Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اِنفاق فی سبیل اللہ (سنگ میل۔ عبد الحفیظ امیر پوری)

اِنفاق فی سبیل اللہ

سنگ میل ۔  عبد الحفیظ امیر پوری (شمارہ 694)

ماہ رمضان نزولِ قرآن کا مہینہ ہے۔ تقویٰ، پرہیزگاری، ہمدردی، غمگساری، محبت و الفت، خیر خواہی، خدمتِ خلق، راہ خدا میں استقامت، جذبۂ حمیت اور جذبۂ اتحاد، اللہ اور رسولﷺسے بے انتہا لو لگانے کا مہینہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں قرآن نازل ہوا، روزے فرض ہوئے، جنگ بدر پیش آئی ، شبِ قدر رکھی گئی، فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے تینوں عشروں کو مخصوص اہمیت دی گئی، پھر اس ماہ میں زکوۃ، انفاق اور فطرانے کا اہتمام کیا گیا۔ نتیجتاً ماہِ رمضان المبارک کی عبادات کے درجات بہت زیادہ بلند کر دیے گئے۔

ماہِ رمضان المبارک کے مبارک ناموں میں سے ایک نام ’’شہر المواسات‘‘ بھی ہے یعنی غمخواری کا مہینہ۔ قرآن و حدیث میں غور کریں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ غریبوں کی امداد و اعانت ماہِ رمضان کی عبادات میں سے ایک نہایت ہی ضروری عبادت ہے۔ 

حدیث مبارکہ ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آ جاتا تو حضورﷺہر قیدی کو آزاد فرما دیتے تھے اور ہر سائل کو عطا فرما دیتے تھے۔ (مشکوٰۃ)

ایک اور مقام پر رحمتِ عالمﷺانفاق کی طرف رغبت دلاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

’’بے حساب خرچ کرو! اللہ تمہیں بے حساب عطا فرمائے گا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز نہ کرو! ورنہ اللہ تم پر روک لگا دے گا، جتنی استطاعت ہو صدقہ کرو!‘‘ (بخاری و مسلم)

ایک اور مقام پر رحمتِ عالمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اے ابنِ آدم! خرچ کرو تم پر فراخی کی جائے گی۔‘‘ (بخاری و مسلم)

آج ہمارے معاشرے میں جب ا نفاق فی سبیل اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے یا اس کی ترغیب دی جاتی ہے تو عموماً لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ یہ مالداروں پر ضروری ہے، غریب افراد اس سے مستثنیٰ ہیں، حالانکہ اس لفظ میں غریب وامیر سب شامل ہیں۔ یہ سوچ غلط ہے کہ ہم مال نہیں رکھتے تو انفاق کیسے کریں ؟ حالانکہ شریعت کا مطلوب یہ ہے کہ ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق انفاق کرے اور اس کار خیر میں حصہ لے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقدار نہیں بلکہ اخلاص دیکھا جاتا ہے۔ اخلاص کے ساتھ دیا ہوا معمولی مال بڑی بڑی رقموں پر فضیلت رکھ سکتا ہے۔

آپﷺنے فرمایا: ’’اتقوا النار و لو بشق التمر۔‘‘ جہنم کی آگ سے بچو! خواہ ایک کھجور کے آدھے حصے کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اگرانسان کے پاس مال و دولت نہ ہو تو وہ اگر اخلاص کے ساتھ کھجور کے آدھے حصے کا بھی انفاق کرتا ہے تو اللہ کی نظر میں اس کی بہت اہمیت ہے۔

دنیا کا عام قائدہ ہے کہ جو چیز خرچ کرو اس میں کمی واقع ہوتی ہے لیکن انفاق کا معاملہ اس کے بالکل برخلاف ہے اس کو خرچ کرنے سے اس میں زیادتی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا نعم البدل خرچ کرنے والے کو فراہم کرتا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’جو چیز بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کروگے اللہ اس کا عوض دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ (سبا: ۹۳)

سخاوت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے رسولِ اعظمﷺنے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’سخی اللہ سے قریب، جنت سے قریب اور لوگوں سے قریب ہے اور دوزخ سے دور ہے جب کہ بخیل اللہ سے دور، جنت سے دور اور لوگوں سے دور ہے اور سخی جاہل اللہ کو عابد بخیل سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ (ترمذی)

عہد اول میں نبیﷺنے صحابہ کرام کے اندر اس جذبے کو خوب ابھارا، چنانچہ سیرت کا مطالعہ کریں تو جگہ جگہ اس کی نمایاں مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو انفاق کا حکم دیا۔ میرے پاس اس وقت کافی مال موجود تھا، میں نے دل میں سوچا کہ آج تو ابوبکرؓ سے بازی لے ہی جاؤں گا۔ چنانچہ اسی غرض سے اپنے مال کا آدھا حصہ لاکر حضورﷺکی خدمت میں پیش کر دیا۔

آپﷺنے دریافت کیا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے میں نے جواب دیا کہ اسی کے مثل ان کے لیے بھی ہے۔

اسی اثنا میں ابوبکرؓاپنے تمام مال کے ساتھ تشریف لے آئے آپﷺنے یہی سوال ان سے بھی دہرایا تو انھوں نے جواب دیا کہ ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔اس پر میں نے کہا کہ اب میں کبھی ابوبکر سے سبقت نہیں لے جا سکتا۔ (ترمذی، ابو داؤد)

غزوہ تبوک ہی کا واقعہ ہے کہ آپﷺلوگوں کو زیادہ سے زیادہ انفاق کرنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا:

اے اللہ کے رسولﷺمیں اللہ کی راہ میں سو اونٹ فراہم کروں گا۔

آپﷺنے دوبارہ ترغیب دی تو پھر حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور فرمایا:

اے اللہ کے رسولﷺ! میں دو سو اونٹ فی سبیل اللہ دوں گا۔

پھر تیسری مرتبہ آپﷺنے ترغیب دی تو پھر حضرت عثمانؓکھڑے ہوئے اور بولے:

اے اللہ کے رسولﷺ! میں تین سو اونٹ راہ خدا میں دوں گا۔

راوی حدیث حضرت عبد الرحمان کہتے ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہﷺکو دیکھا کہ آپﷺمنبر سے اترتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اس کے بعد عثمان کچھ بھی کریں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ (یعنی اب اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ اس عظیم خدمت کے عوض ان کو معاف کردے گا)۔ (ترمذی)

سورہ الحدید کی گیارہویں آیت ’’من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضاعفہ لہ‘‘ جب نازل ہوئی تو حضرت ابو الدحداح انصاری نے دریافت فرمایا، اے رسول اللہ! کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟  آپﷺنے جواب دیا، ہاں ابو الدحداح۔ انھوں نے کہا، آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجیے۔ آپﷺنے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ انہوں نے آپﷺکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا:

’’میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا‘‘

حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ’’اس باغ میں چھ سو درخت تھے اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے رہتے تھے اور ان کا گھر بھی اسی میں تھا۔

 آپﷺکے پاس سے جب وہ لوٹے تو باغ کے باہر ہی سے آواز دی، اے دحداح کی ماں! باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔ وہ بولیں، دحداح کے باپ! تم نے نفع کا سودا کیا۔ پھر اسی وقت اس باغ کو چھوڑ دیا۔‘‘ (مشکواۃ)

مذکورہ بالا واقعات ہماری تاریخ کے سنہری اوراق پر نقش ہیں۔ ان واقعات کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت اہل ایمان میں انفاق فی سبیل اللہ کی کیا اہمیت تھی۔ ان کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ کوئی بھی حکم نازل ہوتا، اس کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے تیار رہتے اور اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، کیا آج امت مسلمہ کے افراد اس کردار کو ادا کرنے کے لیے تیار ہیں…؟

قرآن وحدیث میں انفاق کے ساتھ ’’فی سبیل اللہ‘‘ کا لفظ آتا ہے۔ جس سے مراد حضرات علماء کرام کے نزدیک ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ ویسے بھی زکواۃ کے مصارف میں سے حضرات علماء کرام کے نزدیک سب سے زیادہ مہتم بالشان مصرف ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے ویسے تو اور بھی بہت سے مصرف ہیں لیکن سب سے افضل اور اولین مصرف راہِ جہاد ہے۔

 جہاد افضل اور اولین مصرف کیسے ہے؟ وہ اس طرح کہ صرف ایک یہی مصرف ہے جس کے لئے حضور پر نور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے عمومی چندہ کیا اور اس کی باقاعدہ آپ علیہ السلام صحابہ کرام کو ترغیب دیتے تھے۔ جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ باقی کسی خیر کے مصرف کے لیے حضور اکرمﷺنے عمومی ترغیبات تو دی ہیں لیکن اجتماعی طور پر اعلانیہ اور باقاعدہ عمومی چندہ جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کسی مصرف کے لیے نہیں فرمایا۔

اللہ عز اسمہ کی بارگاہ عالی میں التجاء ہے اللہ رب العزت ہمیں مال، جان، وقت ہر طرح کی قربانی اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ہمہ وقت پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor