Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان (عائشہ صدیقی عائش)

طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان

عائشہ صدیقی عائش  (شمارہ 680)

والدین کے لیے وہ دن کتنا ہی سہانا ہوتا ہے کہ جب وہ اپنی اولاد کو رشتہ ازواج میں منسلک کردیتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ناتواں کے کندھوں سے ایک بھاری ذمہ داری کا بوجھ اتر گیا۔ وہ اپنے آپ کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں لیکن شادی کے کچھ ہی عرصے بعد جب ان دونوں کی آپس میں نہیں بنتی، روز روز کے چھوٹے موٹے جھگڑے بڑھ جاتے ہیں تو نوبت طلاق تک آ پہنچتی ہے تب والدین کو ایسا زبردست شاک لگتا ہے جو انہیں اندرسے مکمل طور پر کھوکھلا کردیتا ہے۔ یہ صرف ایک گھر کا نہیں بلکہ دونوں خاندانوں کا چین و سکون چھین لیتا ہے۔

طلاق ،طلاق، طلاق: بظاہر توتین الفاظ ہیں مگریہ ایسی تاثیر رکھتے ہیں کے گھروں کے گھر اجاڑ دیتے ہیں ۔ہمارا اپنا ملک پاکستان ایک سنگین صورتحال  اختیار کرچکا ہے ۔کسی بڑے جھگڑے وغیرہ سے نہیں بلکہ معمولی سے معمولی رنجشوں پر بھی طلاق عام ہے۔ جس میں سر فہرست صبر و برداشت کی کمی ہے۔حالانکہ قران مجید میں ارشاد باری تعالی ہے کہ :

 "اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تم میں سے تمہارے لیے جوڑ بنایا  تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرسکو اور تمہارے درمیان مودت و رحمت رکھ دی گئی ہے۔ بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کے لئے"(سورہ روم )

میاں بیوی کا رشتہ ایک پاکیزہ رشتہ ہے۔ یہ( سنت نبوی ) نکاح کرنے کے بعد وجود میں آتا ہے ۔ یہ محض کئی گھنٹوں یا سالوں کا نہیں بلکہ زندگی بھر کے ساتھ کا نام ہے۔ اس لیے اس میں سمجھداری اور حکمت سے کام لینا چاہیے تاکہ اس رشتے کو مضبوطی سے برقرار رکھا جائے کیونکہ جب اینٹیں جڑتی ہیں تو مکان بنتے ہیں اور جب دل جڑتے ہیں تو گھر بستے ہیں ۔اللہ رب العزت نے مسلمانوں کے لیے جتنا  پاکیزہ رشتہ بنایا ہے اتنا اس کو احسن طریقے سے نبھانے کے گر بھی بتائے ہیں اسی طرح بلاوجہ توڑنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے۔ مشکو ۃشریف میں طلاق کے بارے میں ارشاد نبوی ہے ۔

"مباح چیزوں میں خدا کے نزدیک مبغوض ترین چیز طلاق ہے"

ہاں!شریعت میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر مرد اور عورت ایک دوسرے کو  ناپسند کرتے ہوں اور علیحدگی چاہتے ہوں تو کوئی ممانعت نہیں۔  آج معاشرے میں طلاقیں عام ہوتی جارہی ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر کے گھر اجڑ رہے ہیں۔ آخر طلاقیں کیوں بڑھ رہی ہیں ؟اس سوال کے جواب میں مندرجہ مشاہدات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

صبر وبرداشت کی کمی :

آج کے دور میں مرد ہو یا عورت، دونوں میں صبر و برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور بنیادی وجہ یہی ہے کہ گھروں میں لڑائی جھگڑے ختم ہونے کے بجائے بڑھتے جاتے ہیں۔ زبان درازی عام ہے بلکہ یوں سمجھیں کہ یہ بری خصلت ہر گھر کی باندی ہے ۔چھوٹی سی بات پر تو تو میں میں ،سنگین صورت اختیار کر جاتی ہے۔مرد غصے میں ایک بات کرتا ہے تو بیوی آگے سے چار سناتی ہے۔ بس پھر یہی سلسلہ چلتا ہوا طلاق تک آ پہنچتا ہے۔ اگر دونوں صبر کا مظاہرہ کریں مرد کے ساتھ عورت بھی زبان پر قابو رکھے تو گھر کو نار کے بجائے گل گلزار بناسکتی ہے۔

بے اولادی :

ابھی حال ہی میں ایک گھرانے میں طلاق کا واقعہ رونما ہوا ہے افسوس کے لیے گئے تو پتہ چلا کہ تین بیٹیاں تھی اولاد نرینہ نہ ہونے کے سبب طلاق دے دی ۔آپ ذرا خود سوچئے کیا اولاد نرینہ کا ہونا نہ ہونا عورت کے اختیار میں ہے ؟ یا اولاد کی عطا خدائے تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے۔

 قران مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:

موبائل دوستی:

عورت ایسی ذات ہے جو کسی راہ پر بھی بھٹک سکتی ہے۔اب تک کتنی ایسی عورتیں ہیں جو عشق و معشوقی کے چکر میں اپنے گھروں کو برباد کئے ہوئے ہیں۔ آئے روز قسما قسم کی خبریں اخباروں اور رسالوں کی زینت بنتی جا رہی ہیں۔ facebook ہویا چاہے کوئی اور ذریعہ۔ ایک فرینڈ بنا بڑا ہی ہمدرد پھر چند دنوں میں ایسے سبز باغ دکھائے اپنی محبت کے ایسے نقشے کھینچے کہ بیچاری عورت نے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر لیا ۔طلاق کا ملنا تھا کہ عورت نے خوشی سے اس لڑکے سے رابطہ کرنا چاہا مگر بے سود۔ اب عورت نہ یہاں کی رہی نہ وہاں کی۔اس لئے عورت ذات کو اتنی کھلی چھوٹ نہ دی جائے کہ وہ حد سے نکل جائے اور واپسی کا کوئی راستہ باقی نہ رہے

بے جوڑ رشتے :

 کئی والدین اپنی اولاد کے لیے بڑے ہی سہانے سپنے دیکھا کرتے ہیں جیسے اچھا بنگلہ ہو۔عیش وعشرت کی زندگی گزارنے والے ہوں۔اچھا کمانے والا ہو۔ پھر ٹرکوں کے ٹرک لاد کر جہیز دیا جائے ۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ لاکھوں روپے کے قرضے میں جکڑ لئے جاتے ہیں۔ بیٹی جب اپنے سے اونچے گھر میں جاتی ہے تو وہاں کے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پاتی یا کبھی کبھار کچھ ایسے مسائل رونما ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ساری زندگی کے لئے طلاق کا دھبہ لئے گھر میں آ بیٹھتی ہے اور بعض اوقات اس کے برعکس ہوتا ہے۔

میری والدین سے گزارش ہے کہ

خدارا! اپنے بچوں کی زندگیاں مت خراب کریں انہیں اس بندھن میں جوڑنے سے پہلے خوب دیکھ بھال کرلیں۔ اپنے اسٹیٹس کے مطابق ڈھونڈیں ۔اور اپنے بچوں کی تربیت ایسے خطوط پر کریں کہ وہ دوسرے گھر کو بھی اپنا سمجھیں اور اپنے آپ کو اسی ماحول میں ڈھالیں ساتھ ہی ان کو صبر و برداشت کی تلقین کریں تاکہ وہ اپنے گھر کوسنواریں اسے برباد ہونے سے بچائیں ۔

آج کی نوجوان نسل سے بھی گزارش ہیکہ اپنے دلوں میں وسعت پیدا کریں اگر دونوں میں کسی ایک سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو معذرت میں پہل کریں ۔غصے کے وقت خاموشی اختیار کریں۔ بحث سے جتنا ممکن ہو سکے بچائو اختیار کریں ۔چھوٹی چھوٹی باتوں پرلڑنے کے بجائے درگزر کریںتاکہ آپ کا گھر امن کا گہوارہ بن سکے۔اللہ پاک ہمیں سمجھ عطا فرمائے اور ہمارے گھروں کوجنت کا باغ  بنائے (آمین یارب العالمین)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor