Bismillah

686

۱۴تا۲۰رجب المرجب۱۴۴۰ھ  بمطابق ۲۲تا۲۸مارچ۲۰۱۹ء

پیارے افضل گورو شہیدؒ (نشتر قلم۔زبیر طیب)

پیارے افضل گورو شہیدؒ

نشتر قلم۔۔زبیر طیب (شمارہ 681)

9 فروری وہ دن تھا جب ایک مظلوم اور معصوم پیارے افضل گورو ؒ کو بھارتی حکومت نے پھانسی دے کر شہید کر دیا…

لیکن وہ دن اور آج کا دن… نہ اس دن کو کشمیری بھول پائیں ہیں اور نہ ہی انڈین حکومت اس دن کو بھول پائی ہے…

ہر دن جب بھی سور ج غروب ہوتا ہے AGS جاگ جاتی ہے اور بھارتی حکمرانوں کو یاد دلاتی ہے کہ تم نے ہمارے پیارے افضل کو شہید کیا تھا۔

 9 فروری 2013ء کو کشمیری محمد افضل گوروکو بھارتی ہندو اسٹیبلشمنٹ نے دہلی کی تہاڑ جیل میں نہایت ظالمانہ طریقے سے پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔ اس ستم پر مزید ستم یہ ڈھایا گیاکہ شہید کی میت بھی اُن کے والدین، بیوہاور نہایت کمسن اکلوتے بیٹے (غالب)کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ افضل گوروشہیدؒ کے چاہنے والوں نے بھی خالص اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ایک دن ہندو ضرور پچھتائے گا اور بلاشبہ آج وہ اپنے ہی زخم چاٹنے پر مجبور ہے۔

اگرچہ آج 6 سال گزرنے کے باوجود شہید افضل گرو اب بھی تہاڑ جیل کے اندر ہی مدفون ہے۔

مگر ڈرپوک ہندو بنیا جان چکا ہے کہ جس شہید کی پھانسی نے ان کے کئی جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار پھینکا ہے اگر اس کی میت ان کے چاہنے والوں کے ہاتھ پہنچ جائے تو انہیں ایک نئی مہمیز ملی گئی اور انتقام کا ایک نیا جذبہ … تب ان کے ساتھ کیا ہو گا؟

یہ سوچ کر ہی ان کا خوف مزید بڑھ جاتا ہے۔ ایک قیدی جو پھانسی کے بعد بھی قید میں ہے ۔لیکن اس کی سوچ اور روح آزاد ہو چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کشمیر کے ہر ہر نوجوان میں افضل گورو کی روح جاگ گئی ہو۔ آپ افضل گورو ؒ کی شہادت سے پہلے اور بعد کی تحریک کا موازنہ کر لیں حقائق پوری طرح واضح اور کھل کر سامنے آ جائیں گے۔افضل گورو شہیدؒ کشمیر کی آزادی میں ایک نئی تحریک اور جذبہ بن کر ابھرے جنہوں نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کے دل بدل دئیے۔

افضل گورو کی پیدائش30 جون 1969 کو  جموں و کشمیر کے ضلع بارامولہ میں ہوئی۔ 1986ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ سوپورمیں اعلیٰ ثانوی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ایک طبی دانشگاہ میں داخلہ لیا۔ انہوں نے اپنے ایم بی بی ایس نصاب کا پہلا سال مکمل کر لیا تھا اور مقابلے کے امتحان کی تیاری میں تھے۔

بھارت کی عدالت عظمٰی نے 2004ء میں انہیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ افضل گورو کو 20 اکتوبر 2006 میں صبح چھ بجے پھانسی ہونی تھی لیکن مجاہدین کی تباہ کن دھمکیوں کی بناء پر ہندو بنئے کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ افضل گورو شہیدؒ کو ہاتھ بھی لگا سکیں۔ اس کے بعد 23 جنوری، 2013 کو صدر  انڈیا نے بھارتی انتہا پسندوں کے مسلسل دباؤ پر پھانسی کے آرڈر پر دستخط کر دئیے۔ 4 فروری 2013 کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ افضل گورو کو 9 فروری 2013 بروز ہفتہ کی صبح 5 بجے جگایا گیا، انہوں نے نماز ادا کی پھر تین گھنٹے بعد پرسکون انداز سے خودتختہ دار تک چل کر گئے۔09 فروری 2013ء بھارتی وقت کے مطابق صبح 8 بجے افضل گورو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ 8 بجے پھانسی کے بعد انہیں جیل کے سیل میں دفن کر دیا گیا۔ جیل حکام کے مطابق افضل گورو اداس ہونے کی بجائے پرسکون تھے۔ جیل ڈائریکٹر جنرل وملہ مہرا کا کہنا ہے کہ افضل خوش اور صحت مند تھے۔ ان کے سیل سے 20 میٹر کے فاصلے پر پھانسی دی گئی۔ تختہ دار پر چڑھانے سے قبل ان کا طبی معائنہ کیا گیا، ان کی صحت اور خونی دباؤ نارمل تھا۔

افضل گورو کو پھانسی کی سزا دینے کے بعد مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے سری نگر سمیت کئی شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ جموں و کشمیر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور کیبل سروس معطل کر دی گئی۔ کشمیری حریت رہنماؤں نے افضل گورو کی پھانسی کے خلاف چار روزہ ہڑتال کی اپیل کی۔

جیل میں افضل گورو شہیدؒ نے ایک عجیب معجزاتی کتاب لکھی ۔ سچ کہتا ہوں کہ اگر کسی نے جہاد کشمیر کو  واقعتاً سمجھنا ہو تو صرف ایک کتاب ’’آئینہ ‘‘ کو پڑھ لے۔ ان شاء اللہ اسے جہاد کشمیر کے بارے کسی قسم کا ابہام نہ رہے گا۔ ان کی کتاب کا ایک چھوٹا سا اقتباس پیش خدمت ہے :

افضل گورو شہید رحمتہﷲکا کشمیری نوجوانوں کے نام پیغام:

’’نوجوانان کشمیر!شہداء کی امانت ان کا مشن آپ کے کندھوں پر ہے اس کو آگے لے جانا آپ پر ایسا فرض بن چکا ہے جیسے نماز اور روزہ...بھارتی فوج کی موجودگی میں ہمارا مال ہماری جان سب سے بڑی چیز ایمان اور ہماری بیٹی ماں بہن کی عزت نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ اسکا لٹنا یقینی ہے(اگر ہم نہ کھڑے ہوئے) یہ لڑائی و جنگ اب پہنچتے پہنچتے ہماری ماں بیٹی کی عزت و عصمت بچانے کے مرحلے و مقام تک پہنچ گئی ہے اب حجت قائم ہو چکی ہے۔‘‘(آئینہ ، تصنیف,افضل گورو شہیدؒ)

مبارک اورتحسین کے قابل ہیں وہ نوجوانان کشمیر جو افضل گورو شہیدؒ کے اس پیغام پر لبیک کہہ کر نکل چکے ہیں یا نکلنے کی تیاریوں میں ہیں۔ بلاشبہ ان 6 سالوں میں تحریک آزادی کشمیر کا نقشہ ہی تقریباً تبدیل ہو چکا ہے۔ اب کشمیر کا بچہ بچہ انڈیا کی مکاری اور عیاری سے واقف ہو چکا اور اب کسی صورت پیچھے ہٹنے کی کوئی سبیل نطر نہیں آتی۔ اب مسلسل آگے بڑھنا ہے چاہے اس کے لئے کس قدر قربانیاں دینی پڑیں۔ ان کا ساتھ دینے کے لئے ان کے مسلمان بھائی شانہ بشانہ قدم ملا کر کھڑے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔

افضل گورو کا اخلاص ہی ان کا سب کچھ تھا۔ وہ جس درد اور سوز کو اپنی کتاب ’’آئینہ ‘‘ میں اتار گئے اس کا کوئی نعم البدل نہیں وہ انمول تھے بہت انمول اور قیمتی…

وہ جاں راہِ حق پہ لٹا گیا

یہ کون ادائے مقبول دُہرا گیا

کیسے لینی ہے جنت نے آزادی

یہ سبق بھی گورو پڑھا گیا

وہ زندہ و جاوید ہے اب بھی

نادان کہتے ہیں کہ مارا گیا

وہ ہمسفر سفر شہید ملت

ہمیشہ کی زندگی پا گیا

اپنے لیے جینا بھی کوئی زندگی ہے

وہ وطن پہ مرنا سیکھا گیا

اے راہ حق کے شہیدوطن

تجھے دلِ ایمان سے چاہا گیا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online