Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

یوناما کی خاموشی (قلمِ ارقم ۔ سعود عبدالمالک)

یوناما کی خاموشی

قلمِ ارقم ۔ سعود عبدالمالک (شمارہ 689)

کافی غیر حاضری کے بعد آج پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ غیر حاضری کی وجہ کچھ اَسفار تھے، جس میں لکھنے کا وقت نہ مل سکا، اور اگر وقت ملا بھی تو وہ سہولت موجود نہ تھی جس کے ذریعہ بندہ کچھ ای میل کر سکے۔ چلو جی اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔

آپ کے علم میں ہوگا کہ کچھ عرصہ یا یہ کہیں کہ کچھ ماہ قبل بہت زور شور تھا کہ امریکہ افغانستان سے جا رہا ہے اور مذاکرات کا گرما گرم دور تھا اور میڈیا پر ہر طرف یہی خبریں گردش کرتی نظر آ رہی تھیں کہ بس ابھی انخلا ہونے جا رہا ہے لیکن جب سے پاک بھارت حالات کشیدا ہوئے ہیں، تو اس وقت سے مذاکرات کی پیش رفت بھی رُک گئی ہے، بیانات کی حد تک تو بات ہو جاتی ہے لیکن وہ گرم جوشی نظر نہیں آ رہی۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے اِنخلانہیں چاہتا اور وہ اس بات پر اِصرار کر رہا ہے کہ اس کا بیس افغانستان میں قائم رہے اور ان کی امارت اسلامیہ سے بات بن جائے تاکہ وہ اس خطے میں رہے لیکن اس کے بر عکس امارت اسلامیہ کا موقف ہے کہ امریکہ افغانستان سے مکمل اِنخلا کر ے اور افغانستان کو مکمل آزادی دے لیکن امریکہ اپنا معاشی نقصان کرنے کے باوجود بھی اس جنگ سے اب نکلنا نہیں چاہتا، اب اس کا پرانا دوست اور ساتھی اسرائیل جو اس جنگ میں خفیہ طور پر شامل تو تھا لیکن اب وہ کھول کر سامنے آگیا ہے  اب افغانستان میں باقاعدہ طور پر اسرائیلی فوجی تعینات ہوکر فضائی حملے کر کے اَفغان عوام کا خون بہا رہے ہیںاور ان کے ساتھ اب کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھی اپنی حکومت بچانے کے لئے حالیہ دنوں عام شہریوں پر ظلم و جبر کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ آئے روز دشمن کی بمباریوں میں عام آبادیوں، مساجد، مدارس اور اسکولوں کو ایک نئی منصوبہ بندی کے تحت مسلسل تباہ کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران دشمن کے مختلف آپریشنز کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں سیکڑوں خواتین، بچے اور بزرگ شہید ہوئے۔ جانی نقصانات کے ساتھ لوگوں کو بھاری مالی نقصانا ت بھی اٹھانا پڑا۔ ان مظالم  میں سے صرف چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:5 مارچ کو صوبہ لغمان کے ضلع بادیش کے علاقے گروچ میں جارحیت پسندوں کے متعدد ڈرون حملوں کے نتیجے میں 9 شہری شہید ہو گئے۔8 مارچ کو صوبہ ننگرہار کے ضلع حصارک کے علاقے ناصرخیل میں دشمن نے علاقے پر چھاپہ مارا اور بمباری کی۔ جس میں ڈاکٹر نظرگل کے خاندان کے 13  افراد شہید ہوگئے. جس میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اسی دن صوبہ میدان وردگ کے ضلع سیدآباد کے علاقے تنگی درہ کے دو گاوں جوی زرین  اور دولت خیل پر چھاپہ مارا گیا اور بمباری کی گئی. جس سے دونوں گاؤں میں7 افراد شہید ہوگئے۔ حملے میں ایک مسجد، ایک کلینک، جب کہ متعدد گھر  بھی تباہ ہوئے.8 مارچ کو ہی صوبہ غزنی کے ضلع آب بند کے علاقے دوکوہی اور اصغر قلعہ پر ڈسمن نے چھاپہ مارا. ظلم و سربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے کے 8 افراد کو بڑی بے دردی سے شہید کیا گیا. اگلے دن صوبہ پکتیا کے ضلع برمل کے علاقے رخہ میں دشمن کے چھاپے میں 8 شہری شہید ہوگئے.12 مارچ کو دشمن فوج کے ایک وحشیانہ حملے میں  صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے ٹٹنگ میں گھروں کے دروازے توڑ دیے گئے. لوگوں کا قیمتی سامان لوٹنے کے بعد6 افراد کو شہید کر دیا گیا۔ 17 مارچ کو کابل فوج نے خوست کے مرکزی علاقے کے قریب پیرکلی گاؤں میں ایک مدرسے پر چھاپہ مار کر ایک طالب علم کو شہید، جب کہ تین طلبا کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔19مارچ کوصوبہ زابل کے ضلع شہر صفا کے فولاد نامی گاؤں میں کلینک کے ایک ڈاکٹر عبدالحمید کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا گیا. جب کہ اس کے بھائی کو شہید اور گھر کی دو خواتین کو زخمی کر دیا گیا۔ اگلے دن صوبہ پکتیکا کے ضلع چاربران میں وحشی دشمن نے ایک امام مسجد سمیت دو افراد کو شہید کردیا۔22 مارچ کو قندوز مرکز کے قریب تیلاوکہ علاقے میں جارحیت پسندوں نے ایک گھر پر بمباری کی، جس میں ایک ہی خاندان کے 13 افراد شہید ہوگئے۔23 مارچ کو غزنی کے ضلع زنخان کے گاؤں گوگیر اور فقیر پر چھاپہ مارا گیا. گوگیر میں ایک مدرسے اور مسجد کو شہید کرنے کے ساتھ مدرسے کے 6 طلبا کو بھی شہید کر دیا گیا۔ جب کہ گاوں فقیر میں بھی ایک مسجد اور کئی گھروں کو بموں سے اڑا دیا گیا.25 مارچ کو صوبہ ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے شورکی میں جارحیت پسندوں کے ایک ڈرون حملے میں ایک معمر شخص، 3 بچے اور 4 خواتین شہید ہوگئیں اسی دن صوبہ قندوز کے مرکز سے ملحق علاقوں میں دو مختلف ڈرون حملوں میں دو ائمہ مساجد کو شہید کر.دیا گیا. جب کہ کابل کے ضلع سروبی کے علاقے قلعہ کلان میں دشمن کی بماری میں 14 نہتے شہری شہید و زخمی ہو گئے.30 مارچ کو غزنی کے ضلع شلگر  کے علاقے یرگتو میں ملانوح بابا ہائی اسکول پر کابل فوج نے مارٹر توپ کے کئی گولے فائر کیے. جس میں اسکول کے ایک استاد سمیت 4 طلبا شہید ہو گئے۔

کابل میں موجود اقوام متحدہ کا ادارہ ’’یوناما‘‘ ہمیشہ اپنی رپورٹس میں شہریوں کی اَموات کی ذمہ داری طالبان پر ڈال دیتا ہے۔ جب کہ امریکی اور کابل انتظامیہ کے مظالم پر  پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ مذکورہ بالا تمام مظالم انسانی حقوق اور یوناما تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی میں سرزد ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی ان نام نہاد تنظمیوں سمیت یوناما کو چاہیے وہ امریکا اور کابل انتظامیہ کے مظالم پر آنکھیں کھلی رکھیں۔ غیرجانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق دنیا کے سامنے بیان کریں۔ ان مظالم کی بین الاقوامی فورم پر مذمت اور ان کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے آواز اٹھائی جائے۔ امارت اسلامیہ نے ہمیشہ دین اور وطن کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے اپنے مظلوم شہریوں اور اسلامی مقامات کی بے حرمتی کا انتقام لیا ہے۔ مستقبل میں بھی مظلوم افغان عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ان پر ہونے والے مظالم کا حساب لیا جاتا رہے گا ۔ ان شاء اللہ

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor