Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کم زری باعث عار نہیں (۱) (دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم)

کم زری باعث عار نہیں (۱)

دامن تھام صحابہ کا۔ پروفیسر حمزہ نعیم (شمارہ 694)

سورۃ البقرۃ،آیت ۲۱۲ میں دو فریقوں کا ذکر ہے۔ کفار کیلیے دنیا کی وسعتیں ہر طرح کی عیش وعشرت موجود ہے اور ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اللہ نے جب سے دنیا کو پیدا فرمایا (یعنی اس کی رونق اور مال ودولت کو) اس کی طرف رَحمت کی نظر سے نہیں دیکھا۔ یہاں فرمایا کافروں کے لیے دُنیوی حیات مزین کر دی گئی۔ بہ صیغہ مجہول ذکر فرمایا حالانکہ فاعل مطلق تو اللہ ہے مگر اللہ کو یہاں اپنا فاعل ہونے کا ذکر فرمانا بھی اچھا نہ لگا۔ فرمایا پھر یہ دُنیا دار ناشکرے لوگ اہل ایمان کی تنگیٔ معیشت کی وجہ سے اُن کی ہنسی اُڑاتے ہیں۔ انہیں اِیمان کی قدر معلوم نہیں، انہیں علمِ الٰہی کی قیمت معلوم نہیں۔ صحابی جلیل سیدنا علیؓ نے اسی پر فرمایا تھا:

رَضِیْنَا قِسْمَۃَ الْجَبَّارِ فِیْنَا

لَنَا عِلْمٌ وَ لِلْجُہَّالِ مَالُ

فَاِنَّ الْمَالَ یَفْنٰی عَنْ قَرِیْبٍ

وَ اِنَّ الْعِلْمَ لَیْسَ لَہُ زَوَالُ

(ہم اللہ کی اس تقسیم پر راضی ہیں کہ اُس نے ہمارے لیے علم کی دولت اور جاہلوں کے لیے مال رکھ دیا کیونکہ مال تو بہت جلد فنا ہو جائے گا اور علم کی دولت ایسی ہے کہ اسے کبھی زوال نہ آئے گا)

فرمایا ان کو دنیا تو مل گئی لیکن علم وایمان نہ ملا۔ اہل ایمان کی اکثریت کم زَر ہے مگر دولتِ ایمان میں ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہی ہے کہ ایمان کے بعد تقویٰ کے درجات مل رہے ہیں۔ وہ کسبِ حلال کے ساتھ ذکرِ الٰہی میں بھی لگتے ہیں۔ ہر قدم اُٹھانے سے پہلے اس کی درست سمت معلوم کرتے ہیں۔ ہر طرح کا مال اکٹھا نہیں کرتے۔ سود، رشوت، غبن، چوری، ڈاکہ، بغیر طیبِ خاطر کسی کا مال لینا، اللہ کے طے شدہ حصۂ میراث سے زیادہ نہ لینا، بہنوں، بیٹیوں، کمزوروں کا حق نہ چھیننا، سرکاری عہدہ، ملازمت کی صورت میں ملکی وَسائل واَموال نہ لوٹنا، سرکاری کاموں کی اَنجام دہی میں کمیشن کا ایک پیسہ نہ لینا… یہ سب اگرچہ فرائض و واجبات ہیں مگر یہی تقویٰ کی سیڑھیاں ہیں۔

ماں کے گھر بیٹھو تو تحفے ہدیے نہیں ملتے

ایک صحابی کو خود سرکارِ مدینہﷺ نے اَموالِ زکوۃ وصدقات کی وصولی کے لیے بھیجا تھا۔ کسی مسلمان نے اُن کو از خود تحفہ کے طور پر کچھ مال دے دیا۔ اُس نے خدمت نبوی میں دُوسری کارگزاری سنا کر یہ مال بھی رَکھ دیا اور رپورٹ عرض کی دی۔ اِرشاد نبوی ہوا ’’ اگر تو اپنی ماں کے گھر بیٹھا رہتا تو کیا پھر بھی تجھے یہ مال دیا جاتا‘‘ یہ فرما کر وہ مال بیت المال میں داخل کرنے کا حکم فرما دیا۔ ارے صاحبِ ایمان! ایمان اور تقویٰ کی تو یہ شان ہے۔ اگر تو تقویٰ اختیار کرے گا تو بحکم الٰہی تجھے اللہ وہاں سے روزی عطا فرمائے گا جہاں سے تجھے گمان بھی نہ ہوگا۔ اور مسلمان کے لیے تو جیسا کہ حضرت علیؓ کا فرمان ذکر ہوا دُنیا کی عیاشیاں ہیں ہی نہیں۔ ہاں کھلی روزی اور نصابِ زکوۃ کا مال مل جائے تو زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ اہل حق تک پہنچائے۔ اس کے مصارف قرآن مجید میں ہی طے شدہ ہیں۔ زکوۃ دیتے ہوئے اگر اس کی مقدار سے زیادہ بھی دے دیں تو اللہ قدر دان ہے اور کسی بھی علاقے میں اللہ نے جتنی زکوٰۃ رکھی ہے اگر وہ سو فی صد اہل حقوق تک پہنچ جائے تو یقیناً کوئی مسکین بھوکا نہ سوئے گا کیونکہ اللہ کے عدل کا تقاضا یہی ہے کہ کسی جگہ جتنی غربت ہے زکوٰۃ اُتنی ہی ہونی ضروری ہے۔ لیکن زکوٰۃ ہی پر محدود کیوں؟ آپ عبدالرحمن بن عوف اور عثمان غنی کی پیروی کیوں نہ کریں کہ موقع بموقع غریب اَقربا اور غیر اَقربا کو مدد خود پہنچائیں، اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً صدقات وخیرات کھلے اور چھپا کر دیتے رہیں۔ یہ آپکا کوئی احسان نہیں بلکہ اللہ کے احسان کا اظہار اور اس کا بدلہ ہے۔ پھر آپ دینی ملی اور قومی ضرورتوں کے لیے عثمان غنی کی طرح درہم ودینار پیش کیا کریں یا فاروق اعظم کی طرح نصف گھر یا صدیق اکبر کی اِتباع میں ملی ضرورتوں پر سارے کا سارا مملوکہ مال اللہ کے نام پر، اہل ایمان پر قربان کر دیں۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ دن کو جو آئے رات تک وہ گھر میں نہ رہے۔ بُوذری خزانہ تو یہ ہے۔

جاری ہے

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor