے۔ سترہ برس تک افغانستان میں جنگ کی آگ میں امریکی ووٹرز کے اربوں کھربوں ڈالر جھونک دینے کے باوجود امریکہ شکست پر شکست کھا رہا ہے مالی نقصان کا تو کوئی حساب نہیں اب امریکہ اور اس کے اتحادی زبردست قسم کا جانی نقصان بھی اٹھا رہے ہیں۔

 افغانستان کے 34صوبوں میں سے 31 صوبوں پر عملاً طالبان قابض ہیں۔ اُن میں سے بعض صوبوں میں اُن کی اپنی حکومت قائم ہے، اُن کا نظامِ عدل نافذ ہے۔ اُن کے احکامات کی اطاعت کی جاتی ہے اور اُن کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں ہوتی۔ کچھ صوبوں کی لوکل باڈیز میں طالبان کے حمایت یافتہ افغانیوں کی حکمرانی ہے۔ افغانستان کے درودیوار پر جو نوشتہ لکھا جا چکا ہے اس میں امریکہ کی شکست بڑے جلی حروف میں تحریر ہوچکی ہے۔

سترہ برس کی مارا ماری میں طالبان تو امریکا، ناٹو، ایساف اور افغان فورسز کو زخم زخم کرنے میں کامیاب رہے اور چالیس فی صد سے زیادہ علاقے پر ان کا کنٹرول بھی قائم ہو گیا۔ امریکا تمام جدید ہتھیاروں اور فضائی برتری کے باجود اپنے مقصد میں کامیاب نہیں رہا۔ امریکی فوجیوں کی گرتی ہوئی لاشیں امریکی عوام کو اس جنگ کے خلاف اُکسانے میں ممدومعاون ثابت ہوتی رہیں۔ اس عرصے میں افغانستان میں دو صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی اور امریکا میں تین صدور جارج بش دوم، بارک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ، افغانستان میں امریکی فوج کے اٹھارہ کمانڈر تبدیل ہوئے جن میں آخری جنرل نکلسن تھے جنہوں نے اپنا چارج اس پیغام کے ساتھ جنرل آسٹن ملر کے حوالے کیا اب وقت آگیا ہے کہ افغان جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔

سترہ برس میں افغان مزاحمتی تحریک کے دو دیومالائی کردار طالبان کے امیر ملا محمد عمر اور حقانی نیٹ ورک کے فکری قائد مولانا جلال الدین حقانی اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے اور مگر حالات کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہا۔ زمینی صورت حال یہ رہی کہ طالبان کی مزاحمت بڑھتی اور پھیلتی چلی گئی وہ امریکی فوج کے مکمل انخلا کے مطالبے سے ایک انچ ہٹنے کو تیار نہیں ہوئے۔

دی ویک میگزین میں امریکی خاتون صحافی بونی کرسٹن کا ایک چونکا دینے والا مضمون ہے۔ جس کا عنوان ہے ’’امریکا کبھی افغانستان میں نہیں جیت سکے گا‘‘ ہے۔ بونی کرسٹن نے کہا ہے کہ ممکن ہے امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد طالبان غالب آجائیں، کابل حکومت گر جائے اور افغانستان پھر امریکا مخالف قوتوں کا اڈہ بن جائے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکا ہمیشہ کے لیے افغانستان میں براجمان رہے۔ بونی کرسٹن نے اپنے مضمون کا اختتام اس جملے سے کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان میں جنگ کو ختم کردیا جائے۔

نیو یارک ٹائمز نے نائن الیون کے سترہ سال مکمل ہونے پر ایک طویل رپورٹ شائع کی ہے جو امریکی نقصانات کی نشاندہی کرتی ہے اور اس سلسلے میں حکومت کی تواتر کے ساتھ ان کوششوں کا بھی پتہ دیتی ہے کہ کس طرح اس نے ان حقائق کو عوام سے پوشیدہ رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں اب تک 2200  امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور840  ارب ڈالر کے اخراجات اٹھانے پڑے ہیں۔ یہ اخراجات بھی نہ صرف جنگوں پر اٹھنے والے اخراجات میں سب سے زیادہ ہیں بلکہ یہ اس رقم سے بھی زیادہ ہے جو امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر مغربی یورپ کی تعمیر پر مارشل پلان کے تحت اٹھائے تھے۔ اس قدر خطیر رقم کی سرمایہ کاری نے پالیسی سازوں پر یہ دباو ڈالا ہے کہ وہ یہ ثابت کرتے رہیں کہ طالبان ہار رہے ہیں اور افغانستان مستحکم ہو رہا ہے۔ اس کے برخلاف حقیقت یہ ہے کہ پچھلے سال سے لے کر آج تک طالبان کے زیر قبضہ علاقوں کی تعداد اور رقبہ، جنگ کے آغاز سے، سب سے زیادہ ہے۔ امریکی فوجی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ 56  فیصد علاقہ افغان فوج اور حکومت کے زیر اثر ہے، جبکہ آزاد ذرائع اس کے برعکس حقائق بیان کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق درحقیقت امریکی دعویٰ ہاتھ کی صفائی ہے، کیونکہ اس علاقہ کا ایک بڑا حصہ وہ ہے جہاں افغان فوج صرف ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر تک محدود ہے اور باقی علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق افغانستان کا63  فیصد علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے۔

جنگوں کی تاریخ میں اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنا اور مد مقابل کے مطالبات کو تسلیم کرنا شکست کہلاتا ہے۔

افغان جنگ میں امریکی شکست کی ابتداء 2007 سے ہوئی، جب برطانیہ نے مزید فوجی بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے اس جنگ کو خود کشی قرار دیا، مگر شکست کا یہ اعتراف اتحادی ممالک اور کرزئی حکومت کی جانب سے تھا۔ جب مختلف اسلامی ممالک پر زور ڈالا گیا کہ مذاکرات کی میز پر امارت اسلامیہ کی قیادت کو بٹھایا جائے مگر امیر المومنین ملا محمد عمر رحمہ اللہ کا جو مطالبہ بارہ 12 سال پہلے تھے، طالبان قیادت کا وہی مطالبہ آج بھی ہے۔ جن میں امریکی افواج کا انخلاء اور امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی دعوت شامل تھا۔ اس کا مقصد امارت اسلامیہ کی طاقت کو تسلیم کرنا اور افغانستان کی سر زمین پر صرف افغانی عوام کی مرضی کے مطابق نیک وصالح قیادت کا قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات کی روشنی میں انتخاب کا حق تھا۔ مگر امریکی سیاست کے جادوگر مجاہدین قیادت کی دقت نظر اور باریک بینی پر مبنی اس دو ٹوک اقدام پر اس وجہ سے رضا مند نہ تھے کیونکہ مجاہدین کی قوت کو نہ ماننے پر امریکا اور اس کے لائے ہوئے حکمران باقاعدہ طور راضی نہیں تھے۔

تاہم شکست کے زخم نے امریکا کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ ناکام حکومت کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا مگر ملا محمد عمر رحمہ اللہ کا وہ اعلان جو 2007 میں کیا تھا، آج تک طالبان قیادت اس سے سرِ مو پیچھے نہیں ہٹی کہ امارت اسلامیہ غیر ملکیوں اور ان کے اشاروں پر چلنے والے چور ڈاکو، غاصب، نا اہل اور ایمان فروشوں کے ساتھ ہر گز مذاکرات نہیں کریں گے مگر گذشتہ دنوں امریکا کی امارت اسلامیہ سے براہ راست مذاکرات کے لیے بیھٹنا جہاں امریکی شکست اور اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر واضح روشنی ڈالتی ہے وہیں امارت اسلامیہ کو ایک منظم حکومت ماننے پر بھی مجبور ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادی مذاکرات کے ٹیبل سے محفوظ راستے کے متلاشی ہیںکیونکہ افغانی تاریخ سے واقف ہر شخص کو معلوم ہے کہ افغانستان بیرونی طاقتوں کے لیے ہمیشہ قبرستان ثابت ہوا ہے۔ تاہم دنیا کو مجاہدین کی فتح اور اپنے مطالبات سے سر مو پیھچے نہ ہٹنے سے امریکیوں کی شکست اور طالبان قیادت کی عوامی قوت کا بھر پور ادراک ہو گیا۔

افغانستان میں سترہ سال سے جاری جنگ میں تمام تر قوت اور جنگی حکمت عملی اختیار کرنے کے باوجود امریکہ افغانستان کے خاک نشین طالبان کے ہاتھوں عبرت ناک شکست سے دوچار ہو چکا ہے اور اب مذاکرات، مذاکرات کے شور میں اپنی ہر شرط سے دستبردار ہونے اور طالبان کی ہر شرط ماننے پر راضی ہو چکا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online