مولانا میاں محمد جان المعروف بہ غلجو میاں صاحبؒ (۱) (مولانا سید ذبیح اللہ شاہ)

مولانا میاں محمد جان المعروف بہ غلجو میاں صاحبؒ  (۱)

مولانا سید ذبیح اللہ شاہ (شمارہ 689)

وادیٔ پشاور کو اس لحاظ سے ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے کہ یہاں کی مردم خیز سرزمین نے ہر دور میں بڑی بڑی قدآور اور عبقری شخصیات کو جنم دیا ہے۔ یہاں کے باشندگان پر قدرت ہمیشہ مہربان رہی کہ یہ خطہ بے شمار علمی، روحانی اور اصلاحی ہستیوں کا مولد و مسکن رہا ہے، لیکن مرورِ زمانہ کے ساتھ رفتہ رفتہ وہ شخصیات ہمارے ذہنوں سے فراموش ہو رہی ہیں۔ اس لیے اپنے ان بزرگوں کا تذکرہ وقتاً فوقتاً کرتے رہنا ضروری ہے، تاکہ ہماری نسلِ نو اپنے بزرگوں کی حیات و خدمات سے باخبر رہے اور ان کے نقوشِ پا پر چل کر فلاح و کامیابی حاصل کرسکے۔ انہی شخصیات میں سے ایک اہم شخصیت پشاور میں دوردراز کے ایک دیہاتی علاقے سے تعلق رکھنے والے شیخ الحدیث مولانا میاں محمد جان المعروف بہ غلجو میاں صاحب کی ہے، جنہوں نے اپنے علاقے اور قوم و ملّت کے لیے بے شمار دینی اور اصلاحی خدمات سرانجام دیں۔

مولانا میاں محمد جان نے پشاور کے مضافات میں واقع گاؤں غلجی کنڈر خیل متھرا میں میاں احمد اللہ جان کے گھر میں آنکھ کھولی۔ آپ پٹھانوں کے مشہور اور معزز دینی میاں خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا شجرِ نسب چغرمٹی کی مشہور بزرگ شخصیت میاں غلام حسن عرف میاں جی بابا سے جاملتا ہے۔ سلسلہ نسب کچھ یوں ہے: میاں محمد جان بن میاں احمد اللہ جان بن میاں محسن شاہ بن میاں امیر شاہ بن میاں قبول شاہ بن میاں منصور شاہ بن میاں غلام حسن عرف میاں جی بابا۔

آپ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے، اس لیے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی۔ عصری تعلیم تیسری جماعت تک پڑھنے کے بعد دینی علوم کا آغاز اپنے علاقے کے علماء کرام سے کیا، جن میں مولوی محمد شریفؒ کوچیان سے صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں، جبکہ مولانا محمد الیاسؒ فاضلِ دیوبند سے کنزالدقائق، شرح الوقایہ وغیرہ فقہ کی کتابیں پڑھیں۔ فارسی کتب مولانا عمر خطابؒ گاڑہ تاجک اور ایک افغانی عالم المعروف کابل مولوی صاحب سے پڑھیں۔ علاوہ ازیں صوبہ سرحد کے مشہور علماء میں مجاہدِ حریت مولانا عبدالرحیم پوپلزئیؒ اور رجڑ چارسدہ کے قاضی مضیّ الدینؒ (مولانا فصیح الدین عرف صاحبِ حق، فاضلِ دیوبند کے والد گرامی) سے بھی شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ بعد میں ان حضرات کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کا سفر بھی کیا۔

دورہ حدیث شریف کی کتب (صحاح ستّہ) کی تعلیم آپ نے صوبہ سرحد کے عظیم عالم، استاذ العلماء شیخ المشائخ مولانا نصیر الدین غورغشتویؒ سے حاصل کی۔ مولانا غورغشتوی سے آپ کی سند پانچ واسطوں سے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے ملتی ہے۔ سلسلہ حدیث یہ ہے: مولانا میاں محمد جان، مولانا نصیر الدین غورغشتویؒ، مولانا قمر الدین پنجابیؒ، مولانا احمد علی سہارنپوریؒ، شاہ محمد اسحٰق دہلویؒ، شاہ عبدالعزیز دہلویؒ، شاہ ولی اللہ محدّث دہلویؒ الخ۔

بزرگانِ دین کا کہنا ہے کہ علومِ ظاہری کے حصول کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس اور اِصلاحِ باطن پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے، کیونکہ تحصیلِ علم کا اصل مقصد اُس پر عمل کرکے قُربِ خداوندی حاصل کرنا ہے۔ حضرت میاں صاحب نے اپنا روحانی سلسلہ قائم کرنے کے لیے بھی اپنے شیخ مولانا غورغشتویؒ کا انتخاب کیا اور اُن سے بیعت ہوکر تصوف کے مراحل طے کیے اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔

تحصیلِ علوم سے فراغت کے بعد اپنے گاؤں میں امامت کے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ وعظ و نصیحت کے ذریعے اصلاح و ارشاد کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اسی دوران ایک نیک اور مخلص عورت نے مدرسے کے لیے زمین وقف کر دی، جہاں 1942؁ء میں آپ نے اپنے شیخ غورغشتویؒ کے دستِ مبارک سے مدرسے کی بنیاد رکھوائی اور انہوں نے اس کا نام دارالعلوم حمایۃ الاسلام رکھا۔ اس زمانے میں چونکہ مدارس بہت کم ہوتے تھے، دوسری طرف وقف کرنے والی پارسا عورت کے اخلاص اور آپ کی پُرخلوص شبانہ روز کوششوں کی برکت تھی کہ مدرسہ جلد ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوا اور علماء و طلباء کا مرجع بننے لگا۔ مدرسے کا اہتمام آپ نے مولانا شمس الحق شاہی بالا کے سپرد کیا اور خود درس و تدریس میں مشغول ہوگئے۔آپ کے پاس حدیث کی مشہور کتاب بخاری شریف کے علاوہ دیگر کتابوں کی تدریس بھی تھی۔ آپ سے دورۂ حدیث پڑھ کر سندِ فراغت حاصل کرنے والے فضلاء کی تعداد 214 بتائی جاتی ہے، جبکہ دیگر علوم و فنون میں استفادہ کرنے والے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ مشہور تلامذہ میں مولانا حسن گل، مولانا میاں سکندر شاہ قلعہ گئی، مولانا فضل مولیٰ عرف مٹے مولوی صاحب، مولانا عمر خطاب شاہی بالا، مولانا فضل رحیم پٹوار بالا، مولانا صفی اللہ شاہ باچا، مولاناسید ابراہیم بنوری لنڈی کوتل، مولانا خلیل الرحمن میاں خیل، مولانانور رحمان شاہی بالا وغیرہ شامل ہیں۔

تعلیمی اور اصلاحی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ سیاست سے بھی وابستہ رہے۔ سیاسی میدان میں آپ کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے تھا۔

(جاری ہے)