Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

علم دین اور تزکیۂ نفس کی قدر و قیمت… دنیوی ، عقلی اور مادی لحاظ سے (آخری قسط) (رضوان چوہان)

علم دین اور تزکیۂ نفس کی قدر و قیمت… دنیوی ، عقلی اور مادی لحاظ سے    (آخری قسط)

رضوان چوہان (شمارہ 677)

(گزشتہ سے پیوستہ )

ہمارے ناقص انتظام اور بیڈ گورنس کہیں آسمان سے تو نہیں اتری یہی لوگ ہیں جو سسٹم چلا رہے ہیں اداروں کا حال دیکھیں تو زانی شرابی کبابی خائن لوگ براجمان ہیں ، میں بات کرتے کرتے کہیں اور نکل گیا کہ حکومتی عہدیداران و افسران کا ذکر مطلوب نہیں کیوں کہ خرابی کی آگ تو سرکار سے لے کر عوام تک میں برابر لگی ہوئی ہے بات ہو رہی تھی علم دین اور تزکیہ نفس کی دینی تعلیم کی اور دینی اصلاح و تربیت کی کہ دنیوی کامیابیوں کے لیے ان کا کیا کردار ہے کیا اہمیت ہے تو بنیادی نکتہ تو یہی ہے کہ علم دین خدا کی طرف سے ہمارے لئے منتخب کردہ ہے اب یہ تو ممکن نہیں ہے کہ وہ صرف آخرت کے لیے کردار ادا کرے اور ہماری دنیا کو لاوارث چھوڑ دے یا دنیا میں کامیابی کا حصول انسان کی محدود عقل کے سپرد کر دیا جائے کہ ہر عشرے کے بعد تعلیمی نظام و نصاب میں بار بار تبدیلی کرنی پڑ جائے یا کہ جس طرح اکثر ممالک کے قوانین میں تبدیلیاں ہوتی ہیں جو اس بات پر دلیل ہے کہ انسانی عقل محدود ہے پھر کیا محدود انسانی عقل ترقی کی ضامن اور خالق کائنات کی دی گئی رہنمائی ناکامی کا سبب ہو سکتی ہے ، ایسا ہرگز نہیں ہے بات یہ ہے کہ دنیوی علوم و فنون کا حصول جائز بھی ہے اور لازمی بھی اور ہمیں تو اسباب و انتظام کا حکم اللہ کی طرف سے ہے لیکن یہ علوم و فنون کے ادارے کس کے ہاتھوں میں ہیں ان کے نصاب کون ترتیب دیتا ہے کس ضابطے کے تحت ترتیب دیے جاتے ہیں یہاں آزادانہ عقل و بصیرت کا استعمال ہوتا ہے یا رائج الوقت پنجروں کے آپ قیدی ہیں اگر آپ علم معیشت کی بات کریں تو ہمیں انہی ضابطوں کی تقلید کرنی پڑتی ہے جو ہم پر مسلط ہیں چاہے سودی نظام ہو یا پیپر کرنسی ، اسٹاک مارکیٹ کی مصنوعی تجارتی منڈی اور ٹیکسز کا نظام یا پھر انشورنس کے فریب و بانڈز کے غلط طریقے کار اور تمام عجیب و غریب طلسم جس میں فرد کے ہاتھوں سے اس کا مال ہی غائب ہو جاتا ہے، اگر سائنس کی بات کریں تو فلاحی سائنس کو پوری دنیا سے اوجھل رکھا جاتا ہے جو بہت آگے کی چیز ہے سو سال پہلے دریافت ہوئی ٹیکنالوجیز جو انسانوں کے لئے کار آمد تھیں انہیں چھپا دیا گیا اور کمرشل سائنس کو سہولت دینے والے اصول و ضابطے ہی چل رہے۔

 فزکس کا ایک قانون ہے جو سائنس ہی رد کرتی ہے لیکن مجال ہے جو اس قانون کے خلاف کسی یونیورسٹی کی تحقیق میں کچھ لکھا آجائے کیوں کہ ملٹی بلین ڈالرز کی انڈسٹریز کو زوال آجائے گا بل کہ وہ سائنس دان ہی تباہ ہوتے ہیں جو نسل انسانی کی بھلائی کے لئے کچھ دریافت کر جاتے ہیں غرض یہ کہ سیاست ، سائنس ، سماجیات ، معاشیات ہر مضمون میں ہمیں لکیر کا فقیر بنایا جا رہا ہے ، چلیں مان لیتے ہیں کہ جو رائج ہے کم سے کم وہ سیکھنے والوں کو نوکری ملنے کا تو چانس ہوتا ہے چاہے ڈگری کے بقدر نوکری نہ بھی ملے تو جناب بیشک آپ خود بھی عصری تعلیم حاصل کریں اپنے بچوں کو بھی دلائیں کہ اسلام کہیں بھی اس سے نہیں روکتا لیکن اس سے بھی پہلے زہریلی فضاؤں سے زہریلے ماحول زہریلے اثرات سے خود کو بھی اور اولادوں کو بھی بچانا ہوگا موجودہ دور میں جتنی دینی تعلیم و تربیت و اصلاح کی ضرورت ہے اس قدر ضرورت کسی زمانے میں نہ تھی یہ معاملہ صرف جنت جہنم کا نہیں ہے نہ یہ صرف آخرت کا ہے یہ آپ کی اور نسلوں کی دنیا سنوارنے کا معاملہ ہے یہی عقل و بصیرت فہم و فراست حاصل کرنے کا راستہ ہے اور یہی دینی تعلیم  اور تزکیہ نفس ہے کہ جس سے انسان اپنی خوبیوں خامیوں سے واقف ہوتا ہے دنیوی حقائق سے صحیح طور آگہی حاصل کرتا ہے مقصد زندگی سیکھتا ہے جس سے عزم و حوصلہ اور مورال بلند کرتا ہے چیلنجز کا سامنا کرتا ہے اور میدان پر میدان فتح کرنے کی قابلیت حاصل کرتا ہے یہ خدا کی رہنمائی ہی ہے جو اس کے سامنے اس کے وجود کے اور پوری کائنات کے راز کھولتی ہے.

علم دین اور تزکیہ نفس

اسلام دین الہی ہے اس کے تمام احکامات اور تعلیمات میں انسان کی اخروی بھلائی کے ساتھ دنیا کی فلاح اور کامیابی بھی ہے یہی علم ہے اور اسی کے ساتھ خیر ہے یہ مکمل رہنمائی ، قوانین اور ضابطے عطا کرتا ہے کہ جن کی ہمہ گیری غیر مسلم مفکرین اور ریسرچرز بھی تسلیم کر رہے ہیں یہ فرد کی انفرادی زندگی کو سنوارنے کے ساتھ اجتماعی مفادات کا بھی تحفظ کرتا ہے یہ دین انسان کے جسمانی و روحانی تقاضوں کی تمام ضروریات کو بحسن خوبی پوری کرتا ہے غرض یہ کہ انسانی زندگی کا کوئی بھی پہلو ہو اسلام اس کے لئے رہنمائی دیتا ہے۔ کینیڈا کے ایک مشہور تحقیق کار ہیں ڈاکٹر ہنری ایچ مکاؤ جو بیک وقت سیاست معیشت سماجیات تعلیم یہاں تک کہ شو بزنس اور میڈیا و انٹرٹینمنٹ پر بھی ریسرچ کرتے ہیں پھر تجزیہ کرتے ہیں بقول ان کے یہ دور بے حیائی اور برہنگی کا دور ہے اور یہ بے حیائی اور برہنگی اس لیے  پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ انسانی زندگی چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی اس کی تمام جہتوں کو برباد کر دے پہلے انسان کو لذتوں کی پوجا پر لگا کر اخلاقی ذمہ داریوں سے آزاد کیا جاتا ہے تاکہ اس کے متعلقین چاہے اہل و عیال ہوں یا ملازمین اور مالکان یا پھر اس شخص کی قوم اور اس کا وطن اسے ان کے مفادات اور بھلائی سے بیگانہ کر دیا جاتا ہے پھر انسان خود اپنی فطری خوبیاں صلاحیتیں بھی کھونے لگتا ہے اس کے اندر موجود خیر ختم ہونے لگتا ہے اس کے تمام مقاصد و ترجیحات اس کی ذات کے گرد طواف کرتے ہیں لیکن افسوس کہ وہ اپنی ذات کی بھلائی کا نہیں بل کہ بربادی کا سودا کر جاتا ہے اور اس طرح ہر فرد کو تباہ کر کے پوری سوسائٹی پوری قوم کو تباہ کیا جاتا ہے غرض یہ کہ عریانی اور فحاشی انسانی معاشرے کے لئے اتنی تباہ کن ہے کہ اسے مکمل پھیلا دیا گیا تو پھر دنیا کو کسی ایٹم بم سے تباہی کی ہرگز ضرورت نہ ہوگی اسی بے حیائی سے عیش کوشی اور کاہلی پروان چڑھتی ہے فہم و فراست اور عقل و بصیرت کو زنگ لگتا ہے کرپشن بد عنوانی عام ہوتی ہے خائن لوگوں کے ہجوم میں اضافہ ہوتا ہے طرح طرح کے امراض پیدا ہوتے ہیں ، بے روزگاری پھیلتی ہے منشیات کو فروغ ملتا ہے جرائم میں اضافہ ہوتا بے خاندان اجڑتے ہیں افراد اور اقوام اپنی تمام خوبیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور غربت و تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

میں اپنے آس پاس نوجوانوں کا مشاہدہ کرتا ہوں فضولیات اور خرافات میں گم ، فلمی اداکاروں اداکاراؤں کے سحر میں مبتلا ، ناچ گانوں کے رسیا مہنگے موبائلز اور بائیکس و گاڑیوں کا شوق پھر پورن موویز کا پھیلتا تیزاب ، گلی گلی میں معاشقے اور شرم و حیا کی موت ، سیاسی جماعتوں کی چھاؤں تلے سرکاری نوکریوں ٹھیکوں یا مناصب کی تمنا ، رہنمائی اور رہبری کے شوق اور زندگی کے بنیادی تقاضوں سے پہلو تہی ، محلے میں بگڑے اجڑے دوستوں کے ساتھ ، اسکول ، کالج و یونیورسٹی میں طرح طرح کے خطرات پھر بچتے بچاتے گھسیٹ کر اگر ڈگری کا حصول ہو جائے تو نوکری کی تلاش پھر اس میں بھی چند لوگ کامیاب ہو جائیں تو کرپشن ، خیانت ، چوری ، فرض شناسی سے محرومی ، لگن ، ذمہ داری اور اخلاص سے دوری ، پھر حرام مال کما کما کر لاتعداد خواہشوں اور عیاشیوں میں اضافہ اور آگے بظاہر کامیابی کے باوجود ناکامی مقدر پھر جو اکثریت یہ منزل حاصل نہ کر پائی وہ یا تو چوری ڈکیتی اور فراڈ کی راہوں پر یا پھر نفسیاتی امراض و منشیات اور آج کل تو اکثر منشیات میں تعلیمی دور کے دوران ہی لگ جاتے ہیں۔

جب بچے کو بچپن سے ہی دینی تعلیمی و تربیت ملتی ہے اور پھر آگے جا کر صالحین کی صحبت میں تربیت میں وہ جائز ناجائز صحیح غلط کی تمیز کرنے لگتا ہے ان کے فوائد و نقصانات کو محسوس کرتا ہے اپنی فطری خوبیوں و خامیوں سے اور تہذیبی زہریلے اثرات سے آگہی حاصل کرتا ہے خوبیوں کو پروان چڑھانا سیکھتا ہے اور خامیوں کا تدارک کرنے لگتا ہے شرم و حیا کے تقاضوں کو سمجھتا ہے ذمہ داریوں کو محسوس کرتا ہے حقوق اللہ حقوق النفس اور حقوق العباد سے واقف ہوتا ہے عقل و شعور اور فہم و فراست کی منزلیں پار کرتا ہے تو اب اس کے لیے دنیوی فنون بھی بے انتہا کار آمد ثابت ہوں گے وہ چاہے حاصل کم کرے لیکن تاثیر زیادہ ہوگی وزن زیادہ بنے گا دینی تعلیم و تربیت سے جو اخلاقی اور روحانی خوبیاں نصیب ہوتی ہیں ان سے مورال عزم ہمت حوصلہ اور استقامت ملتی ہے دور اندیشی ملتی ہے بہترین تجزیے اور تخمینے کی صلاحیت ملتی ہے دنیوی چلنجیز کے سامنا کرنے کا جگرا ملتا ہے اور پھر تجربہ بھی ، صرف ایک اللہ پر توکل ہی ایسی خوبی ہے جو انسان کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیتی نا امیدی سے محفوظ کرتی ہے اور کم وسائل اور اسباب کے باوجود بڑی منزلیں پار کروا دیتی ہے کیوں کہ توکل اسے عزم و حوصلے کے ساتھ مستقل مزاجی اور استقامت بھی فراہم کر دیتا ہے.

مدارس دینیہ کے فاضلین اگر اپنی صلاحیتوں کو پہچان لیں تو وہ حیران ہو جائیں گے کہ دنیا کی کسی یونیورسٹی میں انسان کے اندر یہ فطری صلاحیتیں اجاگر نہیں کی جاتی ہیں بس اگر یہ دینی تعلیم کے حصول کے بعد کچھ فنون میں کمال حاصل کر لیں کچھ تجربے کار لوگوں سے سیکھیں اور عملی زندگی میں سیکھ کر پھر اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو ان شااللہ دینی و دنیوی کامیابی مقدر ہوگی یا کم سے کم یہ محنت جدوجہد اور مشقت کے عادی ہو جائیں تو سرکاری افسران سے ان کی زندگی ہزار درجہ بہتر ہے ان کا مقصد زندگی بلند ہوگا تصنع سے پاک نام و نمود سے دور حرام خوریوں سے پاک جو دنیا کے بادشاہوں کو حاصل نہیں ہے کسب معاش کو آپ اپنی آخرت کا اثاثہ بھی بنا سکتے ہیں منفعت و راحت پھیلا کر آسانیاں تقسیم کر کے وزنی نیت اور وزنی طرز عمل سے ایسا حسن معاملہ کر سکتے ہیں جس سے لوگ خود آپ کی طرف کھنچے چلے آئیں گے پھر برکتوں کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے ہوگا، نوکری ہو دکانداری ہو چھوٹا بڑا کاروبار ہو یا کسی قسم کی کوئی خدمات ، دین و دنیا کا حسین امتزاج جس طرح علما کو مل سکتا ہے ایسا ایک عام فرد کے لیے بہت مشکل ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor