Bismillah

686

۱۴تا۲۰رجب المرجب۱۴۴۰ھ  بمطابق ۲۲تا۲۸مارچ۲۰۱۹ء

جہاد فی سبیل اللہ اور مسلمان (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

جہاد فی سبیل اللہ اور مسلمان

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 675)

اسلام کے احکامات میں سے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا حکم ایسا ہے جسے متعدد آیات اور احادیث مبارکہ میں سب سے افضل حکم قرار دیا گیا ہے اور اس کو اسلام کی چوٹی قرار دیا گیا ہے اور کیوں نہ ہو اسی فریضہ بابرکت کے ذریعے پورے اسلام کی حفاظت ہوتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اسی حکم سے جتنا دور بظاہر اہلِ اسلام بھاگتے نظر آتے ہیں اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کفار کا اس فریضے پر عمل کرنے والوں پر اعتراضات اور دشمنی سمجھ آنے والی بات ہے کہ ان کے ناپاک ارادوں کے سامنے سدِ سکندری یہی عمل ہے لیکن جب بظاہر اسلام کا نام لینے والے جہاد یا جہاد کرنے والے مجاہدین پر ہرزہ سرائی کرتے ہیں تو یہ نہ سمجھ آنے والی بات ہے۔

یہ بات طے ہے کہ مسلمانوں کو پہلے جو عروج حاصل ہوا تھا وہ اسی ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے عمل سے ملا تھا اور آج بظاہر جو حالات مسلمانوں کے حق میں بہتر نظر نہیں آرہے تو بھی اسی ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے عمل سے روگردانی کے سبب سے۔ اگر تمام مسلمان اسی ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے عمل کو سمجھ لیں تو وہی قرون اولیٰ والا عروج آج بھی حاصل ہو سکتا ہے۔

اس صدی کے عظیم مجاہد امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تبارک وتعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائیں انہوں نے اس دور میں اس حکم کو جس طرح زندہ رکھا ہے وہ ان پر اللہ تبارک وتعالیٰ کا خاص کرم ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت امیر محترم حفظہ اللہ تعالیٰ کی جان مال اعمال اور عمر میں برکات عطا فرمائیں۔ آمین

حضرت کے ایک مضمون سے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے حکم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’ویسے یار ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ ہم مسلمانوں کو یہ جہاد، یہ لڑائی بھڑائی کا ذہن کون دے رہا ہے؟… مزے سے رہیں، شراب پئیں، سور کھائیں، عورتیں نچائیں، ڈانس کریں، میوزک سنیں ، اور مسلمان بھی رہیں، عام نہیں بلکہ اچھے اور بہترین مسلمان… آخر بچپن میں ختنہ کس لئے کروایا؟ کیا مسلمان ہونے کیلئے اتنا کافی نہیں ہے… چلو ٹھیک ہے بہت مذہبی بنتے ہیں تو کبھی کبھار نماز بھی پڑھ لیا کریں اور مزاروں پر چلے جایا کریں… اس سے زیادہ اسلام کہاں لکھا ہوا ہے؟ ہم نے کہیں نہیں پڑھا…

یار باتیں تو تمہاری ٹھیک ہیں؟ مگر پرانی باتوں نے ان کا دماغ خراب کر رکھا ہے… وہ کہتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جہاد کیا اور جنگوں میں شریک رہے… پھر ان کی عورتیں بچوں کو گود میں لے کر کبھی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، کبھی مثنیٰ بن حارث رضی اللہ عنہ، کبھی ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کے قصے سنا کر لوریاں دیتی ہیں… عقل نہیں ہے ان کو کہ دنیا چاند تک جا پہنچی ہے… پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پورے دین کیلئے ماریں کھائیں… زخم اٹھائے… ختنے والا اسلام ہوتا تو پھر مکہ سے مدینہ ہجرت ہی نہ کرنی پڑتی… پھر انہوں نے طارق بن زیاد، محمود غزنوی اور پتہ نہیں کن کن کو اپنا ہیرو سمجھ رکھا ہے… ادھر یہ لوگ میر جعفر صاحب اور عبداللہ بن ابی وغیرہ کے روشن خیال حالات کو ہاتھ ہی نہیں لگاتے… دراصل اسلامی تاریخ جب تک موجود رہے گی، دہشت گرد پیدا ہوتے رہیں گے…

تو کیا خیال ہے ہم تاریخ بدل دیتے ہیں؟

تاریخ بدلنے کا کچھ کام تو شروع ہے، مگر نبی کی سیرت پڑھ کر پھر یہ ہمارے باس کے طریقے سے ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں… کوئی ان کی طرح ڈاڑھی رکھ رہا ہے، تو کوئی عورت کو پردہ کرا رہا ہے… کوئی جہاد کا عاشق بن رہا ہے، تو کوئی پگڑی، مسواک وغیرہ لے کر اسلام کو بدنام کر رہا ہے ۔

تو پھر سیرت کی کتابوں کو اپنے ممالک میں ضبط کرا لیتے ہیں…

یار… امن سے رہنا ہے تو کرنا ہی پڑے گا، مگر فقہ کا کیا ہو گا؟

اس میں کیا ہے؟

اس میں تو سب کچھ ہے… اور یہ غلط ذہن دیا جاتا ہے کہ اسلام کوئی پرائیویٹ چیز نہیں، بلکہ پورا اور مکمل نظام ہے۔ اور اسلام کے پاس اپنا الگ سیاسی، ثقافتی، معاشی اور عدالتی نظام ہے اور اسلام میں ختنے کے علاوہ اور بھی احکامات ہیں اور ظلم یہ کہ فقہ میں بھی جہاد پر اکسایا جاتا ہے…

یار یہ تو بہت خطرناک چیز ہے، اس پر بھی پابندی لگا دیتے ہیں اور لوگوں کو بتا تے ہیں کہ اسلام بس اسی چیز کا نام ہے جس سے آقا بُش خوش ہوں اور بس…

بالکل ٹھیک ہے، مگر فقہ کی کتابوں میں سب کچھ حدیث شریف کی کتابوں سے لیا اور سمجھا گیا ہے…

یہ حدیث کیا چیز ہے؟…

میں نے پڑھی تو نہیں، سنا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کا مستند ذخیرہ ہے…

بہت خطرناک… ویری ڈینجرس… اس میں تو غزوات کا بھی ذکر ہو گا؟

غزوات کا کیا؟ جہاد کے ایک ایک پہلو کا ذکر ہے… اور یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ مسلمان کا کھانا، پینا، اٹھنا، بیٹھنا، پہننا وغیرہ الغرض سب کچھ کیسے ہونا چاہئے؟ گویا کہ ہم ساری دنیا سے کٹ کر الگ شناخت بنائیں اور یوں عالمی برادری سے الگ تھلگ نظر آئیں…

سنا ہے حدیث و فقہ کو پڑھ کر ہی ماضی میں لوگ عالمی برادری کو کافر کہہ کر اس پر حملے کرتے رہے اور ملکوں کے ملک قبضے میں لے کر اس پر مولویوں والا اسلام نافذ کرتے گئے… اب اگر یہ چیزیں اس زمانے میں پڑھی گئیں تو ہمارے بچے امریکہ جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور گوریوں کے ساتھ ناچنے کی بجائے بم باندھ کر فدائی بن جائیں گے… وہ رہیں گے اس دنیا میں اور باتیں قبر و آخرت کی کریں گے… کیا تمہیں یہ بات گوارہ ہے؟

نہیں، بالکل نہیں… ہم ان تمام کتابوں پر پابندی لگا دیں گے۔ لوگوں کو کہیں گے یہ سب کچھ پڑھ کر تم زیادہ سے زیادہ مسجد کے امام بن سکو گے، اس لئے سائنس پڑھو تاکہ پاکستان کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان بن سکو…

یار یہ تم نے کس کا نام لے لیا…

اوہ! غلطی ہوگئی… (دائیں بائیں دیکھ کر)… کسی نے سنا تو نہیں؟

اچھا یہ سب کتابیں بند…

مگر قرآن کا کیا ہو گا؟ …

قرآن لوگ پڑھتے رہیں؟ چھوٹے آقا ٹونی بلیئر نے بھی کہا ہے کہ میں نے قرآن پڑھ رکھا ہے… قرآن پڑھنے سے کچھ نہیں ہو گا…

کیوں کچھ نہیں ہو گا؟ میں نے سنا ہے کہ اس میں بھی جہاد کی سینکڑوں آیات ہیں…

 نہیں ہو سکتیں…

 بھائی اتنا نہ چلاؤ… میرے اور تمہارے کہنے سے یہ حقیقت تو نہیں بدلے گی… قرآن میںبھی جہاد کی آیات ہیں… اور بہت زیادہ ہیں اور اس میں تو سنا ہے یہ بھی لکھا ہے کہ یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ جو ان کو دوست بنائے گا انہی میں سے شمار کیا جائے گا… 

(’’بدنام ہو جائے گا‘‘/ رنگ و نور/ ج، ۱)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online