Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جدید ٹیکنالوجی اور ہماری فطری صلاحیتوں سے دوری (رضوان چوہان)

جدید ٹیکنالوجی اور ہماری فطری صلاحیتوں سے دوری

رضوان چوہان  (شمارہ 681)

مجھے ماہی گیر برادری کے ایک فرد نے بتایا کہ جدید آلات کا عادی ہونے کی وجہ سے ہم اپنی نسل در نسل سے آتی ہوئی فطری صلاحیتیں کھوتے جا رہے ہیں جیسا کہ پرانے تجربے کار کپتان موسم کا اندازہ ہواؤں سے فضا میں محسوس ہونے والی خوشبو سے یا چاند اور بادلوں سے لگا لیتے تھے، ستاروں سے مختلف سمتیں سمجھنے میں انہیں مہارت حاصل ہوتی تھی، یہاں تک کہ وہ پانی کے اُتار چڑھاؤ سے اور حرکت سے بھی کافی چیزوں کو معلوم کر لیتے تھے، کسی طویل بحری سفر میں خوراک اور پانی کی حفاظت اور انتظام کے بہت سارے پرانے راز اب باقی نہیں رہے۔ غرض یہ کہ بے شمار ایسی صلاحیتیں تھیں جو نئی نسل گنوا چکی ہے، اب لوگ اپنی فطری صلاحیتیں اُبھارنے پر دھیان نہیں دیتے، بل کہ ٹیکنالوجی کے رحم و کرم پر اِنحصار بڑھتا چلا جا رہا ہے جو برادری کے پرانے بزرگوں کی نظر میں خوش آئند بات نہیں ہے، یہ وہ زنگ ہے جو مستقبل کے کسی مشکل یا ہنگامی حالات میں نسلوں کو نہ بچاؤ کے قابل رکھے گا، نہ یہ کسی ہنگامی حالت کا مقابلہ کر سکیں گے۔

ہمارے اَجداد قبل از قبولِ اسلام تقریباً آٹھ صدیاں پہلے بر صغیر کے حکمران تھے اس زمانے کی جو معلومات میں حاصل کر سکا ہوں اس کے حساب سے مرد و زن سمیت نوجوان اور بچے بھی فنونِ سپاہ گری سے واقفیت رکھتے تھے جس طرح آج کے دور میں اسمارٹ فون سے واقفیت ضروری ہے، اُس زمانے میں لوہے کے ساتھ دوستی ضروری تھی، غرض یہ کہ مرد و زن اور بسا اوقات بچے بھی لوہے سے مختلف ہتھیار اور اَوزار بنانے کے ماہر تھے، سونے اور جواہرات کا فن راجھستان سے زیادہ پورے بر صغیر میں کہیں نہ تھا، لکڑی کا کوئی بھی کام ہو، اکثر لوگ جانتے تھے، مختلف موسموں اور حالات کا مقابلہ کرنے کی تربیت ہوتی تھی، صحراؤں میں جنگلوں میں یا برفانی پہاڑوں میں کس طرح گزارا کرنا ہے کس طرح بچاؤ کرنا ہے اور دشمن پر کیسے غالب ہونا ہے، ہر فن ان کے خون میں تھا، تفصیل سے قطع نظر بعد از قبول اسلام ہمارے اَجداد بحری تجارت سے منسلک ہوئے اور بحری سفر و تجارت کے ہر فن اور صلاحیت کو اپنایا گیا، یہاں تک کہ انگریز کے آنے کے بعد نہ جانے وہ کیا حالات تھے کہ قدیم لوگوں کی بحری تجارت تباہ ہو گئی اور پھر اکثر لوگ انجینیرنگ سے منسلک ہوئے، اب آج اس جدید دور میں اپنے خاندان برادری کو دیکھتا ہوں تو ہم اپنے وہ پچھلے تمام فنون اور صلاحیتیں کھو چکے ہیں اور میرا ذاتی طور پر مشاہدہ ہے کہ اب ہمارے بعد والی نسل صرف ڈگریوں یا کمپیوٹر ڈپلوموں کے سہارے پر ہے، نسل در نسل چلی آنے والی فطری صلاحیتیں ہم گنوا چکے ہیں، اور زمانے کے رحم و کرم کے حوالے خود کو اسی طرح کر چکے ہیں جس طرح باقی برادریوں اور اَقوام کے ساتھ ہوا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد والی نسل تو اسمارٹ فون کے آسرے پر زندگی گزارے گی۔، انہیں فلم اسٹاروں کا علم ہوگا، کرکٹ کے کھلاڑیوں کا، مختلف فیشنز اور موبائل کی اقسام کا، یا مختلف سوفٹویرز پر ویڈیوز بنانے کا اور ٹرینڈز فالو کرنے کا جنون باقی رہ جائے گا۔

میں نے اپنے آپ پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ تہذیب جدید اور شہری زندگی نے پھر کچھ علم و فن نے سب سے پہلے تو جفا کشی سے اور سخت جانی سے محروم کیا اور بہت ساری صلاحیتیں ایسی ہیں جن سے بالکل واقفیت نہیں ہے، جب کہ کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات میں ان کی ضرورت ہی سب سے زیادہ ہوگی، ماضی کے کامیاب ترین لوگ علم و فن میں مہارتوں کے باوجود بھی تمام فطری صلاحیتوں سے آراستہ ہوتے تھے، ضروریات زندگی کے ہر کام سے بنیادی واقفیت ہوتی تھی، کاشتکاری سے لے کر سپاہ گری تک موسموں کی مختلف خوراکوں کے حصول سے لے کر، انہیں محفوظ کرنے تک مویشی بانی سے لے کر مختلف بیماریوں کے علاج کی بھی شُد بُد ہوتی تھی، اپنی زمین سے علاقوں سے اپنی خوبیوں سے خامیوں سے واقف ہوتے تھے کسی قسم کی جنگوں کا یا آفات کا مقابلہ کیسے کرنا ہے ماضی بعید کے لوگ اس کی فطری صلاحیت رکھتے تھے بڑے بڑے بادشاہ اپنی اولادوں کو زندگی کے اَسرار و رموز سکھانے کے لیے جوکھم میں ڈالتے تھے مہمات پر بھیجتے تھے فضولیات و خرافات اور ٹائم پاس کرنے کا کوئی تصور نہ تھا اس لیے رسمی تعلیم سے دور لوگ بھی جہاں دیدہ اور پختہ کار ہوتے تھے۔

