Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

قادیان براستہ کرتارپور (سلیم اللہ شیخ)

قادیان براستہ کرتارپور

سلیم اللہ شیخ (شمارہ 671)

پاکستان آمد سے لے کر کوریڈور کے افتتاح تک ساری باتوں کا بغور جائزہ لیں تو بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ عمران خان صاحب کی حکومت ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت قادیانیت ، لبرل ازم ، سیکولر ازم کو فروغ دینے اور دینی جماعتوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔آسیہ مسیح کی سپریم کورٹ سے ایک سنوائی کے بعد ہی رہائی اور اس کو نام تاحال ای سی ایل میں نا ڈالنامذہبی جماعتوںکے خلاف کریک ڈائون ، پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی قرارداد پیش کرنااسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

نوجوت سنگھ سدھو کو ذاتی حیثیت میں بلایا جاتا ہے، ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ ، وزارت یا ذمے داری نہیں ہے اور نہ وہ بھارتی حکومت کی نمائندگی کرنے تقریب حلف برداری میں آئے تھے، بلکہ وہ عمران خان صاحب کے ذاتی دوست کی حیثیت سے اس تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ اب ایسے بندے کو یہ پیشکش کرنا یا کہنا کہ ہم کرتار پور بارڈر( جوکہ ایک بین الاقوامی بارڈر ہے) کھولنا چاہتے ہیں لیکن آپ کی حکومت نہیں مان رہی۔ کیا یہ بات کرنا درست تھا؟؟ اگر ہمارے یہاں سے کوئی فرد ذاتی حیثیت میں کسی تقریب میں جاتا اور اس سے ایسی بات کی جاتی تو ہمارا کیا رد عمل ہوتا؟

اس کے بعد یہ بھی خیال رہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میںملوث رہا ہے، وہ ہمیشہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور یہ کام وہ بہت عرصے سے کررہا ہے، سقوطإ ڈھاکہ میں بھی بھارت کا ہاتھ تھا، اس سے بھی قبل بھی اگرتلہ سازش کیس سامنے آچکا تھا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد یہ بھی واضح ہوا کہ گزشتہ برسوں میں پاکستان میں دہشت گردی کی واداتوں بالخصوص پاکستان بحریہ کے جوانوں اور ان کے اڈوں پر حملوں کا ماسٹر مائنڈ کلبھوشن ہی تھا۔ حال ہی میں چینی سفارتخانے پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے میں بھی بھارت کا ہاتھ تھا۔تو کیا بھارت اس کاریڈور کے کھلنے اور ویزہ فری ہونے سے فائدہ نہیں اٹھائے گا؟؟ کیا وہ اپنے جاسوسوں کو اس راستے سے پاکستان میں داخل نہیں کرے گا؟

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے خلیفہ مرزا طاہر انگریزوں کے وفادار، ہندوئوں کے حامی اور تقسیم ہند ، قیام پاکستان کے مخالف رہے ہیں، تقسیم کے فارموے ابتدائی فارمولے میں موجودہ مشرقی پنجاب کا ضلع گورداس پور مسلمان آبادی کی اکثریت کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا تھا، اس ضلع کی اہمیت یہ ہے کہ بھارت کے پاس کشمیر جانے کے لیے یہ واحد زمینی راستہ تھا۔ قادیانیوں کی پوری کوشش ہے کہ ان کی اپنی ایک ریاست ہو،اس لیے مرزا طاہر اورسر ظفر علی خان نے حکومت برطانیہ کو یہ باور کرایا کہ ہمیں مسلمانوں میں شامل نہ کیا جائے بلکہ اس ضلع میں تو احمدی ( قادیانیوں) کی اکثریت ہے ، ان کا خیال تھا کہ اس طرح ان کو بھی ایک الگ ریاست مل سکے گی ، ان کو ریاست تو نہ مل سی لیکن ان کی اس بات کو بنیاد بنا کر آخری وقت میں گورداس پور کو پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا اور اس طرح انڈیا کو کشمیر تک زمینی راستے تک رسائی دی گئی۔ تقسیم ہند کے وقت مرزا طاہر نے قادیانی ریاست کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو خصوصی طورپر اپنا ہدف بھی قرار دیا تھا، لیکن اللہ نے ان کو اس ارادے میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ او ر موجودہ حکومت کی قادیانیت نوازی کو سامنے رکھتے ہوئے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا کہ کرتار پور کاریڈور کو کھولنے کا مقصد سکھ برادری کو ان کے مقدس مقام تک رسائی دینا نہیں بلکہ اس کی آڑ میں قادیانیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ اوپر بیان کی گئی ہندوستان اور قادیانیوں کی اس تاریخ کوسامنے رکھتے ہوئے سنجیدہ حلقے بجا طور پر اس کوریڈور کے کھلنے پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس بارڈو کو کھولا ضرور جائے لیکن ویز ا فری قرار نہ دیا جائے اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ یہ کاریڈور صرف سکھ زائرین کے لیے ہی ہواور اس بات کو بھی اب بھارت سے منوانا چاہیے کہ وہ کشمیر تک کا راستہ دے تاکہ دونوں اطراف کے کشمیری مسلمان ایک دوسرے کے ہاں آ جا سکیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online