Bismillah

677

۱۱ تا۱۷جمادی الاولیٰ۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۸تا۲۴جنوری۲۰۱۹ء

کشمیر…انسانی حقوق…ا ور اقوام متحدہ (سعود عبدالمالک)

کشمیر…انسانی حقوق…ا ور اقوام متحدہ

سعود عبدالمالک (شمارہ 672)

آج سے ایک چنددن قبل ۱۰ دسمبر کو پورے عالم میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا گیا مختلف سیمینار ، واک اور جلسے منعقد ہوئے ۔ ہر طرف انسانی حقوق کی صدائیں بازگشت کرتی رہیں ۔ ہم نے بھی سوچا کہ ان صداوں میں میرے  سلگتے کشمیر کا ذکر تو ہو گا ،جلتے  شام  کاذکر تو ہوگا، کٹتے برما کا ذکر تو ہوگا ، لیکن ہم صرف صدا ئیں ہی سنتے گے انسانی حقوق اور انسانی حقوق … چلو !  اس انسانی  حقوق کی عالم بردار ادارے  اقوام متحدہ نے جو ۰ا دسمبر کو اس دن کی بنیاد رکھی اور جو چارٹر انہوں نے بنایا کیا اس بنیاد پر دنیا میں مظلوم عوام کو انسانی حقوق مل گئے ؟  کیا اقوام متحد ہ  اپنے بنائے ہوئے چارٹر پرقائم ہے ؟ آج ہم انہیں ۳۰ نکات پر بات کریں گے جو آج سے ۷۰ سال قبل ۱۰ دسمبر ۱۸۴۸؁کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے توثیق عمل میں آئی اس اعلان کو انسانی حقوق سے متعلق پہلی بین الاقوامی تعریف تصور کیا گیا ہے اس لئے اس اعلان کو دائمی موقف دینے کے لئے ہر سال ۱۰ دسمبر کو عالمی سطح پر یوم انسانی حقوق کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔اور تمام اقوام عالم سے اپیل کی گئی ہے کہ عالمگیر انسانی حقوق کا احترام کریں اور وسیع طور پر اس کی تشہیر کی جائے۔

عالمگیر انسانی حقوق کا اعلان جملہ ۳۰ دفعات پر مشتمل ہے اس کی تمہید از خود انسان کی عظمت ،قدر وقیمت مساوات وا ٓزادی انصاف اور عالمی امن کی بنیاد پرقائم ہے لیکن یہ صرف اور صرف کاغذی حد تک محدود ہے اس کا عملی جامہ ہمیں ابھی تک نظر نہیں آیا۔ 

آج انہیں دفعات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے عوام کو کتنے انسانی حقوق ان کے بنائے ہوئے چارٹر سے ملیں یا مل رہے ہیں ۔

اس چارٹر کی کی پہلی دفعہ ہے  انسانی حقوق کے اس اعلان کے تحت تمام بنی نوع انسان پیدائشی طور پر آزاد ہیں اور سب عظمت و حقوق میں مساوی ہیں

اس دفعہ کی کے تحت تمام دنیا میں کو ہم انسانی حقوق کی نظر سے دیکھیں تو پورے عالم میں کہیں بھی ظلم وبربریت نہ ہو لیکن بنی نوع انسان کے پیدائشی طور پر آزاد ہونے کے باوجود آج کشمیر کا ہر باشندہ بھارت کی غلامی میں جکڑا ہوا ہے۔ اور ان کی عظمت وحقوق میں مساوی سوالیہ نشان ہے۔

دفعہ  2  : تمام انسان بلا کسی امتیاز کے مساوی طورپر حقوق اور آزادی کے حقدار ہیں جس کا ذکر انسانی حقوق کے اعلامیہ میں کیا گیا ہے

تمام انسان بلا امتیاز کے مساوی طور پر حقوق اور آزادی کے حقدار ہیں تو پھر کشمیر کے عوام کو یہ حق کیوں حاصل نہیں…؟

دفعہ  3 :ہر شخص کو زندہ رہنے زندگی گزارنے اور اپنی شخصیت کی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے

لیکن کشمیر میں آئے دن زندہ رہنے کا حق اور اپنی حفاظت کے لئے بندوق اٹھانے کو دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے ۔کیا اس دفعہ کے تحت کشمیر یوں کو اپنی حفاظت کا حق مل گیا؟