میرے دادا مرحوم نے اپنی بیمار والدہ کو کندھوں پر اُٹھا کر حج کیا تھا، اس وقت اکیلا حج کرنا بھی آسان نہ تھا، کیا یہ ان کی فطری صلاحیت پر زبردست دلیل نہیں ہے ؟ ہمیں سوچنا ہوگا خود کو اور اپنی اولاد کو وہ تعلیم اور تربیت دینی ہوگی، ان فطری صلاحیتوں کو بنیادی فنون کو سیکھنا ہوگا جو زمانے میں پنپنے کے لیے ضروری ہیں، ورنہ یاد رکھیں آکسفورڈ کی ڈگریاں بھی ردی کا ٹکڑا ہیں، کمپیوٹر کے ڈپلومہ بھی زنگ ہیں، ملٹی نیشنل کی یا سرکاری نوکریاں بھی معذوری ہیں، اسمارٹ فون ناچ گانوں کھیلوں اور فضولیات و خرافات کی بھرمار، سوفٹ ویرز اور فضول ٹیکنالوجی ہمارے خواص سے بھی علم و فن اور فطری صلاحیتیں چھین رہی ہے، تو عامی تو رسوائی کے اندھیرے میں ہیں، زمانے میں پنپنے کے سارے راز ہم گنواتے چلے جا رہے ہیں اپنے اَجداد اور اَسلاف کے راستوں سے بہت دور جا کر ہم سمجھ رہے ہیں کہ ہم ان سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں بہت آگے ہیں اس کا پتہ آنے والا مشکل وقت بتائے گا کہ زمانے کے شہسوار کون تھے ؟

ٹیکنالوجی سے انکار نہیں ہے لیکن ٹیکنالوجی پر ایسا انحصار اور اتنی تن آسانی کہ کسی ہنگامی حالت میں انسان کسی کام کا نہ رہے یہاں یہ نکتہ موضوع ہے یاد رکھیں کچھ صلاحیتیں ایسی ہوتی ہیں جو بنیادی حیثیت رکھتی ہیں انسان کا ان سے بچھڑ جانا تباہی کی طرف گامزن ہونے کی نشانی ہے اور اقوام اگر یہ روش اختیار کر لیں تو لازمی وہ کسی بھی مشکل وقت میں ناکامی کا شکار ہی ہوں گی۔

خوراک کے حصول کا فن بنیادی صلاحیت ہے ہم میں سے کتنے پڑھے لکھے لوگ کاشتکاری جانتے ہیں اناج سبزیوں اور فروٹس کی کاشت کے فن سے واقفیت رکھتے ہیں؟ ہم سب گوشت کھاتے ہیں لیکن جانور ذبح کرنا کس کس کو آتا ہے؟ ہم تو عید کے دن بھی قصائی ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں، پرانے زمانے کی خواتین بچوں کی نگہداشت بہتر جانتی تھیں بیماری سے پہلے ہی آگاہ ہو جاتی تھیں اور مختلف طریقہ علاج سے انہیں واقفیت ہوتی تھی یہی وجہ تھی کہ انہیں اسپتالوں کے چکر نہ کاٹنے پڑتے تھے، بنیادی طبی ضروریات اور علاج سے واقفیت ضروری صلاحیت ہے، اس سے آج کتنے مرد و خواتین واقف ہیں؟

حافظہ ایک بنیادی صلاحیت ہے ہم کیلکولیشن بھی اب کیلکولیٹر کے بغیر کرنے کے قابل نہیں رہے یہاں تک کے گھر کے نمبر بھی اکثر لوگوں کو یاد نہیں ہوتے۔

اس طرح بہت سی مثالیں ہیں تمام ضروریات کو درجہ بدرجہ تقسیم کیا جا سکتا ہے اور ان کے لیے درکار صلاحیتوں کو بھی لیکن افسوس ہم بہت تیزی سے ان تمام صلاحیتوں کو کھوتے جا رہے ہیں ہمارے لوگوں میں سے بہت کم تعداد ایسی ہوگی جو اپنا اور اپنے اہل عیال کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، کیا نئی نسل کو کسی جنگ یا وسیع پیمانے پر دنگے فساد کا سامنا کرنا نہیں پڑ سکتا؟ کیا دفاع کی ضرورت خوراک کے بعد بنیادی حیثیت نہیں رکھتی؟ غرض یہ کہ تفصیل تو کافی طویل ہو جائے گی آپ لوگ ماشاء اللہ جو پڑھے لکھے ہیں ادیب ہیں ڈاکٹرز ہیں انجینئرز ہیں لکھاری ہیں کسی آنے والے مشکل وقت میں اپنے آپ کو آزما لیجیے گا کہ صعوبتوں میں ذہانت کتنا ساتھ دیتی ہے یا آپ کی تحاریر اس وقت کس کام کی ہوں گی بس آنے والا وقت ہمیں اپنے آپ سے واقف کروا دے گا۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor