Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ریاست کو درپیش چیلنجز اور ان کا تدارک (مولانا نعیم سلیمی)

ریاست کو درپیش چیلنجز اور ان کا تدارک

مولانا نعیم سلیمی (شمارہ 672)

ملک پاکستان کی بنیاد آج سے چودہ سوقبل مدینہ طیبہ میںقائم کی گئی اس ریاست کے نظریہ کے تحت رکھی گئی ہے ،جس کا ماٹو ہی یہ تھاکہ’’ لاالہ الاللہ‘‘ یوں اس منی ریاست مدینہ کو بنیاد ہی سے ان چیلنجز کا سامنا رہا ،جن کاسامنا اصل ریاست  مدینہ کو تھا ، وہاں اگر مشرکین مکہ اس نوائذادہ ریاست کے وجود کوتسلیم کرنے سے انکاری تھے، تویہاں مشرکین ہند بھی اس بات پر آج تک قائم ہیں،وہاں اگر روم وفارس کی سلطنتیں ریاست مدینہ سے خوف زدہ تھیں ، تو یہا ں آج امریکہ،یورپ،اسرائیل اورراس سمیت دیگر کفریہ سلطنتیںاس منی ریاست مدینہ سے خوفزدہ ہیں،جسیے وہاں بیرونی سازشیوں کے ساتھ اندرونی طور پر منافقین کاایک ٹولہ ہمہ وقت مسلمانوں کوکمزور کرنے،نیچادیکھانے اورکفر کے سامنے جھکنے کی رٹ لگائے رکھتاتھا،یہاں اس ریاست  مدینہ میں یہ خدمتِ بلامعاوضہ ، ہمارا میڈیا ، سیکولرطبقہ،،کرپشن زدہ سیاستدا ن ،کفار کی چکاچوندی سے مرغوب اوراسلام بیزار مسلمان انجام دے رہے ہیں،احزاب وہاں بھی آئے تھے اورناکام چلے گئے،یہاں بھی احزاب نے پڑوس میںواپسی کی تیاریاں پکڑلیں ہیں،خندقوں والامعاملہ ہمیں وہاں سے وراثت میں ملا توہم نے  افغان باڈر پریہ سنت بھی پوری کردی،معرکہ بدر حقیقی نہ سہی پرتشبیہ میں ۶۵کی تاریخ میں ہم کرچکے،لیکن شیطان کی فوج کے ہزاروں جالوں کاکیاکرنا جب اپنے بھی ان سے مل جائیں،سیاسی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنا،معیشت کوکمزورکرنا،قومیت اورلسانیت کو ابھارنا،کرپشن کوفروغ دینا اور مسلم اکثریت کے بنیادی عقائد میں مداخلت پرشاباشیاںدینا منی ریاست مدینہ کے ختم کے پروانے ہیں جووہ سب مل کر بناتے اورآگے بڑھاتے ہیں۔،اس سب کچھ میں حکمرانوں کی غیر سنجیدہ اور غیر متوازن پالیسیاں ، حکومتی وزراء کی زبان درازیاں اوراٹھکلیاں نیز دوسروں کے کاموں میں مداخلت اور عوام سے دوریاںریاست مدینہ پاکستان کی مو جودہ پریشانیوں میں جلتی پر تیل کاکام کررہی ہیں،ادھر حکومت کی  بے حسی افواج پاکستان کی گزشتہ سالوں میں کیئے گئے اپریشنوں کی محنت کو ضائع کررہی ہیں ، قادیانیت کامسئلہ اور ریاست مدینہ کے رکھوالے ،نبوت پہ ڈاکہ ڈالنے والوں سے راضی کیسے ہوسکتے ہیں،عوام میں ایک قسم کی بے چینی ہے۔حکمران بننے  سے پہلے کے دعوئوں اوربعد کے کاموں میں زمین آسمان کا فرق ہے، پچھلی حکومتوں پر بحرانوں کی ذمہ داری ڈالی جارہی ہے،لیکن ان کے حل کی طرف خود بڑھانہیں جارہا،کرپشن ،رشوت خوری،دھوکہ ،فراڈ مہنگائی، بنیادی انسانی سہولیات کا غریبوں کے ہاتھوںسے نکل جانا مدینہ کی اُس ریاست میں تونہ تھا،جو یہاں ہے،مگر ان سب حالات سے نکل جانا تو مدینے  والوںنے ہی سکھلایا ،کافر کبھی تمھارا دوست نہیں،چاہے یورپ ،اسرائیل کا ہویا ہندوستان ، امریکہ ،روس کا۔میڈیا کو لگام دینا خدائی حکم ہے،

کہ یہ آلہ کا ربن جاتا ہے،البتہ اگر باز نہ آئے منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے اور جھوٹی خبریں اڑانے والے مدینہ میں تو ہم لگادیں گے تجھ کو ان کے پیچھے پھر نہ رہنے پائیں گے تیرے ساتھ اس شہر میں مگرتھوڑے دنوں پھٹکارے ہوئے ، (احزاب 

البتہ ان کے خلاف بھرپور تیاری کاحکم بھی مدینے والے پر ہی اترا،سیاسی  عدم استحکام کو برداشت اور دوسرں کو تسلیم کرنے کے ذریعے ختم کرناآسان ہے،اگر سیکورٹی ادارے اور سول حکومت مل بیٹھیں توبلاامتیاز مذہب دہشتگری جس شکل کی بھی ہو ختم کرنا مشکل تو نہیں کہ پہلی ریاست مدینہ میں بھی  یہ سب کچھ ختم کیا گیا تھا،قادیانیت اور گستاخیوں کامسئلہ اتنا پیچید ہ نہیں یہ توریاست مدینہ کاقانون تھا جس کا نفاذ حضورﷺ کے زمانے میں ہواہمارے بزرگوں نے اسی کواس ریاست کا قانون بھی بنایاہے ،تو پھر ہم کیوں دور بھاگ رہے ہیں۔

کیا ہمیںپھر کسی محمد بن مسلمہ ؓ کے سپاہی کا انتظار ہے، کرپشن ،رشوت،دھوکہ اور فراڈ والے اور ریاست مدینہ اکھٹے نہیںچل سکتے ۔جب تک ریاست مدینہ والی فاطمہ غامدیہ کی طرح سزا نہ مل جائے، زبان کولگام دینا سرکار کے بندوں کولازم کرنا ہوگا ورنہ یہ زخم کبھی مندمل نہیں ہوپاتے،سود سے پاک معیشت ہوگی تو کبھی زوال نہ آئے گاورنہ،یہ تو خدائے پاک کے ساتھ کھلی جنگ ہے اس سے کبھی کو ئی سرسبز نہ ہو اہے اور نہ ہی ہوگا ،قرآن کی تعلیم ، ریاست مدینہ کے بانی ﷺکی پاک باتیں،قومیت ،لسانیت کوختم کرلیں گی، لیکن اسکے لئے علمائے کرام کو موقعہ دینا ہوگا۔

یقیناغریبوں کی دیکھ بھال زیادہ کرنا ان کو بے چینی سے نکال سکتا ہے، جب ہر وزیر باتدبیراپنی تدبیروں کواپنے تک محدود رکھے گا توسب ٹھیک رہے گا،اہل حل وعقد کو سمجھنا ہو گا کہ ریاست مدینہ کے باشند ے قادیانیت،اسرائیلیت،اور ان کے کارندوں سے نفرت کرتے ہیں،اس لئے ایسا کوئی اقدام مناسب نہ ہوگاجو جانبداری کا احتمال رکھتا ہو ، ورنہ عوام کااشتعال کبھی کبھی صدیوں کی حکمرانیوں کو منٹوں میں ختم کر دیتاہے،ہم سب کی ذمہ داری اسلام ،پاکستان اور اسکی عوام کی دشمنوں سے حفاظت کی بنتی ہے،جومل کرچلنے سے ہی ممکن ہوسکے گی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor