Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دنیا سے نہیں، موت سے محبت (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

دنیا سے نہیں، موت سے محبت

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 685)

ماضی، حال اور مستقبل آپس میں کچھ اس حد تک مربوط ہوتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کسی قوم کا مستقبل کا اندازہ کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ اس کے ماضی کا بغور مطالعہ کیا جائے۔ قوم میں جو خرابیاں راہ پاجاتی ہیں انہیں دور کرنے کا طریقہ بھی یہی ہے کہ ایام گزشتہ پر نظر دوڑائی جائے اور زمانہ حال سے ان کا مقابلہ کرکے خرابیوں کے ازالے کی کوشش کی جائے، بالکل اسی طرح جیسے کسی مریض کے مرض کی تشخیص اور اس کے علاج کے لئے مرض سے پہلے کے حالات کی اچھی طرح چھان بین کرنی ضروری ہوتی ہے۔

آج بظاہر مسلمانوں پر بھی انحطاط کا دور دورہ ہے۔ جو قوم صدیوں تک بڑی شان سے دنیا کے ایک بڑے خطے پر حکومت کر چکی ہے وہ آج قصر مذلت میں پڑی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم بھی چودہ سو برس پہلے کے واقعات و حالات کا بنظر غائر جائزہ لے کر وہ اسباب ڈھونڈیں جو ہمارے انحطاط کا باعث بنے اور وہ راستے تلاش کریں جن پر گامزن ہوکر ہمیں آج بھی اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت اور قدر و منزلت حاصل ہوسکتی ہے۔

ویسے تو امت مسلمہ کے انحطاط کے اسباب بہت ہیں اور اس موضوع پر سیر حاصل کتابیں کئی کئی جلدوں میں لکھی گئی ہیں، وہ سب اسباب اپنی جگہ لیکن ایک اہم سبب مسلمانوں میں بحیثیت مجموعی ’’دنیا کی محبت‘‘ کی بیماری آ گئی ہے، جسے حدیث شریف میں ’’وہن‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے جس کی مزید تفصیل ’’حب الدنیا وکراہیۃ الموت‘‘ کے الفاظ سے فرمائی اور تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جب تک موت سے پیار اور دنیا سے نفرت کرتے رہے انہوں نے پوری دنیا پر حکمرانی کی اور آج دنیااور سٹیٹس کی محبت کی نحوست کی وجہ سے آہستہ آہستہ ان کا عروج ختم ہوتا گیا۔

 دنیا سے مراد عام ہے دولت وثروت ہو،جاہ و منزلت ہو، شہوت ولذائذ ہوں، راحت وآسائش ہو، بودوباش ہو، غرض معاشرت و معیشت کا کوئی بھی شعبہ  ہو، غیر شعوری طور پر اس کی رغبت ہوتی ہے، اس کے لئے محنت کی جاتی ہے، ان چیزوں کو قرآن و حدیث میں ’’متاعِ دنیا‘‘ کہا گیا ہے اورجب ’’حبِ دنیا‘‘ کا غلبہ ہوتا ہے تواس کے حصول کے لئے عام ذرائع اختیار کئے جاتے ہیں حلال ہوں یا حرام ہوں اور جب یہ حالت ترقی کرجاتی ہے تو پھر اس کے حصول کے لئے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی۔ بے حیائی، بے رحمی، نا انصافی سب آجاتی ہیں اور رفتہ رفتہ طبیعت مسخ ہوجاتی ہے اور حقائق معکوس ہوجاتے ہیں۔ صحیح کو غلط سمجھنے لگتا ہے اور غلط کو صحیح، حق کو باطل اور باطل کو حق اور پھر حق تعالیٰ کا ارشاد صادق آجاتا ہے۔ ’’ فانھا لا تعمی الأبصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور‘‘یعنی سر کی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، دل کی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں، اس لئے حدیث نبویﷺمیں یہ ارشاد ہے کہ ’’حب الدنیا رأس کل خطیئۃ‘‘یعنی دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے، بہرحال ’’حب دنیا‘‘ کا فتنہ اتنا عالمگیر ہوگیا ہے کہ ہر شخص پر کچھ نہ کچھ اثر اس کا پڑتا ہے، الاماشاء اللہ پھر نفس کی ان خواہشات کو شیطان لعین ہوا دیتا ہے، اس کی اہمیت و معقولیت طبیعت میں راسخ کرتا ہے۔ ’’ وزین لھم الشیطان اعمالھم‘‘کہ شیطان ان کے کاموں کو ان کے لئے خوبصورت وآراستہ کرتا ہے اور پھر اس کے لئے شراب نوشی، بد کاری، بے حیائی، عریانی و فحاشی میں انتہائی جاذبیت پیدا ہوجاتی ہے۔

رحمۃ اللعالمین حضرت آقامدنیﷺنے اس ہولناک مرض کی صحیح تشخیص بہت پہلے فرمادی تھی، چنانچہ ارشاد فرمایا:

’’بخدا! مجھے تم پر فقر کا اندیشہ قطعاً نہیں، بلکہ اندیشہ یہ ہے کہ تم پر دنیا پھیلائی جائے گی، جیسا کہ تم سے پہلوں پر پھیلائی گئی پھر تم پہلوں کی طرح ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر اسے حاصل کرنے کی کوشش کروگے، پھر اس نے جیسے ان کو برباد کیا تمہیں بھی برباد کرڈالے۔ (بخاری)

لیجئے! یہ تھا وہ نقطۂ آغاز جس سے انسانیت کا بگاڑ شروع ہوا یعنی دنیا کو نفیس اور قیمتی چیز سمجھنااور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اس پر جھپٹنا۔ پھر آپﷺنے تشخیص پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے لئے ایک جامع نسخۂ شفاء بھی تجویز فرمایا جس کا ایک جزء اعتقادی ہے اور دوسرا عملی۔

اعتقادی جزیہ کہ اس حقیقت کو ہر موقع پر مستحضر رکھا جائے کہ اس دنیا میں ہم چند لمحوں کے مہمان ہیں، یہاں کا آرام وآسائش بھی فانی ہے اور ہر تکلیف و مشقت بھی ختم ہونے والی ہے، یہاں کے لذائذو شہوات آخرت کی بیش بہا نعمتوں اور ابد الآباد کی لازوال راحتوں کے مقابلہ میں کالعدم اور ہیچ ہیں۔ قرآن کریم اس اعتقاد کے لئے سراپا دعوت ہے اور سینکڑوں جگہ اس حقیقت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سورۃ الاعلیٰ میں نہایت بلیغ، مختصر اور جامع الفاظ میں اس پر متنبہ فرمایا۔

’’کلا بل توثرون الحیوۃ الدنیا والآخرۃ خیر وابقیٰ‘‘

کان کھول کر سن لو کہ تم آخرت کو اہمیت نہیں دیتے، بلکہ دنیا کی زندگی کو اس پر ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت دنیا سے بدرجہا بہتر اور لازم ہے۔

اور عملی حصہ اس نسخہ کا یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری میں مشغول ہوا جائے اور بطور پرہیز کے حرام اور مشتبہ چیزوں کو زہر سمجھ کر ان سے کلی پرہیز کیا جائے اور یہاں کے لذائذو شہوات میں انہماک سے کنارہ کشی کی جائے، دنیا کا مال واسباب، زن وفرزند، خویش واقرباء اور قبیلہ وبرادری کے سارے قصے زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت سمجھ کر صرف بقدر ضرورت ہی اختیار کئے جائیں۔ ان میں سے کسی چیز کو بھی دنیا میں عیش و عشرت اور لذت وتنعم کی زندگی گزارنے کے لئے اختیار نہ کیا جائے۔ نہ یہاں کی عیش کو شی کو زندگی کا مقصد اور موضوع بنایا جائے۔ آنحضرتﷺکا ارشاد گرامی ہے۔

’’ایاک والتنعم، فان عباد اللہ لیسوابالمتنعمین‘‘

عیش وتنعم سے پرہیز کرو، کیونکہ اللہ کے بندے عیش پرست نہیں ہوتے۔

تعجب ہے کہ اگر کسی ڈاکٹر کی رائے ہوکہ دودھ، گھی، گوشت، چاول وغیرہ کا استعمال مضر ہے تو اس کے مشورے اور اشارے سے تمام نعمتیں ترک کی جاسکتی ہیں لیکن خاتم النبینﷺکے واضح ارشادات اور وحی آسمانی کے صاف احکام پر ادنیٰ سے ادنیٰ لذت کا ترک کرنا گوارا نہیں۔

صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہؓ کا قصہ مروی ہے کہ کچھ لوگوں پر ان کا گزر ہوا۔ جن کے سامنے بھنا ہوا گوشت رکھا تھا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ کو کھانے کی دعوت دی۔ آپؓ نے انکار کردیا اور فرمایاکہ محمدﷺایسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ جو کی روٹی بھی پیٹ بھر کرنہ کھائی، مہینوں پر مہینے گزرجاتے مگر کاشانۂ نبوت میں نہ رات کو چراغ جلتا نہ دن کو چولہا گرم ہوتا، پانی اور کھجور پر گزر بسر ہوتی وہ بھی کبھی میسر آتیں کبھی نہیں۔ تین تین دن کا فاقہ ہوتا، کمر سیدھی رکھنے کے لئے پیٹ پر پتھر باندھے جاتے اور اسی حالت میں جہاد وقتال کے معرکے ہوتے۔ الغرض زہد وقناعت، فقرو فاقہ بلند ہمتی وجفاکشی اور دنیا کی آسائشوں سے بے رغبتی اور نفرت وبیزاری سیرت طیبہ کا طغرائے امتیاز تھی۔

ظاہر ہے کہ یہ زندگی بالقصد اختیار کی گئی تھی تاکہ آئندہ نسلوں پر خدا کی حجت پوری ہوجائے ورنہ آپﷺچاہتے تو آپﷺکو منجانب اللہ کیا کچھ نہ دیا جاسکتا؟ مگر دنیا کا یہ سازو سامان جس کے لئے ہم مرکھپ رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس قدر حقیر وذلیل ہے کہ وہ اپنے محبوب اور مقرب بندوں کو اس سے آلودہ نہیں کرنا چاہتا، بعض انبیاء علیہم السلام کو عظیم الشان سلطنت بھی دی گئی مگر ان کے زہد وقناعت اور دنیا سے بے رغبتی وبیزاری میں فرق نہیں آیا، ان کے پاس جو کچھ تھا وہ دوسروں کے لئے تھا، اپنے نفس کے لئے کچھ نہ تھا۔

جب تک امت میں حب دنیا کا فتنہ نہ آیا دنیا نے دیکھا کہ امت مسلمہ ہی دنیا میں ترقی یافتہ اور قائد تھی اور جب سے اس فتنے نے امت میں سر اٹھایا رفتہ رفتہ امت مسلمہ انحطاط کا شکار ہو گئی۔ آج بھی اگر ہم نے اپنی کھوئی ہوئی عظمت و رفعت کو پھر سے پانا ہے تو ہمیں ’’دنیا سے محبت نہیں موت سے محبت‘‘ کرنا ہو گی۔ ان شاء اللہ جب مسلمان موت کو زندگی سے زیادہ چاہنے لگیں گے تو ان کے عروج کا زمانہ شروع ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ

اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری اس فتنے ’’حب دنیا‘‘ سے حفاظت فرمائیں۔ آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor