Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

آہ!زوہیب اورنگزیب شہیدؒ (بل احیاء۔ نعمان اورنگزیب)

آہ!زوہیب اورنگزیب شہیدؒ

نعمان اورنگزیب (شمارہ 671)

2015ء کاسال بھی دم توڑرہاتھااورنومبربھی سردی کی چادراوڑھے ہم سے الوداع ہورہاتھا۔عجیب ساسماں تھاعجیب سا منظرتھادن کٹ رہے تھے اورزوہیب اورنگزیب شہیدکاانتظاربھی عروج پرتھا۔ہرشام ڈھلتے ،والدہ محترمہ کایک ہی جملہ سنائی دیتا،بتائوزوہیب کب آئے گا۔جوکہ جہادی محاذ پر عالم کفرکے خلاف برسرپیکارتھا،خیروقت سمٹتاگیااورانتظارکی گھڑیاں ختم ہوتی گئیں۔تیس نومبرکادن تھااپنے ہی گائوں میدان کے ایک سکول میں حجامہ کیمپ کی تربیت رکھی تھی جس میں جماعت کے ایک ماہرحجامہ کوبلوایاتھااوروہ حجامہ لگارہے تھے اورمیں لوگوں کی اس طرف رغبت دیکھ کرخوش ہورہاتھانہ جانے کیوں والدمحترم جوکہ بیرون ملک روزگارکے لیے گے تھے وہ باربارمجھے فون کرتے رہے اورگھرکی خیریت کے بارے میں معلوم کرتے اورفون کاٹ لیتے۔وقت گزرتاگیااورعصرکاوقت داخل ہوگیا۔میں اپنے مہمان بھائی حجامہ والے کی تواضع کی خاطرکچھ لانے کے لیے بازارگیا،اسی اثناء میں انہیں مفتی مسعودالیاس صاحب کافون آیا  اورانہوں نے مجھے راولاکوٹ لانے کوکہاخیرحجامہ کیلئے اس وقت لوگوں کارش کم ہوگیاتھا۔ہم نے نمازعصرپاس ہی مسجدمیں اداکی اوروہ مجھے کسی جماعتی عذرکے بہانے راولاکوٹ جانے کے لیے آمدہ کرگئے،وقت بہت بیت چکاتھاہم شہرکی طرف گامزن سفرہوئے آدھ گھنٹے کی مسافت کے بعدہم راولاکوٹ پہنچے۔اس سے قبل راستے میں وہ مجھے حوصلہ دیتے رہے اورمختلف پہلوئوں سے میری ہمت بڑھاتے رہے جب ہم شہرمیں داخل ہوئے تومغرب کاوقت ہوچکاجلدی سے ہم ایک مسجدمیں نمازمغرب اداکی اورشہرکی مرکزی جامع مسجدکی طرف چل دیئے جہاں ہمارادفتربھی قائم تھا۔ابھی بائیک سے اترہی رہے تھے کہ انہوں نے مجھے ایک ہی سانس میں کہہ دیاکہ نعمان بھائی زوہیب بھائی کی شہادت ہوچکی ہے۔ یہ سنتے ہی میرے اوسان خطاہوگئے کچھ لمحات کیلئے میں وہیں بے حس وحرکت کھڑارہاپھرخودکوسنبھالتے ہوئے رب کاشکراداکیااوران سے اجازت لے کرمسجدکی طرف چل دیاوضوکیادورکعات صلا الحاجت اداکی اوراپنے بھائی کی شہادت مقبولیت کے لیے دعاکی اوراللہ سے صبرہمت واستقامت مانگی۔بے شک شہادت اونچامقام ہے ۔جدائی کاغم توانسان کی فطرت میں ہے خیروہاں سے دفترپہنچاجہاں مجھ سے پہلے ہی میرے بہت ساتھی واحباب میرا انتظارکررہے تھے جن میں مفتی مسعودالیاس صاحب بھی تھے میں بھی خاموشی سے ان کے درمیان جاکربیٹھ گیا۔