دفعہ 4 : کسی بھی شخص کو غلام کی حیثیت سے نہیں رکھا جائے گا اور غلاموں کی تجارت ممنوع ہوگی

اگر اس دفعہ کی رو سے دیکھا جائے تو بھارت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کشمیریوں کو گرفتار کرے لیکن کشمیر میں پچھلے ۰ ۷سال سے نا صرف ان کو غلام بن کر رکھا گیا ہے بلکہ انسانی سمگلنگ کے کئی واقعات رو نما ہو چکے ہیں۔

دفعہ 5َ :  انسانی حقوق کے اس اعلان کے رو سے کوئی بھی فرد ایذارسانی غیر انسانی اور تحقیر آمیز سلوک یا سزاء کا ہدف نہیں بنے گا۔

لیکن  سجاد اٖفغانی ، افضل گروہ، برہان وانی اور ان جیسے کئی کشمیروں کو بھارت کے عقوبت خانوں میں دی جانے والی سزائیں اس اعلان کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے اور اس پر یہ ادارہ مہر بالب کیوں ہے؟

دفعہ 6 : ہر ایک انسان جودنیا کے کسی بھی خطہ میں کیوں نہ رہتا ہو قانون کی نظر میں انسان ہی تسلیم کئے جانے کا مستحق ہے

لیکن  کشمیر میں بھارتی تسلط کے سامنے صرف ہندوں ہی انسان سمجھے جاتے ہیں کشمیریوں کے ساتھ خاص کر مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیوں ہے؟

دفعہ :7  قانون کی رو سے سب مساوی ہیں اور مساویانہ طور پر بلا کسی امتیاز ی قانون کے مستحق ہیں

نہ جانے کون لوگ کشمیر میں اس امتیازی قانون کے مستحق ہیں ہم تو ۷۰  سالوں سے استحصال ہی دیکھ رہے ہیں۔

دفعہ : 8 ہر انسان کو دستوری یا قانونی طور پر حاصل شدہ بنیادی حقوق تلف ہونے کی صورت میں موثر عدالتی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے

کتنے برس گزر گئے اور کتنی جوانیاں کشمیر کے عقوبت خانوں میں قید و بند کی زندگی  گزار رہے ہیں ابھی تک ان قیدوں کو عدالتی چارہ جوئی کا حق کیوں نہیں ملا؟

دفعہ : 9 کسی بھی شخص کو غیر منصفانہ طور پر گرفتار ، قید یا جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔ 

اس دفعہ کی رو سے دیکھا جائے تو کشمیر میں ایک بھی گرفتاری نہ ہو لیکن بھارت آئے دن اس دفعہ کی دہچیاں اڑا رہا ہے ۔

دفعہ :10  ہر شخص کو اس بات کا مساوی طور پر اختیار حاصل ہے کہ اس کے خلاف عائد کردہ الزامات کے تصفیہ کی خاطر آزادانہ ، غیر جانبدارعدلیہ سے رجوع ہو

لیکن کشمیر میں غیر جانبدار عدلیہ اس وقت موجود کہاں ہے جس سے رجوع کیا جائے ؟

دفعہ :11 کوئی بھی شخص اس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ عدالت میں اس کا جرم ثابت نہ ہو۔

امت مسلمہ کے ہزاروں فرزند کشمیری ہونے کے جرم میں مجرم قرار دئیے جا چکے ہیں جبکہ عدالت میں ان کا کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔

دفعہ :12 کسی بھی شخص کی رازداری کے معاملات اس کے خاندان، گھر یا مراسلت میں غیر منصفانہ مداخلت نہیں کی جائے گی اور نہ اس کی عظمت و عزت پر حملہ کیا  جائے گا

کسی شخص کیا یہاں گلی گلی شہر شہر مداخلت اور عزت کی پامالی کی جارہی ہے۔

دفعہ : 13 کسی شخص کو اپنے ملک کے دائرہ حدود میں رہنے بسنے نقل وحرکت کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے

یہاں پر تو ۷۰ سال سے کسی ملک کا حصہ تک تسلیم نہیں کیا گیا تو نقل وحرکت کی آزادی تو دور کی بات ہے۔

دفعہ :14 ہر شخص کو کسی ظلم سے بچنے کی خاطر کسی دوسرے ملک میں پناہ لینے کا اختیار حا صل ہے۔

ظلم سے بچنے کی خاطر کسی دوسرے ملک میں پناہ لینے کا اختیار حاصل ہے تو پھر کشمیری اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کیوں نہیں جا سکتے ؟

دفعہ  :15 حقوق انسانی کی رو سے ہر شخص کو کسی بھی قومیت کو اختیار کرنے کا حق حاصل ہے کسی بھی شخص کو قومیت کی تبدیلی کے حق سے جبراً روکا نہیں جاسکتا ۔ 

یہاں پر تو سزا ہی قومیت کی بنا پر دی جا رہی ہے اختیار کرنا تو دور کی بات ہے۔

دفعہ :16  ہر مرد وعورت کو بلا امتیاز نسل، قومیت ، مذہب شادی کرنے اور خاندان آباد کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس دفعہ کہ تحت کشمیر میں کتنا حق کس کو ملا ہے اس سے آپ اور ہم سب واقف ہیں۔

دفعہ : 17  ہر شخص کو انفرادی واجتماعی حیثیت سے جائیداد کا حق حاصل ہے جبراً کسی شخص کو جائیداد کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ۔

جب ہر کسی کو جائیداد کا حق حاصل ہے تو پھر کشمیر میں جائیداد کی خرید و فروخت پھر پابندی کیوں ہے اور ان کو اپنے ہی جائیداد میں محروم رکھا گیا ہے۔

دفعہ :18  ہر شخص کو خیالات ، مذہب اور ضمیر کی آزادی حاصل ہے۔

لیکن اب تو خیالات کی آزادی پر ہمیں قدامت پسند مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے پر شدت پسند اور ضمیر کی آزادی پر بے ضمیر ہونے کے طعنے دئیے جاتے ہیں۔

دفعہ   :19 ہر شخص کو رائے قائم کرنے اور خیالات کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔

یہاں پر حق خود ارایت کی آزادی نہیں ہے خیالات تو دور کی بات آئے دن میڈیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پابندی ہے۔

دفعہ :20 ہر شخص کو پرامن طور پر اجتماعات انجمنوں میں شامل ہونے کا اختیار ہے۔ 

یہا ں پھرتو اجتماعات میں شامل ہونے پر تشدد اور آنسو گیس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور پر امن اجتماع کو منتشر کیا جاتا ہے۔

دفعہ :21  ہر شخص کو حکومت میں شامل ہونے اور عوامی خدمت کرنے کا مساوی حق حاصل ہے۔

یہاں پر تو ابھی تک حکومت ہی قائم نہیں ہوسکی اور عوامی خدمت کرنے والوں کو قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔

دفعہ :22 حقوق انسانی کی رو سے ہر شخص کو سماجی تحفظ کا حق حاصل ہے اور یہ اپنی عظمت وشخصیت کی ترقی کی خاطر معاشی ، سماجی اور تمدن حقوق کو روبہ عمل لانے کا مستحق ہے۔

حقوق انسانی کی رو سے ہر شخص کو سماجی تحفظ کا حق حاصل ہے تو پھر کشمیریوں کو اسلامی تمدنی حقوق کو روبہ عمل لانے سے کیوں روکا جاتا ہے؟

دفعہ :23ہر شخص کو کام کا حق حاصل ہے اور وہ اپنی پسند کے مطابق روزگار کا مستحق ہے کوئی بھی شخص بے روزگار ی سے بچنے سے متعلق اقدامات کرسکتا ہے۔مناسب معاوضہ پانے کا اختیار رکھتا ہے۔ یہ اپنے پیشہ کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے انجمن سازی بھی کر سکتا ہے۔ 

اگر اس دفعہ کے تحت کشمیر کے نوجوانوں کو روزگار کا حق حاصل ہوتا تو وہ دنیا بھر میں در در کی ٹھوکریں نہ کھارہے ہوتے وہ اپنے ہی وطن میں باروزگار ہوتے ۔

دفعہ :24 انسانی حقوق کی رو سے ہر شخص کو آرام و آسائش پانے کا حق حاصل ہے جن کے اوقات کار کا تعین اور بایافت تعطیلات وغیر ہ شامل ہیں۔

جب ایک انسان کو آرام و آسائش کا حق حاصل ہے تو پچھلے  دہائیوں سے کشمیریوں سے ان کا آرام کیوں چھینا ہوا ہے۔

دفعہ 25َ:  ہر شخص کو مناسب معیار زندگی بسر کرنے کا اختیار حاصل ہے اس کے علاو ہ مناسب غذا ، مکان ،لباس بے روزگاری ، بیماری ، معذوری جیسے مسائل سے متعلق جدو جہد کرنے کا حق حاصل ہے۔

 ہر شخص کو مناسب معیار زندگی بسر کرنے کا اختیار حاصل ہے تو پھر کشمیریوں کو اس بنیاد ی حق سے کیوں محروم رکھا گیا ہے۔

دفعہ :26 ہر شخص کو مساویانہ تعلیمی حقوق حاصل ہیں۔

اگر مساویانہ تعلیمی حق حاصل ہوتا تو کشمیر میں ظلم کا بازار گرم نہ ہوتا۔

دفعہ   :27 ہر شخص کو اپنی کمیونٹی کے ثقافتی امور میں شرکت کرنے اور سائنسی ترقیات سے استفادہ حاصل کرنے کے حقوق حاصل ہیں۔

لیکن یہاں پر کمیونٹی کے ثقافتی امور میں شرکت پر پابندی ہے سائنسی ترقی تو دور کی بات ہے۔

دفعہ  :28ہر شخص کو سماجی و بین الاقوامی مرتبہ کو پانے کا مستحق ہے۔ جہاں انسانی حقوق کے تحت مرتب کئے گئے آزادیوں اور حقوق کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔

ہر شخص کو سماجی و بین الاقوامی مرتبہ کو پانے کا مستحق ہونے کے باوجود ایسے اشخاص پر پابندیاں عائد ہیں۔

دفعہ :29 ہر شخص اپنی کمیونٹی سے متعلق عائد کردہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کی بدولت اپنی شخصی نشوونما پاسکتا ہے۔

یہاں پر اپنی کمیونٹی سے متعلق عائد کردہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے کسی کو چھوڑا جاتا ہے کہ وہ اپنی شخصی نشوونما پا سکے۔

دفعہ :30  حقوق انسانی کے اعلان کی کسی ریاست یا گروہ یافرد کی جانب سے ایسی تشریح نہ کی جائے جس کی بدولت انسانی حقوق اور آزادی کو نقصان پہنچے۔

نقصان تو بذات خود بھارت اور اس کی آرمی پہنچا رہی ہیں لیکن بد نام کسی اور کو کیا ہواہے۔

یہ تھے وہ ۳۰ دفعات  جس سے کی پابندی بھارت کس خوش اسلوبی سے کر رہا ہے اور دنیا تماشا دیکھ رہی ہے اگر انڈیا کشمیر میں ان دفعات کی پاسداری کرتا تو کشمیر کے عوام سکون کا سانس لیتے لیکن قصہ اس کے بر عکس ہے اور اگر کشمیر نے اپنی حفاظت کے لئے اگر اسلحہ اٹھایا ہے تو وہ بھی اس دفعہ نمبر  کے تحت جائز ہے کہ اس میں واضح لکھا ہوا ہے کہ ہر شخص کو زندہ رہنے زندگی گزارنے اور اپنی شخصیت کی حفاظت کرنے کا حق حاصل ہے۔ آج بھارت اور دیگر اقوام کشمیر کی تحریک حریت کو کیوں دہشت گردی سے جوڑ رہی ہے ۔ کشمیر میں اگر امن چاہتے ہو تو اس کو بھارت کو کشمیر سے نکلنا پڑے گا ۔ اور اقوام متحدہ کو بھی بھارت کی رکنیت پر نظر ثانی کرنا پڑے گی کہ بھارت اس کے بنائے ہوئے چارٹر پر کتنا کار بند ہے۔ بھارت تو اس اعلامیہ کے برعکس انسانی حقوق کی سر عام پامالی کر رہا ہے اگر کشمیر میں انڈین آرمی پر کوئی حملہ ہو جاتا ہے تو اس کو ولولہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کشمیری اپنے حق کے لئے یہ جنگ لڑرہے ہیںیہ اس اعلامیہ کے برعکس نہیں بلکہ اس کے مطابق ہے اور جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بھارت کشمیر سے دست بردار نہیں ہوجاتا ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online