Bismillah

686

۱۴تا۲۰رجب المرجب۱۴۴۰ھ  بمطابق ۲۲تا۲۸مارچ۲۰۱۹ء

فلسطین: ایک المیہ (ملاقات ۔ محد فیض اللہ جاوید)

فلسطین: ایک المیہ

ملاقات ۔ محد فیض اللہ جاوید (شمارہ 685)

آج دنیا میں کتنے ہی عالمی ادارے برائے امن قائم ہیں، کتنے ہی ممالک کی مشترکہ افواج قیام برائے امن کے لیے اکٹھی ہوتی ہیں، مگر یہ سب اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب معاملہ ملت کفر کا ہو، ورنہ ملت اسلامیہ کہاں کہاں ظلم تلے روندی جارہی ہے، اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے۔

ایسے ہی خطوں میں ایک فلسطین بھی ہے جو ایمان والوں کے لیے مبارک سرزمین ہے۔ وہاں کا ایک ایک سجدہ بھی مبارک ہے اور ایمان کے لیے دی جانے والی ایک ایک قربانی بھی مبارک ہے۔ اسی مبارک خطے کو اسرائیل کے یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روکنے اور اہل ایمان پر ظلم کی آماجگاہ بنارکھاہے۔ اسرائیلی فوجی کس طرح وہاں کے نہتے اور بے بس اہل ایمان کو ستاتے ہیں، اس کا ایک اندازہ درج ذیل رپورٹ کے اقتباسات سے لگایا جاسکتا ہے۔

’’فلسطین کی غزہ کی پٹی کا علاقہ ہو یا دریائے اردن کا مغربی کنارا ہو، مقبوضہ بیت المقدس ہو یا شمالی یا جنوبی فلسطینی شہر ہوں، ہر جگہ صہیونی درندے فلسطینیوں پر بندوقوں کا استعمال کرتے ہوئے ان کے چہروں کو دانستہ طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ دو ہفتے پیشتر بارہ سالہ محمد النجار کو اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی جنوبی علاقے خان یونس میں ایک ریلی میں شرکت کے دوران نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ ایک آنکھ سے محروم ہو گیا۔ اس کی دائیں آنکھ دیکھنے کے قابل نہیں رہی۔ محمد النجار کاآبائی تعلق خان یونس کے مشرقی قصبے بنی سہیلا سے ہے۔ وہ گذشتہ ایک سال سے جاری غزہ میں حق واپسی مظاہروں میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرتا ہے۔ گیارہ جنوری کو اس وقت دوسری مرتبہ اسے صدمہ پہنچا جب ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اب وہ ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ محمد النجار کو اپنی بینائی کی بحالی کے لیے لینز لگوانے کی ضرورت ہے۔محمد النجار کے ساتھ پیش آنے والے والے واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں۔ اس سے پیشتر ایسا ہی ایک واقعہ رام اللہ کے سعد عمر کے ساتھ بھی پیش آچکاہے۔ جب سعد عمر کو پتا چلا کہ اس کے ہم وطن ایک دوسرے فلسطینی کی آنکھ صہیونی فوج کی بندوق نے چھین لی ہے تو اس نے اسے مکتوب ارسال کیا۔ اپنے اس مکتوب میں اس نے محمد النجار کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ۲۰۱۴ء میں جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کی تو پورے فلسطین میں اس کے خلاف فلسطینی سڑکوں پر اُتر آئے۔ رام اللہ میں بھی فلسطینیوں نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس میں وہ بھی شریک تھا۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر چھروں والی بندوق کا استعمال کیا اور کئی فلسطینیوں کے چہرے زخمی ہو گئے۔ اس نے بتایا کہ رام اللہ کے نواحی علاقے البیرہ کے ایک احتجاجی ریلی کے دوران ایک چوکی کے قریب جمع تھے۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے فائرنگ شروع کر دی گئی۔ قابض اسرائیلی فوج کی گولیوں کی بوچھاڑ سے اس کا چہرہ چھلنی ہو گیا اور ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔‘‘

یہ تو فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے کے ایک نئے حربے کا ذکر ہے کہ کس طرح فلسطینی نوجوانوں کی آنکھوں کی بینائی چھینی جارہی ہے ۔ جب کہ دوسری جانب فلسطینی سرزمین کو ہتھیانے کی بھی نئی نئی سازشیں رچی جاتی ہیں۔ چنانچہ اس رپورٹ میں ’’مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی ریاست کی جاری سازشوں میں ایک نئی اور خطرناک سازچ کا انکشاف کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی ریاست مسجد اقصی کے وسط میں مذہبی اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک عبادت خانے کے قیام کی تیاری کر رہی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق القدس امور کے فلسطینی تجزیہ نگار جمال عمر نے بتایا کہ مسجد اقصی کا باب الرحم اس وقت صہیونی ریاست کے آہنی قبضے میں ہے۔ ہم ایک بڑے سانحے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ سانحہ مسجد اقصی کے وسط میں یہودی عبادت خانے کے قیام کی سازش ہے۔ صہیونی ریاست نے اس عبادت خانے کے لیے باب الرحم ہی کا نام تجویز کیا ہے۔ جمال عمرو کا کہنا تھا کہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں مگر صہیونی ریاست باب الرحم کو نیا باب مغاربہ بنانا چاہتا ہے۔ مسجد اقصی کے اندرونی حصے اور باب الرحم کے باہر ۱۲ ہزار میٹر کا رقبہ قبضے میں لیا گیا ہے۔ اس جگہ سے گزرنے والے کسی بھی فلسطینی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ جمال عمرو کا کہنا تھاکہ صہیونی دشمن نے اپنے ناپاک قدم قبلہ اول کے اندر رکھ دیے ہیں۔ قبلہ اول کی بنیادوں کے اندر کھدائی کی جارہی ہے۔ مسجداقصی کے اطراف میں اب تک ایسے متعدد عبادت خانے بنائے جاچکے ہیں۔‘‘ یہ صورت حال تمام اہل ایمان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

اسی کے ساتھ فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیمیوں کی طرف سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوری ۲۰۱۹ء کے دوران گھر گھر تلاشی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت ۵۰۶ فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اانسانی حقوق کی تنظیموں کلب برائے اسیران، الضمیر فاؤنڈیشن برائے انسانی حقوق اور فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کی گئی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری ۲۰۱۹ء کے دوران اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس سے ۱۰۲ فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔ اس کے بعد رام اللہ سے ۸۸، الخلیل سے ۸۰، بیت لحم سے ۶۲، بابلس سے ۳۰، طولکرم سے ۳۰، قلقیلیہ سے ۲۵، بوباس سے ۸ سفلیت سے ۶ اریجا سے ۱۰ اور غزہ کی پٹی سے ۱۰ فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے بعد جیل میں ڈالا۔ رپورٹ کے مطابق جنوری ۲۰۱۹ء کے دوران صہیونی فوج نے ۸۹ بچوں اور ۸ خواتین کو بھی حراست میں لیا۔ اکتیس جنوری ۲۰۱۹ء کو اسرائیلی زندانوں میں قید ۴۸ خواتین سمیت ۵۷۰۰ فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔‘‘

اسرائیل کی فلسطین دشمنی سے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اسرائیل ہی کی پشت پناہی کررہی ہیں۔ عالم اسلام غفلت اور نااتفاقی کا شکار ہے۔ آخر عالم اسلام کو اس غفلت سے نکلنا ہوگا اور آپس کے اتفاق سے اپنی ملت اور اپنے مقبوضات کے تحفظ کے لیے موثر اقدام کرنے ہوں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online