Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

مودی کا دورہ کشمیر (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

مودی کا دورہ کشمیر

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 680)

گزشتہ دنوں ۳ فروری کو مودی نے کشمیر کا دورہ کیا، اس موقع پر کشمیریوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر اپنے دروازے بند کردیئے۔ انتخابی ڈرامے کیلئے نریندر مودی کی ڈھٹائی مہم پر وادی سنسان رہی۔

عالمی دہشتگرد کے دورہ کشمیر نے بھارت کے منہ پر کالک مل دی۔ استقبال تو دور کی بات، مظلوموں نے مودی کو لعنت ملامت کے قابل بھی نہ سمجھا اورمقبوضہ کشمیر بند کردیا۔

مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد پرمکمل ہڑتال رہی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ وادی کے باسیوں پر 5 سال میں مودی نے کونسا ظلم نہیں ڈھایا، اب ترقیاتی پیکج کا انتخابی ڈھونگ بھی شروع کردیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ گجرات کا قصائی کشمیریوں کیلئے بھی خونخوار ہے لیکن اقوام متحدہ سمیت ساری دنیا آنکھیں کھولے اور دیکھے کہ کوئی بھی مودی گردی کشمیر کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتی۔

مقبوضہ کشمیر کے دورے کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہاڑوں کی جانب سے ہاتھ لہراتے رہے، ان کی ویڈیو کلپ منظر عام پر آنے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بنا دیا گیا ہے۔ نریندر مودی نے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تو اس موقع پر وادی بھر میں احتجاج و ہڑتال کی گئی، سڑکوں پر سناٹا رہا اور کشمیری عوام نے ان کے دورے پر یوم سیاہ منایا۔ بھارتی وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران مختلف منصوبوں کا افتتاح کیا اور جب وہ

’’دل جھیل‘‘ کی سیر کو پہنچے اور کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں نے یہ دکھانے کے لیے کہ لوگ ان کا استقبال کر رہے ہیں، پہاڑوں کی جانب دیکھ کر ہاتھ لہراتے رہے۔

کشمیر میں سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے3  فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ جموں وکشمیر کے موقع پر ’’کشمیر بند‘‘ کی کال دے تھی۔  ان کا کہنا تھاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کا پانچ سالہ دور حکومت کشمیریوں کے لئے مظالم کادور رہا ہے جس دوران معصوموں کا لہو بے دریغ بہایا گیا، نونہالوں کی بصارتیں پیلٹ سے چھین لی گئیں، گھر آگ و آہن و بارود کی نذر کردیے گئے، ہمارے ہزاروں پیر و جوان قید و بند میں مبتلا کردیے گئے اور آپریشن آل آؤٹ کے تحت ہم پر قافیہ حیات تنگ تر کردیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق مودی نے جموں وکشمیر کے تینوں خطوں کا دورہ کرکے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھااور افتتاح کیا۔

انڈین گورنمنٹ نے کشمیر کے اندرڈویلپمنٹ پر کافی کام کیا ہے مگر کیا وہ ڈویلپمنٹ کشمیریوں کو خوش کرنے کے لیئے کافی ہے۔ کیا آزادی کا مطلب روڈز بنانا یا بجلی دینا ہوتا ہے؟ کیا کوئی ٹرین کا سسٹم لوگوں کی قیمتی جانوں کا ازالہ ہو سکتا ہے؟ ان چیزوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی ستر سالوں سے انڈین گورنمنٹ اس طرح کی اسکیموں سے لوگوں کے دل جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

اگر ایسٹ انڈین کمپنی پر نظر ڈالیں تو انہوں نے برصغیر میں بہت کام کیا تھا، تمام سڑکیں، ٹرین سسٹم، ہسپتال، سکول ، کالجزز، یونیورسٹیاں اور دیگر ڈویلپمنٹ ان کے سر ہی جاتی ہے۔ ابھی اگر انڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو وہاں ترقی کے سب کام ماضی میں ہوئے ہیں، اُس کا سہرا ایسٹ انڈین کمپنی کے سر جاتا ہے مگر وہیں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ برصغیر کے لوگوں نے آزادی کی تحریک اُٹھا ئی ہی کیوں۔ اتنے ترقی یافتہ پراجیکٹس کے باوجود ان کو آزادی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اگرچہ کاروبار کی غرض سے برصغیر میں آئی تھی مگر اُس کی اپنی ڈھائی لاکھ کی فوج بھی تھی اور جہاں جہاں ایسٹ انڈین کمپنی کو منافع نہیں ہوتا تھا وہاں فوج اُسے ممکن بنا دیتی تھی اور آہستہ آہستہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر کے لوگوں کا خون چوسنا شروع کر دیا۔

بنگال قحط تو شائد سب کو یاد ہی ہو گا۔ لوگ بھوک کی وجہ سے گلیوں سڑکوں پر تڑپ تڑپ کر مرنے لگے۔ ایسٹ انڈین کمپنی کا دورانیہ ایسے ہی دلخراش واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ مگر جب انسانی جانوں پر مظالم شدت اختیار کر گئے تو لوگوں نے بغاوت شروع کر دی اور اُنہوں نے سوچا زمیں بھی ہماری، وسائل پر بھی یہی قابض ہیں، ہماری زمین بھی ان کے قبضہ میں ہے اور ہم غلامی بھی خاموشی سے کر رہے ہیں مگر جب انسانی اقدار کی پامالی عروج کو پہنچی تو لوگ اپنے حقوق کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

مسئلہ کشمیر کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت ابھی اسے مسئلہ سمجھنے کے لیئے تیار ہی نہیں ہے مگر بھارت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ یہ دو کروڑ انسانوں کی زندگیوں اور اُن کے حقوق کامسئلہ ہے۔ جیسے انگلی سے سورج چھپانے سے سورج نہیں چھپ سکتا ویسے ہی اٹوٹ انگ کا راگ الاپنے سے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بن سکتا۔

اگر کشمیر پر نظر ڈالی جائے تو وہ بھارت کی دیگر ریاستوں سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ جہاں دس لاکھ کی فوج اور اُس کے بعد سینکڑوں ایجنسیزز اس وقت کام کر رہی ہیں۔ اس پر دیگر فورسز اور وہاں آفیسران کی فیملیز کی اگر تعداد ملائی جائے تو بیس لاکھ کا ہدف پورا ہو جاتا ہے تو کیا ایسی جگہ کو اٹوٹ انگ کہا جا سکتا ہے؟ مودی جی کا وزٹ کیا کشمیریوں کے زخموں کی آبیاری کرے گا؟ کیا جن ماؤں کے بچے ان سے چھنے گئے کیا وہ واپس آ جائیں گے۔ یہ نہ صرف مسٹر مودی بالکل ان سے پہلے آنے والے حکمرانوں نے بھی یہی طرزِ عمل اختیار کیئے رکھا جس کی وجہ سے گزشتہ تین دہائیوں سے لوگ اپنے حقوق کے لیئے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

مسٹر مودی کے وزٹ سے پہلے کشمیریوں پر ان کی اپنی ہی زمین تنگ کر دی گئی۔ جہاں کہیں موٹر سائیکلز نظر آتیں پولیس اُن کو اپنی تحویل میں لے لیتی۔ تمام سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کر دیا گیا۔ وادی کسی قید خانے کا منظر پیش کر رہی تھی۔ کیا اٹوٹ انگ ایسا ہوتا ہے۔ مسٹر مودی نے ڈل جھیل کی بھی سیر کی اور طلباء سے سوالات کے بھی جوابات دیئے، ان کی تقریر اور سوالات پہلے سے طے شدہ تھے۔

اگر کوئی اس خیال میں ہے کہ مسٹر مودی وہاں کشمیریوں کی خیر خواہی کے لیئے آئے تھے تو وہ اپنا قبلہ درست کر لیں کیونکہ مودی جی کا دورہ ان کی الیکشن کمپین کا حصہ تھا۔ انہوں نے ترقیاتی کاموں کا ذکر کیا اور فخر سے بتایا کہ ان کے دورِ حکومت میں تمام پراجیکٹس پورے کیے گئے۔ اب مودی جی سے کوئی کہے کیا آپ نے اتنی بڑی فوج وہاں پراجیکٹس مکمل کرنے کے لیئے رکھی ہے؟ اور اگر اسی لئے رکھی تھی تو برائے مہربانی اب پراجیکٹس مکمل ہو گئے ہیں برائے مہربانی انہیں واپس لے جائیں اور کشمیری عوام کو سکون کا سانس لینے دیں۔

 دوسرا پوائنٹ ان کی تقریر کا یہ تھا کہ سات سو فلیٹس میں کشمیری پنڈتوں کو شفٹ کیا جائے گا اور ان کی سکیورٹی الگ سے دی جائے گی۔ مطلب کشمیر کے اندر ایک الگ سے آبادی ہو گی جن کو اچھوت لوگوں (کشمیری مسلمان) سے دور رکھا جائے گا۔

کشمیری پنڈتوں کا سارا کھیل تو انڈین گورنمنٹ اور جگ موہن کا رچایا گیا ایک پری پلینڈ ڈرامہ تھا تو اس کے لیئے کشمیری مسلمانوں کو کس بات کی سزا دی گئی اور دی جا رہی ہے؟

کشمیری پنڈتوں  کے لیے ایک الگ علاقہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے انڈین گورنمنٹ کو؟ آخر کب تک انڈین گورنمنٹ یہ مذہب کا کارڈ کھیل کھیل کر ریاست میں تعصب اور نفرت کی آگ کو ہوا دیتی رہے گی؟ کیا اٹوٹ انگ ایسا ہوتا ہے؟

 ایسٹ انڈین کمپنی نے دو سو سال ہندوستان پر حکومت کی مگر آخر کار جانا ہی پڑا کیونکہ ریاست لوگوں کی ہوتی ہے کسی فرد واحد کی نہیں سو ریاست جموں و کشمیر بھی وہاں کے لوگوں کی ملکیت ہے کسی ملک کی ملکیت نہیں۔ بھارت اس حقیقت کو جتنا جلدی سمجھ لے اس کے حق میں یہ اتنا ہی مفید ہو گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online