Bismillah

591

۳۰رجب تا۶شعبان ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۸اپریل تا۴مئی۲۰۱۷ء

شامی مہاجرین کی کفالت، تُرکی اور عالم اسلام (اداریہ)

شامی مہاجرین کی کفالت، تُرکی اور عالم اسلام

اداریہ (شمارہ 576)

شام میں انسانی بحران کس حد تک سنگین ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔شامی مہاجرین کی تعداد افغان مہاجرین سے بھی تجاوز کرچکی ہے اور اب تک شامی مہاجرین کی کفالت کرنے والے ممالک میں ترکی سب سے آگے ہے ۔اعداد وشمار کے مطابق ترکی اس وقت گزشتہ پانچ سالوں سے اڑھائی ملین شامیوں کی امداد کررہا ہے اور یوں ترکی اس وقت تمام اسلامی ممالک کو پیچھے چھوڑ کر مہاجرین کو پناہ دینے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔

غاصب بشار الاسد حکومت کے مظالم کا شکار شہری مسلسل اپنی جانیں بچانے کیلئے ہجرت کر رہے ہیں لیکن اس دوران بھی انہیں تحفظ حاصل نہیں ہے۔ امن کی تلاش میں سرگرداں شامی مہاجرین اپنے ملک سے نکلنے کیلئے ہر طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر شام کی انسانیت سے عاری فوج کے اہلکار ہجرت کی کوشش پر اپنے ہی ہم وطنوں کو گولیوں سے بھوننے سے باز نہیں آتے۔شہروں کے شہر اور بستیوں کی بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔اس ملک کی نصف کے قریب آبادی عرب اور دوسرے ممالک میں ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہے لیکن عصر حاضر کے فرعون بشار الاسد کی اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش ابھی تک پوری نہیں ہوئی اور شامی شہریوں پر مظالم کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

عالم اسلام کیلئے اب ضروری ہے کہ وہ نہ اہل شام کا آگے بڑھ کر ہاتھ تھامے اور انہیں دربدر ہونے سے بچائے بلکہ اس سلسلے میں ترکی جو تنہا بوجھ اٹھا رہا ہے ، اس کا بھی بھرپور تعاون کیا جائے اور اسے عالمی طاقتوں کی طرف سے جس طرح تنہاکرنے کی کوشش کی جارہی ہیں انہیں ناکام بناتے ہوئے ترکی کو مضبوط کرنے میں اس کا ساتھ دیا جائے۔ پھر نہایت افسوس تو اس پر بھی ہے کہ اس سلسلے میں سعوردی عرب ، اردن اور قطر جیسے بڑے ممالک نے درجن بھر اعلانات کئے، اور قطر نے توشامی مہاجرین کے نام پر ریکارڈ سطح کی امداد بھی جمع کی مگر وہ کثیر تعداد میں شامی مہاجرین کے لئے اکٹھی کئی گئی رقم ابھی تک شامی مہاجرین کے دکھوں کا کچھ مداوا نہیں کرپارہی اور نہ ہی اس کے امداد ی رقم کو ترکی مدد سے شامی مہاجرین پر خرچ کیاجارہا ہے جس کی وجہ سے سارا بوجھ تنہا ترکی پر جاپڑا ہے مگر ترک قوم نہایت ہمت اور اخوت کے جذبے کے ساتھ ان کی میزبانی میں لگے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان مہاجرین کو مہاجرین کا لقب دینے کے بجائے مہمانوں کا لقب دیا ہے اور اسی لقب سے انہیں یاد کیا جاتا ہے جو شامی مہاجرین کی عزت نفس بحال رکھنے اور اسلامی اخوت کی اعلی اقدار کا نمونہ بن گیا ہے۔

اس موقع پر ضرورت ہے کہ سعودی عرب ،قطروغیرہ اور دیگر اسلامی ممالک سیاسی مفادات کی وجہ سے ترکی اور شامی مہاجرین کو تنہا نہ چھوڑیں ورنہ یہ بات ان ممالک کے لیے بہت بڑی عار ہوگی اوران ممالک کاعزت اور احترام بھی خطرے میں پڑنے کی وجہ سے نقصان دہ ہوگا۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online