Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

عقیدہ توحید…مسئلہ خلافت (دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم)

عقیدہ توحید…مسئلہ خلافت

دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم (شمارہ 686)

قدرت میں کس کے ہے نظامِ کائنات

کس کے آگے سرنِگوں ہے لشکرِ موت وحیات

کفار مکہ نے کعبۂ مشرفہ کو بت کدہ بنا چھوڑا تھا مگر کہتے تھے ’’مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفیٰ‘‘ ہم ان بتوں کی پوجا اصلاً نہیں کرتے بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کاقرب دِلوائیں گے۔ پھر اپنے تلبیہ میں ایک شریک بے تملیک کی رَٹ لگاتے تھے۔ جب سمندر کی گھمن گھیری میں گِھر جاتے تو ’’دعوا اللہ مخلصین لہ الدین‘‘ اکیلے اللہ کو پکارتے، جب اللہ ان کو نجات دے دیتا، پھر شرک کرنے لگ جاتے۔ ابو جہل کا خوش نصیب بیٹا عکرمہؓ جب فتح مکہ کے موقعہ پر راہِ فرار اِختیار کرکے ساحلِ سمندر پہنچا اور حبشہ جانے کے ارادے سے کشتی میں سوار ہو گیا، تو اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ کشتی طوفان میں پھنس گئی۔ سب نے اپنے اپنے معبودوں کو پکارا۔ کشتی لقمۂ سمندر بننے کو تھی کہ کشتی کے کھیون ہار نے پکار کر کہا ’’آسمانی رب کو پکارو، اب وہی بچا سکتا ہے‘‘ سب لوگ اُسی کو پکارنے لگے۔ سیدنا عکرمہؓ نے کہا، یہی بات تو محمدﷺکہتے ہیں۔ اللہ نے پکار سنی، کشتی کنارے لگنے لگی، مگر سیدنا عکرمہؓ نے اُترنے سے اِنکار کر دیا۔ ملاح سے کہا ’’مجھے واپس لے چلو، مجھے منزل مل گئی ہے‘‘ مگی کیسی جہالت اور کیسی بد نصیبی ہے کہ آج کا حُبِّ رسول اور حُبِّ اَولیاء کا دعویدار کشتی طوفان میں آنے پر آسمانی رب کو نہیں پکارتا۔ کہتا ہے ’’ بہاول حق بیڑا دھک‘‘۔ طنز کرنا قطعاً مقصود نہیں۔ اَصحابِِ رسول رضی اللہ عنہم ہمارے لیے معیارِ عقیدہ و ایمان، مدارِ اعمال ہیں۔ سیدنا عکرمہ نے زمینی معبودوں سے براء ت اختیار فرمائی تو محبوبِ دو عالَمﷺکے قدموں میں حاضری نصیب ہوئی۔ آج بھی یہی آواز آرہی ہے ’’ واِلٰھکم اِلٰہ واحد‘‘ تمہارا معبود تو اکیلا معبود ہے۔ ’’ لا الہ الا ہو‘‘ کوئی معبود ہے ہی نہیں، سوا اس معبود و احد کے۔ الوہیت کی سیج، وحدانیت کی سیج تنہا اُسی کی ہے۔ بقول حضرت صاحبزادہ سید نصیر الدین گولڑوی:

انبیاء، اولیاء، اہل بیت نبی، تابعین وصحابہ

پہ جب آ بنی

گر کے سجدے میں سب نے یہی عرض کی

 تو نہیں تو مشکل کشا کون ہے

کہا ’’ غیر اللہ کی پکار مت کرو‘‘ کہا ’’ یہ تو اس کے اپنے ہیں الا ان اولیاء اللہ…‘‘ کہا بالکل درست باپ اپنا ہے مگر سیج پر صرف میرا حق ہے، بیٹا اپنا ہے مگر سیج صرف میری، دوست یار سب اپنے ہیں مگر میری سیج پر قطعاً میرے سوا کسی کا حق نہیں‘‘ بجا فرمایا، تجھے اپنی سیج پر اتنی غیرت ہے۔ یہ سب رشتے دار، دوست یار، تیرے اپنے ہیں مگر سیج کے معاملے میں سب کو تو غیر سمجھتا ہے۔ اللہ غیرتوں کا خالق ہے۔ اُس نے اپنی غیرت میں اپنی تخلیق میں کسی کو کبھی شریک نہیں بنایا۔ اپنی غیرت کا لاکھواں کروڑواں حصہ بھی اُس نے تجھے نہیں دیا مگر تو اپنی سیج پر کسی یار دوست کو دیکھے، اپنے ہی بھائی، باپ کو دیکھے تو اُسے قتل کر دیتا ہے کہ یہ تیری غیرت کے خلاف ہے، سیج کے معاملے میں کسی کو اپنا نہیں سمجھتا۔ ساری غیرتوں کا خالق رب العالمین اپنی توحید والی سیج پر کسی کو برداشت نہیں کرتا۔ ابدی جہنم کا حکم کر دیتا ہے۔ ارے غیرت کی ایک رَتی پر باپ بھائی دوست یار قتل کردینے والے ذرا سوچ! اپنے باپ کی سیج پر تو اس کے کسی دوست یار کسی عزیز قریب کو برداشت نہیں کرتا۔ تیرا رب سب غیرت مندوں کا خالق ہے۔ عزتوں غیرتوں کا خزانہ اُسی کا ہے، تو دوسرا ’’ اب‘‘ برداشت نہیں کرتا دوسرا ’’رب‘‘ کیونکر برداشت کر لیتا ہے۔ سوچ اور اپنی قبر حشر آخرت کی فکر سے سوچ۔ اعلان ہو چکا ہے’’اے آدم کے بیٹے! دنیا بھر کے گناہ، دنیا بھر کی بُرائیاں تو لے کر آئے اور تو نے میرا شریک کسی کو نہ بنایا ہو تو میں تجھے بخش دوں گا ولا ابالی اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے اور (اے میرے محبوب) آدم کے بیٹے تو اگر دنیا بھر کی نیکیاں لے کر میرے پاس حاضر ہوگا اور تو نے (میری توحید والی سیج کی غیرت نہ کی ہو گی)  کسی کو میرا شریک بنایا ہوگا تو میں تجھے ہرگز نہیں بخشوں گا ولا ابالی اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ انبیاء کے حکموں پر چل، اولیاء کی رہنمائی لے، اہل بیت نبی، تابعین کرام، اور اصحاب رسول خیرا لانام  علیہ و علیہم السلام کو اپنا رہبر ورہنما تسلیم کر اُن سب نے میری توحید کا ڈنکا بجایا ہے۔ اُن سب نے لوگوں کو اللہ سے ملایا۔ قرآن گواہ ہے کہ کسی نبی نے یہ نہیں کہا کہ مجھے سجدے کرو، مجھے معبود بنا لو۔ خاتم المعصومینﷺنے اعلان فرمایا، نہیں بلکہ اللہ کو پکار کر درخواست پیش کی ’’اللہم لا تجعل قبری وثنا یعبد‘‘ اور بار بار اصحابِ کرام کو اکیلے اللہ کو اپنی حاجات پیش کرنے کے طریقے بتائے۔ فرمایا پہلے نبیوں کی قبروں کو ان کی امتیں سجدے کرنے لگیں تم میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنا لینا (اوکماقال علیہ السلام) نبی کی محبت کا تقاضا ان کے حکموں پر چلنا ہے۔ حکموں کی خلاف ورزی کر کے ادب آداب خاک قیمت نہیں رکھتے۔ اللہ کی محبت بھی اس کی طاعت و فرمانبرداری میں ہے اور اس کی غیرت ادنیٰ شرک کو بھی برداشت نہیں کرتی۔ سچی محبت اطاعت کو مستلزم ہے۔

لو کان حبک صادقا لاطعتہ

ان المحب لمن یحب مطیع

اگر تیری محبت سچی ہے تو ان کی اطاعت کر لے۔ بلاشبہ بلا شک وریب محب صادق وہی ہوتا ہے جو سچا فرمانبردار ہوتا ہے۔

٭…٭…٭

ایک آدمی بیل پر سوار جارہا تھا۔ بیل آدمی کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: ’’میں اس کام کے لیے تو پیدا نہیں ہوا، میں تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا ہوا ہوں‘‘

نبی کریمﷺنے فرمایا:

’’میں بھی اس بات پر ایمان لایااور ابوبکرؓ وعمرؓ بھی اس پر ایمان لائے‘‘

ایک اور واقعہ کا ذکر فرمایا کہ بھیڑیے نے ایک بکری کو پکڑ لیا۔ چرواہے نے اس کا پیچھا کر کے بکری چھڑا لی۔ بھیڑیے نے کہا ’’ تونے میرا رزق چھین لیا، اچھا اس دن کیا ہوگا جب اس ریوڑ کا کوئی چرواہا نہیں ہو گا‘‘ نبی مکرمﷺنے ارشاد فرمایا:

’’میں بھی اس بات پر ایمان لایااور ابوبکرؓ وعمرؓ بھی اس پر ایمان لائے‘‘

راوی حضرت ابو سلمہؓ کہتے ہیں جس وقت نبی پاکﷺیہ ارشاد فرما رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ وہاں موجود نہیں تھے۔ (بخاری، ج۱، ص ۳۱۲، ۵۱۲)

غزوۂ احد کے موقع پر تیر انداز صحابہ کی ایک اجتہادی غلطی پر افرا تفری مچ گئی۔ فدایانِ رسول آنحضورﷺکو لے کر ایک پہاڑی چوٹی پر چلے گئے۔ افواہ پھیل گئی کہ نبی مکرمﷺ شہید کردیے گئے۔ سالار لشکر قریش ابو سفیان جو ابھی ایمان نہ لائے تھے انہوں نے آواز لگائی’’ کیا محمد(ﷺ) زندہ ہیں؟‘‘

نبی مکرمﷺنے جواب دینے سے منع فرمایا۔ ابو سفیان دوبارہ پکارے ’’ کیا ابوبکر زندہ ہیں؟‘‘ نبی مکرمﷺنے دوبارہ منع فرمادیا کہ جواب نہ دیا جائے۔ ابو سفیان نے تیسری آواز لگائی ’’ھل فیکم ابن الخطاب‘‘ کیا عمر بن خطاب زندہ ہیں‘‘ نبی مکرمﷺنے جواب دینے سے پھر منع فرما دیا۔ سالار لشکر قریش نے سمجھا، یہ تینوں شہید کر دیے گئے۔ اس نے خوشی سے نعرہ لگایا ’’ اُعْلُ ھُبُلْ! ہبل کی جے! ہبل زندہ باد‘‘ نبی مکرمﷺ نے فرمایا: ’’عمر اب جواب دو!‘‘ عمر گرجا’’اللہ کے دشمن! ہم تینوں زندہ ہیں اور تمہارا ہبل نہیں، اللہ اعلیٰ واجل ہے، اللہ ہی زندہ ، حی وقیوم، اعلیٰ اور صاحب جلال (وجمال وکمال) ہے‘‘ ابو سفیان نے یہ نعرہ سنا تو کہا ’’ لنا عزی ولا عزی لکم‘‘ ابن خطاب نے اپنے محبوب آقاﷺکی مرضی سے جواب دیا ’’ اللہ مولانا ولا مولیٰ لکم ہمارا آقا ومولا، ہمارا محافظ ومددگار، واحد وقہار،واحد وقہار، اللہ ہے۔ تمہارا کوئی آقا ومولا نہیں، کوئی مددگار نہیں۔‘‘ (تاریخ اسلام وسیرۃ النبی)

ایک موقع پر آقا خاتم المعصومینﷺنے ارشاد فرمایا تھا: مجھے نہیں معلوم، میں تم میں کب تک رہوں گا۔ میرے بعد ان دونوں کے پیچھے چلنا‘‘

ابوبکرؓ وعمرؓ کی طرف اشارہ فرما کر آقامدنیﷺوضاحت فرمادی۔(ترمذی، مشکوۃ)

نبی مکرمﷺکو گویا اللہ سے یقین تھا کہ آپ رخصت ہونے والے ہیں اور یہ دونوں حضرات آپ کے بعد آپ کی خلافت کے منصب پر تشریف فرما ہوں گے۔

کہیں دور سے ایک عورت آنحضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی کچھ مسائل پیش کر کے ان کا حل معلوم کیا۔ واپس جانے لگی تو پوچھا’’ یا رسول اللہ! اگر میں دوبارہ حاضر ہوں اور آپ کو نہ پاؤں (یعنی آپ رفیق اعلیٰ کے پاس تشریف لے جا چکے ہوں) تو میں اپنے مسائل واشکلات کس سے حل کراؤں؟‘‘ ارشاد ہوا: ’’ فاتی ابابکر پھر ابو بکر سے مل لینا‘‘ (بخاری، مسلم، ابن حبان)

مرض الوفاۃ میں بہ تاکید ابو بکر صدیقؓ کو اپنے مصلیٰ پر کھڑا کر کے ان سے سترہ نمازوں کی امامت کروائی۔ سیدنا علیؓ اور دوسرے اصحابِ کبار بھی موجود تھے۔ یہ ساری باتیں کیا صدیقؓ و فاروقؓ کی افضلیت و اکملیت کی دلیل نہیں؟ اور کیا ان ساری باتوں کے بعد صدیق اکبرؓ کی بلا فصل خلافت کے بارے میں کوئی شائبہ باقی رہ جاتا ہے؟ اور آج بھی بڑے بڑے اولیاء اللہ کی وفات کے بعد جو شخص ان کے مصلے پر بیٹھتا ہے اسے ہی سجادہ نشین (مصلی پر آکر جانشینی کرنے والا) کہا جاتا ہے۔ علی شیر جلیؓ نے تو واضح طور پر فرما دیا تھا کہ ’’رسول نے انہیں ہمارے دین کی امامت سونپی، ہم نے ان کو اپنی دنیا سونپ دی‘‘ کیا آج کے ’’مؤمن‘‘ کو اس میں شک کی کوئی گنجائش ہے؟

نبی کے بعد سب اصحاب نے قائد تمہیں مانا

عمر بیعت، علی بیعت، خلافت ہو تو ایسی ہو

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online