Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

اے اہل کشمیر !مایوس مت ہونا (سید زبیر شاہ)

   اے اہل کشمیر !مایوس مت ہونا

سید زبیر شاہ  (شمارہ 680)

قیام پاکستان کے وقت کشمیر کی ۹۰ فیصد آبادی مسلمانوں کی تھی جو پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن وہاں کے ڈوگرا راجا ہری سنگھ نے مکاری اور عیاری سے کام لیتے ہوئے کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کردیا اور کشمیر میں بھارتی فوج داخل کرکے مسلمانوں کو اپنا دہشتگردانہ رویہ دکھایا۔بھارت یکم جنوری 1949 کو از خود مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیا ۔ جب اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت کی قرارداد منظور کی تو مسلسل اس سے رو گردانی کررہا ہے۔

۵ فروری یوم یکجہتی کشمیر بھارتی ظلم و ستم کے خلاف1990 سے منایا جارہا ہے ۔جس کا مقصد بھارتی قبضے میں مقبوضہ کشمیرکے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی ، ہمدردی اور انہیں یہ باور کرانا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں تنہا نہیں ہیں۔ پاکستانی عوام ان کے ساتھ ہیں وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے موقف کو دنیا کے سامنے ، عالمی اداروں تک پہنچاتے رہیں گے۔

دراصل کشمیر کشمیریوں کی عفت ،  اسلام کا قلعہ ، مسلمانوں کا آشیانہ ،دین کاخزانہ ،پاکستان کابایاں بازو، شہیدوں کا میراث، اور انسانیت کا مدرسہ ہے۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی بن کر رہے گا۔ہندو انتہاپسنداور دہشت گرد جتنا بھی اس پر قبضہ جمانے کی منحوس کوشش کرے اتنا ہی شرمندہ تعبیر ہوگا۔

آج وہی کشمیر ہندودہشتگرد وں کی فوجی چھاونی بن گئی ہے جس کشمیر کے انتظام چلانے کے لیے ایک ہزار اہلکاروں کی ضرورت تھی اسی کشمیر میں آج کل تقریباًساڑھے سات لاکھ انسانی شکل میں لیس ہندؤ درندے بس رہے ہیں جس کی وجہ سے سارا کشمیر لہو لہا ن ہے ، عورتو ں ، بہنوں کی عز تیں پامال ہورہی ہیں، بچوں ، بوڑھوں اور جوانوں کو بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے، لوٹ مار کا بازار گرم ہے، بے شمار مساجد و مدارس کو تالے لگائے جاچکے ہیں۔مسلمانوں کا روبار مفلوج ہے، زندگی کا نظام درہم برہم ہے، گھر گھر چھاپے، سرچ آپریشنز اور تلاشیاں روز کا معمول بن گیا ہے۔ بے گناہ مسلمان بچوں ، بوڑھوں ، بہنوں اور بھائیوں کو پابند سلاسل کئے جارہے ہیں۔جگہ جگہ، گلی گلی، کوچہ کوچہ،  فوجی بنکر اور مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لیے ہر راستے اور ہر موڑ پر رکاوٹیں ، جیلوں اور ٹارچر سیلوں میں مظلوم مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور گھر وں ،بازاروں اور مسجدوں میں توڑ پھوڑ ہندو انتہا پسند فوجیوں کا معمول بن چکا ہے۔ روز روز کرفیو اور جمعہ وعیدین کی نمازوں پر پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے  اور کشمیریوں کو زندگی کی ہر خواہش سے محروم رکھے جارہے ہیں۔

یوں تو نصف صدی کا عرصہ گزر چکا ہے کہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں ۔ جب کشمیری مسلمان ان کے اس دہشت گردانہ رویے سے تنگ آگئے تو کشمیری عوام اور مجاہدین اسلام نے بھی ان کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا اور ان وحشی ہندوؤں کا مقابلہ شروع کیا۔بچوں اور عورتوں نے بھی مجاہدین کشمیر کا سا تھ دیتے ہوئے پتھروں سے ہندو درندوں کا بدلہ چکانے لگیں۔ شہر شہر ، گلی گلی میں حتیٰ کہ کشمیر کے کونے کونے میں پاکستان زندہ باد اور اسلام زندہ باد کے نعرے اُبھرنے لگے۔گلی کوچوں ، محلوں اور بازاروں میں آزادی کشمیر کے ریلیاں اور جلوسیں شروع ہوگئے۔ مسلمان ہندوؤں کے ظلم وستم سے چھٹکارا پانے کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے لگے حتیٰ کہ بھارتی درندوں کے نیندیں اُڑادیں۔

 افسوس ! آج مسلمان خاص کر پاکستان کے مسلمان عیش پرستی اور توہم پرستی کاشکار ہے ۔ اہل کشمیر جو ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے ساتھ ملکر جیناپسند کرتے ہیں ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔کشمیر جل رہاہے لیکن ہمیں احساس تک بھی نہیں ، حالانکہ ہاتھ ہیں لیکن کشمیریوں کے حق میں حرکت کرنے سے قاصر ہیں۔پاؤں ہیں لیکن اہل کشمیر کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے زمینیں ، سرحدیں ، پہاڑیں اور فاصلے روند تے ہوئے چل نہیں سکتے۔زبانیں ہیں مگر حب الدنیاوکراہیت الموت نے بے حس وحرکت بنائی ہیں۔عقل ہے لیکن اہل کشمیر اوران پر ہونے والے  مظالم کے خلاف استعمال کرنا عیب سمجھتے ہیں۔ قلم اور بصارت ہے لیکن اہل کشمیر اور مظلوم لوگوں کی پکار اور خدمت کو لکھ نہیں پاتے لھٰذا  ہمیں کشمیریوں سے معذرت مانگنا چاہئے اور اہل کشمیر کے ساتھ دلی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم مسلمان تمھارے ساتھ غم میں برابر کے شریک ہیں اور ہم بھی ہر ممکن کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی حد تک آزادی کشمیر کے تحریک میں حصہ لے سکیں۔

   سنو سنو سنو! اہل کشمیر سنو!کبھی آزادی سے مایوس مت ہوناکیونکہ اندھیر اکتنا گہرا ہو سحر کی راہ میں حائل کبھی نہیں ہوسکتا اور سویرا ہوکے رہتا ہے۔ امیدوں کے سمندر میں طلاطم آتے رہتے ہیں ، سفینے ڈوبتے بھی ہیں لیکن سفر نہیں رُکتا۔سفر آزادی میں مصیبتیں ضرور آتی رہتی ہیں ، شہادتیں ضرور ہوتی ہیں، زخم پڑتے ہیں ، گھر بار تباہ ہوجاتے ہیں، کاروبار برباد ہوجاتے ہے، پیارے بچھڑ جاتے ہیں  لیکن مصیبت کے اندھیروں میں کبھی بھی مایوس نہ ہونا، اللہ تعالیٰ تمھارے سینوں کے ٹیسوں کو یونہی دکھتے نہیں دے گا، کبھی وہ آس کا دریا  رُکھنے نہیں دے گا۔کبھی شہادتوں او ر زخمیوں کے قربانیوں کو ضائع نہیں کرے گا۔تمھارا خون رائیگا نہیں جائیگا مگر کبھی بھی مایوس نہ ہونا۔کیونکہ مسلمان زندہ ہیں ، اسلام کا نعرہ تابندہ ہے، نبی الملاحم کے غلام پُرجوش ہیں، محمود غزنویؒ ، نورالدین زنگیؒ اور سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ کے پیر وکار سر پر کفن باندھے ہوئے پُر عزم ہیں، محمد بن قاسم کے جانباز تیار ہیں،  لیکن اہل کشمیر ! ، تمھیں تھوڑا صبر واستقامت سے کام لینا ہے،  آزادی ضرور ملے گی، ہم مسلمان بیک آواز تیرے لئے نعرہ  آزادی بلند کرتے ہیں، تکبیر ہمارا نعرہ ہے، جہاد ہمارا راستہ ہے، ہم تمھیں آزادی ضرور دلائینگے۔

اے مظلوم اور محکوم کشمیر!اہل پاکستان ،  صاحب الایمان،  لشکر اسلام،  اور عیور مسلمان تیرے آزادی کے خاطر ہر میدا ن میں ، ہر آن میں، ہرمکان میں، اور ہر شان میں نعرہ  آزادی بلند کریں گے، خواہ وہ جنگی میدان میں ہو ، سیاسی میدان میں ہو، عالمی میدان میں ہو، مالی میدان میں ہو، زبانی میدان میں ہو، الیکٹرانک میڈیا پر ہو،   پرنٹ میڈیا پر ہو،جلسوں جلوسوں کی صورت میں ہو،یا کسی بھی صورت میں ہو لیکن تحریک آزادی سے تکمیل آزادی تک اپنا کوشش جاری رکھیں گیاور اہل صنم پر یہ بات ظاہر کریں گے اور اس وقت تک یوم یکجہتی کشمیر بھی عملی طور پر جانیں پیش کرکے  منائینگے  کہ کشمیر ہمارا تھا،ہماراہے، اور ہمارا ہی رہے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online