اب یہ مشورہ ہورہاتھاکہ زوہیب بھائی کاجسدخاکی ہم منگوائیں یانہ ۔سب سے مشورہ ہواسب نے اپنی نیک خواہشات کااظہارکیاساتھ ہی مجھ سے بھی پوچھاگیا۔جوکہ مشورہ کے طورپرتھاکہ اگرزوہیب شہید کا جسد خاکی کے لانے سے اللہ کے دین کونفع پہنچتاہے تو بے شک منگوائیں اوراس سے جہاداوراللہ کے دین کونفع نہیں پہنچتاتوبے شک نہ منگوائیں۔ خیرفیصلہ اسی پرہواکہ جسدخاکی منگوایاجائے گا ۔ کچھ ہی وقت کے بعدخبرآئی کہ جسدخاکی راولپنڈی پہنچ چکاہے۔وقت کافی بیت چکاتھااب دشواری یہ تھی کہ والدمحترم کوخبرکس طرح دی جائے کافی سوچ وبچارکے بعدوالدمحترم کوفون کیااوروہ توتوقع کے برعکس پہلے سے تیاربیٹھے تھے۔اللہ پاک کاشکراداکیااوران سے کہہ دیاکہ جسدخاکی راولپنڈی پہنچ چکاہے اورصبح ان شاء اللہ سپردخاک کیاجائے گا۔یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ والدمحترم کومجھ سے پہلے کیسے خبرہوئی اوراتنے سخت حالات میںکس طرح جسدخاکی راولپنڈی پہنچ گیا۔پوچھنے پروالدمحترم نے وضاحت کی کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں رات کوجب میں سویازوہیب اورنگزیب شہیدمیرابیٹامجھ سے ملاقات کرنے آیاتھااورمجھ سے الوداعی ملاقات کرکے اجازت لے کرچل دیاتھا۔دوسری بات یہ ہے کہ اتنے نامساعدحالات میں جسدخاکی راولپنڈی کیسے پہنچااس میں بھی زیادہ ترددمیں جانے کی ضرورت نہیں رات کوجب میری آنکھ کھلی تووہ رب سے قربت کاوقت تھامیں اٹھاوضوکیااورمسجدمیں گیا اوردورکعات نمازصلاۃ الحاجت پڑھے اور سربسجودہوکررب سے ملاقات کرکے آنسو بہا کر رب کومنوایاکہ یااللہ! اگرزوہیب کی شہادت ہوگئی ہے تواس کومجھ سے ضرور ملانا اور اگرزندہ ہے تواسے ثابت قدم رکھنااس کی حفاظت فرمانا ۔ خیراب مشکل یہ تھی کہ جب میں نے والدمحترم کو مطلع کیاتووہ بہت ساوقت بیت چکاتھافرمانے لگے کہ اب توآدھی رات ہونے کوہے اب تودفتربھی بندہوچکے ہیں چھٹی مل نہیں سکتی اورنہ ہی پاسپورٹ مل سکتاہے خیراللہ کی شان بہت ہی نرالی اوربہت ہی بڑی ہے۔ ہرچیزپروہ ذات قادرہے،صبح نوبجے والدصاحب گھرپہنچ گے اور ان کی دعانے رنگ لایااورانہوں نے زوہیب شہید کاآخری دیدارکیا۔مشورے سے لحدکی جگہ کاتعین کیاگیااوربعدازنمازظہرزوہیب شہیدکے جسدخاکی کوسپردخاک کردیاگیا۔ اوراہل محبت نے دیکھاکئی دنوں تک زوہیب شہیدکی لحدسے خوشبوآتی رہی۔اللہ پاک ہم میں سے ہرایک کو مقبول شہادت عطافرمائے اورزوہیب شہید کو ہماری بخشش کاذریعہ بنائے ہمیں سعادت کی زندگی اورشہادت کی موت عطافرماء۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online