Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نعمان شہیدؒـ۔غزوہ ہند کا کمسن شہید (بل احیاء۔ حبیب الحق)

نعمان شہیدؒـ۔غزوہ ہند کا کمسن شہید

حبیب الحق (شمارہ 685)

اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’عصابتان من امتی احرزھم اللہ من النار عصابۃ تخز الھند وعصابۃ تکون مع عیسی ابن مریم‘‘

ترجمہ: میری امت کی دو جماعتوں پر اللہ نے جہنم کی آگ حرام فرمادی ہے ایک وہ جماعت جو غزوہ ہند میں شرکت کرے گی اور دوسری وہ جماعت جو حضرت عیسیٰ ابن مریم کے ساتھ ملکر جہاد کرے گی۔

آج کل غزوہ ہند عروج پر ہے۔۔۔ غزوہ ہند کے اہم معرکہ ’’معرکہ پلوامہ‘‘ کے بعد تو ہندوستان کے حکمران پوری دنیائے کفر کے حکمرانوں کے ’’چرنو‘‘ میں گرے پڑے ہیں کہ بھگوان کے لئے ہمیں مجاہدین غزوہ ہند کی یلغار سے بچائو۔۔۔ لیکن ان شاء اللہ نبی علیہ السلام کا فرمان پورا ہوگا۔۔۔ خوش قسمت لوگ اس عظیم جہاد میں شرکت کرکے جہنم سے خلاصی کے پروانے حاصل کررہے ہیں اور عنقریب وہ دن دور نہیں کہ جب نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق ہندوستان کے ان مشرک حکمرانوں کو مجاہدین زنجیروں میں باندھ کر لائیں گے۔۔۔۔

محترم قارئین! آج کے کالم میں آپ غزوہ ہند میں شرکت کرکے جہنم سے خلاصی کا پروانہ حاصل کرنے کے بعد غزوہ ہند کے افضل الشہداء میں اپنا اندراج کروانے والے کمسن شہید محمد نعمان رحمہ اللہ کا تذکرہ پڑھیں گے۔چند دن قبل راقم کو مرکز کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ مقبوضہ کشمیر میں جام شہادت نوش کرنے والے محمد نعمان شہیدؒ کے گھر جاکر محمد نعمان شہیدؒ کی شہادت کی اطلاع ان کے والدین کو دی جائے۔۔۔ چنانچہ شعبہ امور شہداء کی جانب سے 5 رکنی وفد بنایا گیا جس میں صوبائی منتظم صوبہ علیؓ بھائی محمد عارف صاحب، شعبہ احیائِ سنت کے منتظم محترم جناب بھائی محمد اسلم صاح، امام و خطیب جامع مسجد رشیدیہ ملیر ٹنکی حضرت مولانا خالد الاسلام صاحب، ضلع حسن کے منتظم بھائی غفران اور راقم شامل تھے۔

مذکورہ جماعتی وفد 13 جنوری بروز اتوار بعد نماز عشاء عبداللہ گوٹھ کراچی نعمان شہیدؒ کے محلے پہنچا۔۔۔۔ شہید کے والد اور اہل محلہ نے وفد کو خوش آمدید کہا اور ایک طرف چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ جس مقام کی طرف ہمیں چلنے کا اشارہ کیا گیا تھا جب ہم اس مقام پر پہنچے تو وہاں ایک پنڈال سجایا گیا تھا۔۔۔ پنڈال کے اندر دیواروں پر نعمان شہیدؒ کانفرنس اور جہادی نعرے درج تھے۔۔۔ جماعتی وفد کو پنڈال میں بنے اسٹیج پر بٹھایا گیا۔

شہید کی یاد میں روح پرور کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔۔۔ تلاوت کے بعد نعمان شہیدؒ کی یاد میں ایک نظم پیش کی گئی۔۔۔ نظم کے بعد راقم نے غزوہ ہند کے موضوع پر مختصر بیان کیا اور شہید کی بہادری، شجاعت اور شہادت کی کارگزاری سنائی۔

راقم کے بیان کے بعد حضرت مولانا خالد الاسلام صاحب نے شہادت کے موضوع پر مفصل بیان فرمایا۔

یہ مبارک مجلس جماعتی بزرگ اور شعبہ احیائِ سنت کے منتظم بھائی محمد اسلم صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔

کانفرنس کے اختتام پر شہیدؒ کے والد محترم بھائی سجاد کی طرف سے تمام شرکاء کے لئے اپنے شہید بیٹے کے ولیمے کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔۔

قارئین کرام! نعمان شہیدؒ کے حالات زندگی کے حوالے سے شہید کی والدہ محترمہ کی ایمان افروز تحریر ملاحظہ فرمائیں۔

’’الحمدللہ ہمارا بیٹا نعمان ماشاء اللہ الحمدللہ نعمان شہیدؒ کی شہادت کو اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔۔۔ الحمدللہ میں نے ایک بہادر بیٹے کو جنم دیا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ بزدلی سے بچائے۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہمارے امیر صاحب کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں جان و مال میں اولاد اور جماعت میں برکت عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائیں۔۔۔۔ امیر محترم کی وجہ سے آج مجھے شہید کی ماں بنایا۔۔۔۔ اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔۔۔ نعمان شہیدؒ پانچ سال کی عمر میں اسکول جانے لگا۔۔۔ عصری تعلیم صرف چوتھی کلاس تک حاصل کی اور پھر قرآن حفظ کرنے کا شوق پیدا ہوگیا۔۔۔ گائوں کے مدرسہ میں داخلہ لیا اور پانچ سپارے حفظ کئے۔۔۔ پھر کراچی آکر جامعۃ النور (جماعتی مدرسہ) میں داخلہ لیا اور باقی پچیس پارے جامعۃ النور میں حفظ کرکے حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی۔۔۔۔ تکمیل حفظ کے بعد جامعہ ہٰذا ہی میں درس نظامی میں داخلہ لیا اور اعدادیہ اوّل، دوم اور سوم تک تعلیم حاصل کی۔

درجہ اولیٰ میں تین چار مہینے ہی پڑھا تھا کہ جہاد کا شوق پیدا ہوا۔۔۔ نعمان مجھے کہنے لگا کہ امی! ابو سے کہو میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں۔۔۔۔ نعمان کے والد سے مشاورت ہوئی اور ہم نے اللہ کے دین کیلئے نعمان کو وقف کردیا کیونکہ نعمان کی پیدائش سے پہلے ہم میاں بیوی نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ نے ہمیں اولاد سے نوازا تو اسے اللہ کے دین پر قربان کردینگے۔

تقریباً چھ سات سال نعمان جماعتی تشکیل میں چلتا رہا۔۔۔ آخری مرتبہ گھر آیا شناختی کارڈ بنانے کے لئے۔۔۔ شناختی کارڈ حاصل کرنے کے بعد 15-02-2017 کو واپس چلا گیا۔۔۔ جانے سے پہلے نعمان کے والد صاحب کا فون آیا کہ نعمان کی شادی کرتے ہیں۔۔۔ جب نعمان کو بتایا گیا تو کہنے لگا کہ امی جان! آپ نہیں چاہتی ہیں کہ آپ کی بہو جنت کی حور ہو؟ کہنے لگا میں تو حوروں سے شادی کرونگا۔

نعمان شہیدؒ جب ہم سے رخصت ہوکر جانے لگا تو کہنے لگا کہ یہ میرا گھر آخری چکر تھا ان شاء اللہ اب میں دوبارہ گھر نہیں آئونگا۔

تقریباً 6 ماہ بعد نعمان سے آخری ملاقات کے لئے ہمیں بلایا گیا۔۔۔ ان دنوں نعمان کے والد کی طبیعت خراب تھی اور دوسری طرف نعمان کی ضد تھی کہ آپ اور ابو ضرور آئو۔۔۔ زندگی کا کوئی پتہ نہیں۔۔۔ بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ آپ اور ابو ضرور آنا۔۔۔ میں نے نعمان کے والد سے بات کی تو بیماری کی حالت میں وہ جانے کے لئے تیار ہوگئے۔۔۔

اگلے دن ہم سیالکوٹ نعمان کے پاس پہنچ گئے۔۔۔ دو دن نعمان کے ساتھ رُکے اس مقام پر موجود مجاہدین نے ہماری بہت خدمت کی۔۔۔ میں نے نعمان سے کہا کہ اپنے تمام مجاہد ساتھیوں کے کپڑے مجھے لاکر دو تاکہ میں دھو لوں۔۔۔۔ لیکن انہوں نے انکار کیا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں۔۔ نعمان مجھے اور اپنے ابو کو باغیچے میں لے گیا اور ہمیں کلاشنکوف کے پانچ پانچ فائر کروائے کشمیر کی طرف رخ کرواکر۔۔۔ اور اس طرح الحمدللہ جہاد کے اندر میرا حصہ بھی شامل ہوگیا۔۔۔

ایک مرتبہ مجھ سے کہنے لگا امی جان! میں آج تک آپ کی خدمت نہ کرسکا اور بچپن سے لیکر آج تک آپ لوگوں کے ساتھ بہت کم وقت گزارا ہے مجھے معاف کردینا، اور میری چھوٹی بہن کی شادی ہو تو میری طرف سے ان سے معافی مانگ لینا کہ میں اس کی شادی میں شریک نہیں ہوسکونگا۔۔۔

نعمان شہیدؒ نے ہمیں کبھی بھی جماعت نہ چھوڑنے کی وصیت کی کہ جماعت کبھی بھی مت چھوڑنا اور دوسروں کو بھی جماعت کی دعوت دینا۔۔۔ اور ہمارے امیر محترم کے لئے ہر نماز میں ضرور دعا کرنا۔۔۔ جب ہم واپس آنے لگے تو ریلوے اسٹیشن پر ہمیں چھوڑنے ہمارے ساتھ آیا۔۔۔

اسٹیشن پر میں رونے لگی تو نعمان اپنے والد سے کہنا لگا کہ امی کو سمجھائو کہ نہ روئیں میں تو آپ لوگوں کی مرضی سے جارہا ہوں اور مجھے کہنے لگا کہ امی جان! اب جنت میں ملیں گے ان شاء اللہ۔۔۔۔

ہماری ٹرین روانہ ہوئی اور نعمان ہماری نظروں سے دور ہوتا چلا گیا۔۔۔ اور کچھ ہی دیر میں اپنا جہادی رومال لہراتے ہوئے ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔۔۔۔ ہمارا کراچی تک کا سفر بڑی مشکل سے گزرا۔۔۔۔ ڈیڑھ سال تک نعمان سے ہمارا کوئی رابطہ نہ ہوسکا۔۔۔۔

ایک مرتبہ 12 ربیع الاوّل کی رات مجھے، ابو اور دو بہنوں کو خواب میں آیا اور اگلے دن خبر آگئی کہ نعمان اپنے 3 ساتھیوں سمیت جام شہادت نوش کرگیا۔۔۔ میں ہر وقت نعمان کے لئے شہادت کی دعا مانگتی تھی جو اللہ نے قبول کرلی۔۔۔ اللہ نے میرے دوسرے بیٹے کو بھی اپنے راستے پر لگالیا الحمدللہ۔

کراچی میں ہمارا خاندان صرف جماعت ہی ہے باقی کوئی بھی نہیں۔۔۔ نعمان کی وصیت تھی کہ بہن کا رشتہ صرف جماعت میں کسی مجاہد سے کروانا‘‘  والسلام                             والدہ نعمان شہید رحمہ اللہ

قارئین کرام! آپ نے ایک شہید کی ماں کے تاثرات پڑھ لئے اللہ ہم سب کی مائوں بہنوں کو ایسے جذبات نصیب فرمائیں۔ آمین

آخر میں نعمان شہیدؒ کے مختصر وصیت نامہ اور ایک مختصر تحریر پر اس کالم کا اختتام کرتے ہیں۔

وصیت نامہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘        

میری طرف سے سب گھر والوں کو آخری سلام۔۔۔ میری طرف سے گزارش ہے کہ میری شہادت کے بعد خوب دل لگی سے جماعت کے ساتھ کام کرنا۔۔۔۔ اور اہل و عیال کو بھی اس کی دعوت دینا۔۔۔ اور میرے لئے بھی خصوصی دعا کرنا۔۔

ہمیں دنیا سے کیا مطلب شہادت ہے مشن اپنا

پہاڑوں پر دفن ہونگے برف ہوگی کفن اپنا

یہ کس نے کردیاسب دوستوںسے مجھ کو بیگانہ

مجھے تو اب دوستی بھی دشمنی معلوم ہوتی ہے

خدا کے نام پہ کٹنے کی لذت کیا بتائوں میں

سبھی جنت میں دیکھیں جوانی خوبرو میری

اللہ حافظ

محمد نعمان عرف محمد قاسم

ایک اور مختصر تحریر!

السلام علیکم

اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے مجھے معاف کردینا اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو۔۔۔ یہ میرا گھر کا آخری چکر تھا۔۔۔ اس کے بعد میرا وعدہ ہے کہ ان شاء اللہ کبھی گھر نہیں آئونگا۔۔۔۔ یہ میری آخری ملاقات تھی۔

چلے ہیں کفر سے لڑنے جلا کر کشتیاں ساری

پلٹ کر ان راہوں سے کبھی واپس نہ آئیں گے

٭…٭…٭

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor