Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

علم دین اور تزکیۂ نفس کی قدر و قیمت… دنیوی ، عقلی اور مادی لحاظ سے (۲) (رضوان چوہان)

علم دین اور تزکیۂ نفس کی قدر و قیمت… دنیوی ، عقلی اور مادی لحاظ سے    (۲)

رضوان چوہان (شمارہ 676)

(گزشتہ سے پیوستہ)

تہذیب مغرب اور ترقی یافتہ اقوام کا حشر

ہم نے مغرب کو مسیحا سمجھا اور اس کے پیچھے لگ گئے آج وہ مغرب خود سسک رہا ہے۔ مغرب نے صنعتی اور سائنسی ترقی کا نعرہ لگایا اور اہل مغرب کو کولہو کا بیل بنا ڈالا، زمینیں بنجر کرتا جا رہا ہے، زہریلی غذاؤں کا استعمال پوری دنیا میں عام کر رہا، آلودگی کے ڈھیر لگ گئے عالمی تباہی کے تمام ہتھیاروں کے انبار بنا رہا، انسان کو فریبی آسائشیں دکھا کر اس کی زندگی تباہ کی، شہر سڑکیں گلیاں عمارتیں بنا کر انسان کو منہدم کیا خاندان کو توڑا ہر جہت میں جینا مشکل بنایا پھر آمدنی اور اخراجات کے بیلنس کو درہم برہم کیا، معاشرے کے بنیادی تقاضوں پر خوش نما تلوار چلا دی ۔

عام لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے عام عوام کی زندگی ہر جہت میں کتنے عذاب رکھتی ہے۔ یہ اہل مغرب کے درد دل رکھنے والے دانشوروں سے مفکرین سے پوچھیے یا خود ان کے درمیان رہ کر تجزیہ کیجیے کہ ان کی زندگیوں کا کتنا برا حال ہے وہ اپنا مقصد حیات ہی کھو بیٹھے ہیں اپنا چین سکون اطمینان اور مسرتیں گنوا بیٹھے ہیں تفکرات و اندیشے جتنے ترقی یافتہ ممالک کے عوام کو ہیں اتنے غریب ممالک کے عوام کو بھی نہ ہوں گے جاپان میں اموات تنہائی کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے اموات تنہائی ان اموات کو کہتے ہیں جس میں لاش سڑنے کے بعد اس کی بدبو سے پڑوسیوں کو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مر گیا ہے اور اس طرح مرنے والے لوگوں کے پاس سے اکثر ایک پرچی ملتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ کاش کوئی ہمارے پاس ہوتا، ایک انگریز صحافی ایک جاپانی لڑکی سے پوچھتا ہے کہ اس کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے (وہ جاپانی لڑکی ایک نیٹ کیفے میں زندگی کے دن بسر کر رہی تھی) تو لڑکی نے کہا کہ کسی طرح یہ زندگی گزر جائے یہی مقصد ہے دنیا میں سب سے زیادہ ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کا شکار لوگ ترقی یافتہ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں خاص کر اسکینڈی نیوین ممالک کوریا جاپان اور امریکا۔

مغرب نے حقوق نسواں کا نعرہ لگایا اور عورت کو سب سے زیادہ برباد کیا، کلبز میں کام کرنے والی یورپی و امریکی نوجوان لڑکیاں پچاس سے سو ڈالرز میں بلو جاب کے لئے تیار ہو جاتی ہیں، خاندان میں مردوں کی سرپرستی ختم کر کے ذمہ داری بھی ختم کر دی گئی، مرد کو عیاش بنا کر عورت کو تنہا اور غیر محفوظ کیا گیا پھر اسے کھلونا بنا دیا گیا، جس کا دل چاہے اس سے کھیلے، بھائی اپنی بہنوں کو باپ اپنی بیٹیوں کو اپنے سامنے بوائے فرینڈ کے ہاتھوں لٹتا دیکھ کر تڑپتے ہیں لیکن کیا کریں نہ قانون اسے جرم کہتا ہے نہ تہذیب۔

 اس پہلو پر تو اتنی تفصیل ہے کہ کتابیں لکھی جا سکتی ہیں ترقی یافتہ اقوام کے لوگ بات بات پر خود کشی کیوں کرتے ہیں ؟ دوسروں کو بلا وجہ مار کر خود کشی کرنا کیا ثابت کرتا ہے ؟، میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ عصری تعلیمی نظام اور دنیا میں سکہ رائج الوقت تہذیب انسان کو نہ اعلی و ارفع مقصد زندگی عطا کرتے ہیں نہ عزم و حوصلہ۔ اسکول کالج یونیورسٹیز کے اسٹوڈنٹس کی خود کشیاں عام ہیں کیوں کہ یہ بچے چیلنجز کا مقابلہ کرنا جانتے ہی نہیں تو اپنا تحفظ کیسے کر پائیں ، ایک اور عجیب بات کہ اقوام مغرب کے اکثر تعلیم یافتہ لوگ اجتماعی خاندانی ذمہ داریوں کا احساس نہیں رکھتے وہاں کے اولڈ ہاوسز تو مشہور ہیں ہی پھر بال بچوں والا ہوتے ہی ایسے تعلیم یافتاؤں کی خواہش ہوتی ہے کہ بچے انڈر ایج سے نکلیں اور ان کی ذمہ داری ختم ہو کیوں کہ انہیں دوسروں کے لیے جینا قطعا سمجھ نہیں آتا یہ ان کے بنیادی فلسفہ زندگی سے کوئی اجنبی چیز ہے ان کے نزدیک بیویوں کا بھی پیسا کمانا فرض ہے مغربی تہذیب کے مارے معاشروں میں  بیویاں پہلے ہی تلاش معاش میں لگی ہوتی ہیں ، ہو سکتا ہے کہ آپ لوگ سوچیں پھر ہمارے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان تو عموما اپنا ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں تو اس کا وہی جواب ہے کہ ہماری دینی سماجی اور خاندانی خوبیاں کہ اس طرح تو اہل مغرب کے کچھ نوجوان بھی خوبیاں رکھتے ہیں لیکن یہ خوبیوں آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہیں عرض وہی ہے کہ دینی و سماجی اور خاندانی خوبیوں کی فطری مزاحمت رائج الوقت عالمی تہذیب کے آگے دم توڑتی جا رہی ہے.

عصری تعلیم کا ایک تجزیہ

موجودہ دور کو معلومات کا، انفارمیشن کا دور کہا جاتا ہے لیکن جہالت میں حماقت میں بھی اس دور کا کوئی ثانی نہیں ہے گوگل پر سرچنگ تو آسان ہو گئی معلومات کے تو انبار جمع کر لیے گئے ڈگریوں کے ڈھیر لگ گئے لیکن اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ زندگی کے عام چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے نہ معاملہ فہمی ہے نہ دور اندیشی ہے نہ کوئی پہچان ہے نہ کوئی وزن نہ عزم و حوصلہ نہ خود اعتمادی، مال و منصب کے جھوٹے بھرم درکار ہیں یا پھر مال و منصب والوں کے بھرم کا شکار ، رٹے پہ رٹے ہیں اور عقل و بصیرت کے خانے میں انڈے پہ انڈے ، پھر یہ معلومات کے انبار والے اور ڈگریوں کے ڈھیر والے بھی اقلیتی تعداد میں ہیں تو بیچارے جو اکثریت میں ان تعلیم یافتاؤں سے گئے گزرے ہیں ان کا کیا حال ہوگا ؟ غرض یہ کہ دنیوی حساب سے بھی عصری تعلیم کی نہ کوئی ٹھنڈک ہے نہ مٹھاس۔ خدا نے کسی کو فطری صلاحیت دی ہے ماں باپ سے ورثے میں یا کسی اور سے تربیت دی ہے تو ٹھیک ورنہ عموماً عصری تعلیم یافتہ لوگ سب سے بڑے جاہل ہیں ایک تعلق دار وکیل صاحب کی معرفت ایک صوبے کے چیف سیکریٹری سے ملاقات ہوئی دل کو اتنی تکلیف ہوئی کہ مت پوچھیں نہ بات کرنے کا ڈھنگ نہ شائستگی نہ علم نہ ہی عقل پھر امانت و دیانت سے تو بالکل بیگانہ اور موصوف بنے بیٹھے تھے پورے صوبے کے چیف سیکریٹری ، آخر کیا کچھ نہ کیا ہوگا انہوں نے اس صوبے کی بربادی کے لیے ؟

(باقی آئندہ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor