Bismillah

603

۴تا۱۰ذیقعدہ ۱۴۳۸ھ        بمطابق      ۲۸جولائی تا ۳ اگست ۲۰۱۷ء

ایرانی فتنہ سازی کی تاریخ (سنگ میل ۔ عبدالحفیظ امیرپوری)

ایرانی فتنہ سازی کی تاریخ

سنگ میل ۔  عبدالحفیظ امیرپوری (شمارہ 576)

ایرانی ریاست کی بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی، دن بہ دن عریاں ہوتی ہوئی خونخوار مہم جوئیاں اور پاکستانی مفادات و سالمیت کے خلاف بھارت اور افغانستان سے اشتراکی منصوبہ بندیاں، خطے کی تھانہ داری کیلئے عالم اسلام کی خلاف عسکری مہم جوئیاں، عراق اور شام میں نہتے مسلمانوں کا سفاکانہ قتل عام، یہ سب ایرانی فتنہ سازی کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ بات ریکارڈ پر ہیکہ نام نہاد برادر اسلامی ملک ایران نے  پاک بھارت جنگ کے دوران کڑے وقت میں پاکستان کو تیل کی سپلائی روک کر بھارت دوستی کا حق ادا کیا تھا۔ ان حقائق کو جھٹلانا بھی ممکن نہیں کہ بلوچستان میں پاکستان کی سالمیت کے خلاف سرگرم باغیوں کو ایران کی بھی بھرپور مدد حاصل ہے۔ پاکستانی سرزمین پر برستے راکٹوں، سرحدی چوکیوں پر حملوں، پاکستانی جوانوں کی شہادتوں سے یہی گمان ہوتا ہے کہ سرحد کے اس پار سے ایرانی نہیں بھارتی فوج حملہ آور ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت، سامراجی کٹھ پتلی افغانستان اور امریکی شعبدہ بازی کے ماہر ایران کی طرف سے پاکستانی بندرگاہ گوادر کے مقابلے میں چاہ بہار کی بندرگاہ کے مشترکہ پراجیکٹ کے اعلان سے ایران کی نام نہاد اسلامی انقلابیت، اسلام دوستی اور جذبۂ ہمسائیگی کا اصل چہرہ پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔

ایرانی ریاست کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہر دور میں یہ اسلام کش اقدامات میں پیش پیش رہی ہے گویا سرزمینِ ایران سے عالم اسلام کے خلاف خوفناک سازشوں کی روایات نئی نہیں بلکہ یہ سلسلے غیر مسلم ایران ریاستوں کے ادوار سے جاری ہیں۔ سب سے پہلا قابل ذکر باب ایران کی عظیم غیر مسلم سلطنت کسریٰ کا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاہ خسرو پرویز کو دعوتِ حق کا خط پہنچا تو س بد بخت نے آپﷺکانامہ مبارک پھاڑدیا۔ آپﷺنے پیشین گوئی فرمائی کہ، جس طرح اس خسرو نے میرے خط کو پرزے پرزے کیا ہے، اللہ اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ۔ اس پیشین گوئی کے مطابق وہ پہلے عربوں اور پھر رومی فوجوں کے ہاتھوں شکست کھا کر بھاگتے ہوئے گرفتار ہوا، تو اس کے اٹھارہ بیٹوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا اور پھر اپنے ہی بیٹے شیرویہ کی قید میں اس کے ہاتھوں قتل ہو کر انجام عبرت کو پہنچا۔

اسی طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قاتل ابو لولو فیروز، مسلم فتوحات سے خائف ایرانی عناصر ہی کا پروردہ تھا اور آج بھی اس کا مزار ایران میں ہے۔ مصر میں عالم اسلام کے خلاف عیسائیت کے اتحادی بننے اور پھر بنا کسی مزاحمت بیت المقدس کو صلیبیوں کے حوالے کرنے والے فاطمی حکمران بھی ایرانی فتنہ گروں کے زیر اثر تھے۔ صلیبی لشکر کی مدد کرنے والا احمد بن عطا بھی ایرانی کٹھ پتلی تھا۔ حتیٰ کہ فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے قتل کا منصوبہ بنانے والا کنز الدولہ بھی ایرانی النسل ہی تھا۔

سقوط بغداد میں عباسیوں کے خلاف سازش کا مرکزی کردار، ہلاکو خان کو بغداد پر حملے کیلئے خطوط لکھنے والا غدار ابو العلقمی بھی ایران سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا وہ ساتھی خواجہ نصیر الدین طوسی بھی ایرانی تھا، جسے ہلاکو نے غداری کے صلے میں انعام و اکرام سے نواز کر اپنے محکمہ اوقاف کا امین بنایا تھا۔ بغداد میں وحشیانہ قتل عام کرنے والے تاتاریوں کو خوش آمدید کہنے والے تمام عناصر ایرانی تھے۔ اسی طرح شام میں ہلاکو کا استقبال کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی بھی ایرانی تھا۔ بیس ہزار حاجیوں کو قتل کر کے لوٹنے اور حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرامطی بھی ایرانی حمایت یافتہ تھا اورکعبۃ اللہ پر قبضہ کرنے والے دہشت گرد بھی ایران سے تعلق رکھتے تھے۔ نبوت، مہدیت اور خدائی کا دعوی کرنے والا مرتد محمد علی باب اور اس کا کفر پھیلانے کیلئے جان دینے والی شاعرہ قراۃ العین طاہرہ کا تعلق بھی ایران سے تھا۔ جبکہ نبوت کا ایک اور کاذب دعویدار مرزا غلام قادیانی بھی ایرانی النسل ہونے کا دعویدارتھا۔

عالم اسلام کے سرکردہ افراد کے قتل کرنے کے لیے قائم کی گئی خفیہ تنظیم حشاشین کا بانی حسن بن صباح بھی ایرانی تھا۔ یہ خوفناک تحریک اتنی فعال و منظم تھی کہ قریب کے طاقت ور حکمران بھی اس کی فتنہ گری سے خوف زدہ  تھے۔

پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں گستاخِ صحابہ و ام المؤمین، مختلف فتنوں، سیکولر صحافیوں، مذہب مخالف لکھاریوں ہی نہیں بلکہ توہین قرآن و رسالت اور گستاخیٔ اہل بیت کے مرتکب غیر مسلم قادیانی طبقات کو بھی ایرانی اداروں کی سرپرستی حاصل ہے۔

موجودہ دور میں سب سے قابل مذمت 1987ء کی وہ مسلح دہشت گردی ہے۔ جس میں ایرانی مسلح افراد  نے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا مگر سعودی فورسز نے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے تعاون سے یہ مذموم کوشش بھی ناکام بنا دی۔ اس واقعہ میں چار سو افراد شہید ہوئے تھے۔ ان دہشت گردوں کے سرغنہ محمد حسن علی محمدی نے اعتراف کیا تھا کہ انہیں خانہ کعبہ کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دینے کا مشن سونپا گیا تھا۔

یمن سے کعبۃ اللہ کی طرف پیش قدمی کے دعوے اور سعودی سرحدوں پر خون ریزی کرنے والے حوثی قبائل کو ایران کی عسکری مدد حاصل ہے۔ عراق میں امریکیوں کو خوش آمدید کہنے والے سیستانی اور حکیم بھی ایرانی ہیں۔ لاشوں میں پٹرول بھر کر  ڈیتھ ڈانس کروانے والے ہزارہ قبائل کے بابا مزاری جیسے وحشی کو اسلحہ کی فراہمی اور امریکہ اور نیٹو قبضہ کو خوش آئند قرار دینے والے بھی ایرانی حکمران تھے۔ شام میں امریکہ اور کیمیائی ہتھیار برسانے والے بشار الاسد سے مل کر لاکھوں مسلم کے قاتل بنے عراقی حکمرانوں کو بھی ایران کی اعلانیہ  مدد حاصل ہے ۔ برما کے مسلمانوں کے قتل پر بدھ قاتلوں کی حمایت کا اعلان کرنے والا واحد اسلامی ملک بھی ایران ہے۔

دجال کے خروج اور اس کے حواریوں کے بارے مصدقہ احادیث کے مطابق دجال کا خروج ایرانی شہر اصفہان سے ہوگا اور ستر ہزار اصفہانی یہودی اس کے ہمراہ ہوں گے۔ بڑی با معنی حقیقت ہے کہ ایرانی حکومت نے عراق، ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے ایرانی یہودیوں کی قومی خدمات کے اعتراف میں ان شہیدوں کی یاد گار تعمیر کی ہے۔ ایرانی یہودی برادری کے صدر ہمایوں نجف آبادی کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ جو شخص بھی اس یادگار کو دیکھے گا، وہ ان شہید یہودیوں کی ایران کیلئے دی گئی قربانیوں کو ضرور یاد کرے گا۔

کیا اول تا آخر ان تمام ناقابل تردید تاریخی حقائق اور خطے میں جاری تازہ بہ تازہ ایرانی مہم جوئیوں سے عقل انسانی، کسی طور بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار ہے کہ ایران واقعی امریکہ اور یہودیوں کا مخالف یا عالم اسلام اور پاکستان کا دوست ہے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online