Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

دسمبر کا دکھ درد اور تاریخ کا سبق (نشتر قلم۔زبیر طیب)

دسمبر کا دکھ درد اور تاریخ کا سبق

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 671)

کوئی دوست کام نہ آیا…

۱۵ دسمبر کی شام سب ارباب اقتدار پر امید تھے کہ بھارت کو نکیل ڈالنے کے لئے بحری بیڑہ بس پہنچنے ہی والا ہے اور جیسے ہی بحری بیڑہ بھارتی حدود میں داخل ہو گا، روسی کسی بڑی کشیدگی سے بچنے کے لئے بھارت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔ ساتھ ہی وہ پر امید تھے کہ بھارتی فضائیہ کو نکیل ڈالنے کے لئے چین کی فضائی مدد بھی بس کچھ دیر بعد ملنے ہی والی ہے۔عین اسی وقت ’’ دوست ممالک ‘‘ کی مدد سے ڈھاکہ کے نواح میں ’’ Savar ‘‘کے مقام پر پاکستان کے ۹۰ ہزار فوجی سر جھکائے اپنے ہتھیار ہندوؤں کے حوالے کر رہے تھے۔اور اگلے ہی روز ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو تاریخ نے ایک خونچکاں باب لکھ دیا۔

دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرتی ہیں۔ لیکن ہم بطور قوم تاریخ سے سبق سیکھنے کی روش ابھی تک قائم نہیں کر پائے۔قیام پاکستان کے وقت اس کے لئے قربانیاں دینے والوں نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا ہم اس پاکستان سے کوسوں دور کھڑے ہیں۔دشمنوں کو ہلکا سمجھنا اور ان سے دوستیاں نبھانا آخر کار ہمیں سقوط ڈھاکہ جیسا ناقابل تلافی نقصان پہنچا گیا۔

قیام پاکستان کے وقت دشمن کا خیال تھا کہ یہ ملک چند روز بھی نہیں چل پائے گا۔ اور دوبارہ ہمارے قدموں میں آ گرے گا۔لیکن ہوا اس کے برعکس… جس کی وجہ سے دشمن نے ۱۹۶۵ میں وطن عزیز کو اپنی نفرت کا نشانہ بنایا لیکن جذبی ایمانی کے بھرپور وار سے اسے منہ کی کھانی پڑی۔جس پر دشمن کینہ لیے ہوئے سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کی حکمت عملی طے کرنا شروع کر دی۔آخر کار ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ میں دشمن اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہو گیا۔اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔یہ ایسا زخم ہے جو آنے والی پاکستان کی نسلیں بھی نہیں بھول سکتیں۔یہ زخم ہمیشہ رستہ رہے گا۔اور ملکی تاریخ میں سب سے سیاہ ترین دن رہے گا۔

بطور قوم ہم نے سانحہ مشرقی پاکستان سے کچھ نہیں سیکھا۔آج بھی اسی دشمن سے جس نے ہمارے دو ٹکڑے کر دئیے۔جس نے ہمیں ہر لمحہ صرف نفرت کا تحفہ دیا۔جس نے ہمارے نوجوان، بوڑھوں کو سالہا سال سے قید رکھا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔جس نے کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ہم آج بھی اسی دشمن سے ہاتھ ملانے اور امن کی آشا کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ہمارے ارباب اقتدار اسی دشمن ملک کی یاترا پر جانے کے لئے ویزے کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔نرم ویزا پالیسی کی درخواستیں پیش کی جاتی ہیں۔اور تو اور ہمارے بعض روشن خیال اہل قلم حضرات بھی ’’ مہاتما گاندھی ‘‘ کے لئے روتے نظر آتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے ایک نامور کالم نگار کا مضمون نظر سے گزار جس میں ایک عجیب بات لکھی گئی تھی۔ پڑھ کر دکھ اور افسوس نے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ کہ آخر یہ کالم نگار حضرات قوم کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں۔موصوف لکھتے ہیں:

 

’’ مہاتما گاندھی پاکستان کو اس کے حصے کے ستر کروڑ روپے دلوانے کے لئے لڑتے ہوئے ایک انتہا پسند ہندو کی گولی کا شکار ہو گئے۔لیکن انہوں نے پاکستان میں کبھی کسی کے منہ سے ان کی اس قربانی کے بارے میں نہیں سنا۔ گاندھی پاکستان کے لئے قربانی دے گئے۔ گاندھی پاکستان کو ان کا حصہ دلوانے کے لئے اپنی جان پر کھیل گئے۔ گاندھی کی اتنی بڑی قربانی… اور ہمیں خبر تک نہ ہوئی ‘‘

واہ گاندھی گاندھی کرتے ان کی زبان نہیں تھکی… وہ مشرقی پاکستان کے لئے کیا روتے انہیں گاندھی کی ’’قربانی‘‘ ان سب قربانیوں سے بڑی نظر آئی۔ دل تھا کہ افسوس کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتا چلا گیا۔انہیں پاکستان کی خاطر دی جانے والی لاکھوں قربانیوں کا ذکر پسند نہیں ہو گا شاید… یا پھر انہیں کافر کی مکاری بھول گئی ہے۔اس کالم میں وہ ایک پاکستانی کا روپ دھارنے کی بجائے ایک مکار ہندو بنیے کا روپ دھارے ہوئے تھا۔ جو اپنے من پسند ’’ گاندھی ‘‘ کی ویلیو کو بڑھانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔

اس بار سکھوں سے یاری دوستی لگا کر ان کے لئے ایک راہداری کا بندوبست کیا گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت اس موقع پر جوش و جذبے کا اظہار کر رہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ سکھ قوم مسلمانوں کی کس قدر بڑی دشمن ہے اس کا اندازہ تاریخ سے ضرور لگائیں۔مگر تاریخ سے ہم سبق نہیں سیکھتے۔ یہی المیہ ہے اس قوم کا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online